الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب الأمر بالشفعة
شفعہ کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 6220
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ فَلَا يَبِيعُهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی کوئی زمین یا کھجوریں ہوں، تو وہ ان کو اس وقت تک فروخت نہ کرے، جب تک کہ اپنے شریک پر پیش نہ کر دے۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6220]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه مسلم: 1608، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14292 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14343»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6221
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ مُزَارَعَةٌ فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَهَا فَلْيَعْرِضْهَا عَلَى صَاحِبِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا بِالثَّمَنِ
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی اور اس کے بھائی کے مابین مزارعت میں شراکت ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ فروخت کرنا چاہتا ہو تو وہ پہلے اسے اپنے شریک پر پیش کرے کیونکہ وہ اس کو قیمت کے ساتھ لینے کا زیادہ حق دار ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6221]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15161»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6222
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ شَرِيكًا فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی کسی کے گھر میں یا کھجور میں شریک ہو تو اس کے لئےیہ جائز نہیں ہے کہ وہ شریک کو بتلائے بغیر اپنے حصے کو فروخت کر دے، (اسے چاہیے کہ وہ پہلے اپنے شریک کو بتائے)، اگر وہ پسند کرے تو لے لے اور اگر ناپسند کرے تو چھوڑ دے۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6222]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1608، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14391»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر شریک اپنا حصہ فروخت کرنا چاہے تو اس کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اس کو دوسرے ایکیا ایک سے زائد حصہ داروں پر پیش کرے، اگر وہ خریدنا چاہیں تو وہی سب سے زیادہ مستحق ہوں گے اور اگر وہ نہ لینا چاہیں تو پھر وہ اپنے حصے کو کسیکے ہاتھ پر فروخت کر سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ فِي أَيِّ شَيْءٍ تَكُونُ الشُّفْعَةُ وَلِمَنْ تَكُونُ
اس چیز کا بیان کہ کس چیز میں اور کس کے لیے شفعہ کا حق ہے
حدیث نمبر: 6223
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ بَاعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ساجھی چیز میں شفعہ ہے، وہ گھر ہو یا باغ، ایک شریک کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایسی چیز کو فروخت کر دے، یہاں تک کہ وہ اپنے شریک کو اس سے آگاہ کرے، اگر وہ شریک کو بتلائے بغیر فروخت کر دیتا ہے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا، یہاں تک کہ وہ اس کو خبر دے دے۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6223]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1608، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)14403 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14456»
وضاحت: فوائد: … ایک روایت میں ہے: قَضَی النَّبِیُّV بِالشُّفْعَۃِ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے۔ (ابوداود: ۳۵۱۳، ترمذی: ۱۳۷۰)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6224
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ بَيْنَ الشُّرَكَاءِ فِي الْأَرَضِينَ وَالدُّورِ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمینوں اور گھروں میں شرکاء کے درمیان حق شفعہ کا فیصلہ دیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6224]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6225
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَيْرِهِ
۔ سیدنا سمرہ بن جناب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھر کا ہمسایہ دوسروں کی بہ نسبت گھر خریدنے کا زیادہ حقدار ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6225]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3517، والترمذي: 1368، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20088 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20348»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6226
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَةِ جَارِهِ يُنْتَظَرُ بِهَا وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِنْ كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمسایہ اپنے ہمسائے کے شفعہ (فروخت کیے جانے والے حصہ) کازیادہ حقدار ہے، اگر وہ غائب ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا، لیکن یہ زیادہ حق اس وقت ہو گا، جب ان کا راستہ ایک ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6226]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3518، وابن ماجه: 2494، والترمذي: 1369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14253 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14303»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6227
عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَيْرِهِ
۔ سیدنا شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھر کا پڑوسی دوسروں کے بہ نسبت اس گھر کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6227]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2496، والنسائي: 7/ 320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19688»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6228
عَنِ الْحَكَمِ عَمَّنْ سَمِعَ عَلِيًّا وَابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْجِوَارِ
۔ سیدنا علی اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑوس کے حق کی بنا پر فیصلہ کیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6228]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 923»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6229
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شِرْكٌ وَلَا قَسْمٌ إِلَّا الْجِوَارَ قَالَ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ
۔ سیدنا شرید بن سوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! ایک زمین ہے، اس میں نہ تو کسی کی شراکت ہے اور نہ کسی کا کوئی حصہ ہے، البتہ صرف ہمسایہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ حق رکھتا ہے، وہ چیز جو بھی ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الشفعة/حدیث: 6229]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2496، والنسائي: 7/ 320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19706»
الحكم على الحديث: صحیح