🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب وَعِيدِ مَنْ آوَى ضَالَةٌ وَلَمْ يُعْرِفُهَا
اس شخص کی وعید کا بیان جس نے گم شدہ چیز اٹھا لی اور اس کا اعلان نہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6242
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّوَالِّ فَقَالَ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ
۔ سیدناجارود رضی اللہ عنہ سے اس انداز سے بھی روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ جانوروں کے متعلق دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6242]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطيالسي: 1294، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 5796، وابويعلي: 919، وابن حبان: 4887، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21038»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطيالسي: 1294
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6243
عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَوَامُّ الْإِبِلِ نُصِيبُهَا قَالَ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ حَرَقُ النَّارِ
۔ مطرف انپے باپ سیدنا عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!: ہم گم شدہ اونٹوں کو پا لیتے ہیں، ان کا کیا حکم ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کا گم شدہ جانور آگ کا شعلہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6243]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 2502، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16423»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 2502
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6244
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رُمْحٌ فَكُنَّا إِذَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ خَرَجَ بِهِ مَعَهُ فَيَرْكُزُهُ فَيَمُرُّ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيَحْمِلُونَهُ فَقُلْتُ لَئِنْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَأُخْبِرَنَّهُ فَقَالَ إِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ لَمْ تُرْفَعْ ضَالَّةٌ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک نیزہ تھا،جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں جاتے تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ اسے ساتھ لے جاتے اور اسے گاڑھ دیتے اور قصداً چھوڑآتے، لوگ اس کے پاس سے گزرتے اور اسے اٹھا لاتے۔ میں نے کہا: میں اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو میں اس کاروائی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے (قصداً) ایسا کرنا شروع کر دیا تو گم شدہ چیز کو نہیں اٹھایا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6244]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2809، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1272»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں بیان کی گئی وعید اس آدمی کے بارے میں ہے جو مومن کی گمشدہ چیز اس نیت سے اٹھاتا ہے کہ وہ اس پر قبضہ کر لے اور کسی کو نہ بتائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2809
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ الْإِشْهَادِ عَلَى النُّقْطَةِ وَمُدَّةِ التَّعْرِيفِ عَلَى الْيَسِيرِ والكثير منها
گری پڑی چیز پر گواہ بنانے اور کم مقدار اور زیادہ مقدار کی چیز کی مدتِ اعلان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6245
عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَوَيْ عَدْلٍ وَلْيَحْفَظْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَلَا يَكْتُمْ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا وَإِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا فَإِنَّهُ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ
۔ سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گری پڑی چیز پاتا ہے، اس کو چاہیے کہ وہ انصاف والے دو آدمیوں کو گواہ بنالے اور اس کی تھیلی اور تسمے کی شناخت کر لے، اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس سے نہ چھپائے، کیونکہ یہ اسی کا حق ہے اور اگر مالک نہ ملے تو یہ اللہ تعالیٰ کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے، عطاکر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6245]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2809، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17620»
وضاحت: فوائد: … گمشدہ چیز اٹھانے والے کو چاہئے کہ وہ عادل گواہ بنا لے، اس کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں:
(۱) بعد میں شیطان کے ورغلانے کی وجہ سے نفس میں خیانت کرنے کا خیال پیدا ہو سکتا ہے۔
(۲) گمشدہ چیز کو پانے والے شخص کی موت کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گواہ بنائے بغیر مر جائے اور اس کے ورثاء اِس چیز کو اس کا ترکہ سمجھ کر تقسیم کر لیں۔
(۳) یہ بھی ممکن ہے کہ اصل مالک کے شبہات کو دور کرنا مقصود ہو، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کی گم ہونے والی مختلف اشیاء ہوں یا زیادہ مقدار والی چیز ہو، جبکہ اس شخص کو ایک چیز ملی ہو یا کم مقدار ہو، ایسے میں وہ اِس پر خیانت کا الزام لگا سکتا ہے۔ شریعت کے اس حکم پر عمل کر لینے کی وجہ سے ان تمام شکوک و شبہات سے بچا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2809
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6246
عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ الْتَقَطَ لُقْطَةً يَسِيرَةً دِرْهَمًا أَوْ حَبْلًا أَوْ شِبْهَ ذَلِكَ فَلْيُعَرِّفْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ كَانَ فَوْقَ ذَلِكَ فَلْيُعَرِّفْهُ سَنَةً
۔ سیدنایعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو معمولی سی چیز گری پا لے، مثلا درہم، رسی یا اس طرح کی کوئی اور چیز، تو وہ تین دنوں تک اس کا اعلان کرے، اور اگر اس سے قیمتی چیز پا لے تو ایک سال تک اس کا اعلان کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6246]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عمر بن عبد الله، وجدته حكيمة لا تعرف۔ أخرجه البيھقي: 6/ 195، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 700، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17709»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث چونکہ ضعیف ہے اس لئے حجت نہیں ہے، اعلان ایک سال تک ہی کیا جائے گا، البتہ معمولی چیز کے اعلان کی ضرورت نہیں ہے،مثلا کھجور کا دانہ، ایک دو روپے، وغیرہ۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عمر بن عبد الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي لُقُطَةِ مَكَةَ
مکہ میں گری پڑی چیز کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6247
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَةٍ خَطَبَهَا فِي فَضْلِ مَكَّةَ يَوْمَ فَتْحِهَا لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن مکہ کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے اور اس کی گری پڑی چیز کسی کے لیے حلال نہیں ہے، مگر اعلان کرنے والے کے لیے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6247]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2434، ومسلم: 1355، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7242 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7241»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2434
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6248
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي فَضْلِ مَكَّةَ إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهُ إِلَّا لِمُعَرِّفٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فضائل مکہ کے موضوع پر روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شہر حرمت والا ہے۔ پھر راوی نے ساری حدیث بیان کی ہے، اس میں یہ الفاظ بھی تھے: اس کے شکار کو بے قرار نہ کیا جائے اور نہ اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے، البتہ اعلان کرنے والے کے لیے جائز ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6248]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1587، 1834، 3189، ومسلم: 1353، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2353»
وضاحت: فوائد: … مکہ مکرمہ کا معاملہ دوسروں علاقوں سے مختلف ہے، اس شہر میں آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے، حج و عمرہ یا زیارت کے ارادے سے آنے والے لوگوں میں سے کوئی کم عرصہ کے لیے ٹھہرتا ہے اور کوئی کافی ایام کے لیے قیام کرتا ہے اور قیام کرنے کا انداز بھی بڑا عجیب ہوتا ہے کہ کوئی کہیں دو دن ٹھہر رہا ہے، کوئی کہیں چار دن قیام کر رہا ہے اور کوئی تو چل پھر کر ہی دن گزار دیتا ہے، نیز کوئی بہت دور سے آیا ہوتا ہے اور کوئی قریب سے۔
جب صورتحال ایسی ہو تو اگر گری پڑی چیز کو اس کے محل پر ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہو گا، کیونکہ ممکن ہے کہ جب اس کے مالک کو پتہ چلے تو وہ اپنے مقامات کی طرف لوٹے یا وہ اس مقام میں اس چیز کو تلاش کرنے کے لیے کسی کو پیغام بھیج دے، ایسے فوراً بھی کیا جا سکتا ہے اور کچھ دنوں کے بعد بھی، اس لیے اس شہر کی گری پڑی چیز کو وہیں پڑے رہنے دیا جائے، جو اعلان کرنے کی ذمہ داری اٹھائے گا، تو وہ اعلان کرتا رہے گا اور اس کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہو گی، جیسا کہ دوسرے علاقوں میں ایکیا تین برسوںکی حد مقرر ہے۔
امام نووی نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں گری پڑی چیز اس آدمی کے لیے حلال نہیں ہے، جو ایک سال تک اعلان کر کے اس کا مالک بننے کا ارادہ رکھتا ہو، جیسا کہ دوسرے علاقوں کا حکم ہے، بلکہ یہ چیز حلال نہیں ہو گی، مگر اس آدمی کے لیے جو ہمیشہ کے لیے اعلان کرتا رہے گا اور اس کا مالک نہیں بنے گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1587
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6249
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُقْطَةِ الْحَاجِّ
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاجیوں کی گری ہوئی چیز اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6249]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1724، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16167»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں مطلق حاجیوں کا ذکر ہے، حرم یا مکہ مکرمہ کی قید نہیں لگائی گئی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا سابقہ احادیث کی روشنی میں اس حدیث کو مقید کیا جائے یا عام رہنے دیا، الفاظ کا تقاضا یہی ہے کہ یہ حکم عام ہے اور اس کو عام ہی رہنے دیا جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ چیز کے قیمتی ہونے کی صورت میں مالک واپس پلٹے یا حج و عمرہ سے واپسی پر اپنی چیز کو تلاش کرنے کی کوشش کرے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1724
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12