🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. مَا جَاءَ فِي سُورَةِ مُحَمَّدٍ
سورۂ محمد کی قراء ت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8426
عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ بَنِي بُجَيْلَةَ يُقَالُ لَهُ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ أَيَاءً تَجِدُهَا أَوْ أَلِفًا مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ وَكُلُّ الْقُرْآنِ أَحْصَيْتَ غَيْرَ هَذِهِ قَالَ إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ الصَّلَاةِ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَلَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَلَكِنَّهُ إِذَا قَرَأَهُ فَرَسَخَ فِي الْقَلْبِ نَفَعَ إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ قَالَ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فَجَاءَ عَلْقَمَةُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ فَقُلْنَا لَهُ سَلْهُ عَنِ النَّظَائِرِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ قَالَ فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ عِشْرُونَ سُورَةً مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ فِي تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ
۔ شفیق بن عبداللہ کہتے ہیں: بنو بجیلہ قبیلے کا ایک آدمی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس کو نہیک بن سنان کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! اس آیت کو آپ کس طرح پڑھتے ہیں،یاء کے ساتھ یا الف کے ساتھ {مِنْ مَائٍ غَیْرِ آسِنٍ}؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اس کے علاوہ تو نے سارا قرآن مجید پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں دو رکعت نماز میں مفصل سورتیں پڑھتا ہوں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا:کیا شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھتے ہو، بہترین نماز وہ ہے، جس میں رکوع و سجود اچھے انداز میں کئے جائیں،کچھ لوگ قرآن تو پڑھیں گے، مگر وہ ان کی ہنسلیوں کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا، جب آدمی قرآن پڑھتا اور وہ اس کے دل میں راسخ ہو جاتا ہے تو تب قرآن فائدہ دیتا ہے، میں ان آپس میں ملتی جلتی سورتوں کو پہچانتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن میں سے دو دو سورتیں ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اندر چلے گئے، اتنے میں علقمہ آئے اور وہ بھی ان کے پیچھے اندر چلے گئے، ہم نے علقمہ سے کہا: ان سے ان ملتی جلتی سورتوں کے بارے میں دریافت کرو، جن میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو سورتیں پڑھا کرتے تھے، پس علقمہ ان کے پاس گئے اور پھر ہمارے پاس آ کر کہا: مفصل کی ابتدائی بیس سورتیں،یہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تالیف ِ قرآن کے مطابق تھا۔ [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8426]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4996، ومسلم: 822، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3607 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3607»
وضاحت: فوائد: … آسِن میں دو لغتیں ہیں: آسِن اور أَ سِن۔ یاء کے ساتھ اس لفظ کی کوئی قراء ت نہیں ہے، ممکن ہے کہ اس آدمی کا سوال صحیح نہ ہو، اس لیے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کے سوال کا جواب ہی نہیں دیا، بلکہ اس کو ایک سوال کی طرف لگا دیا۔ ان بیس سورتوں کی تفصیلیہ ہے: علقمہ اور اسود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَ تَی ابْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّی أَ قْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِی رَکْعَۃٍ فَقَالَ أَ ہَذًّا کَہَذِّ الشِّعْرِ وَنَثْرًا کَنَثْرِ الدَّقَلِ لٰکِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یَقْرَأُ النَّظَائِرَ السُّورَتَیْنِ فِی رَکْعَۃٍ النَّجْمَ وَالرَّحْمٰنَ فِی رَکْعَۃٍ وَاقْتَرَبَتْ وَالْحَاقَّۃَ فِی رَکْعَۃٍ وَالطُّورَ وَالذَّارِیَاتِ فِی رَکْعَۃٍ وَإِذَا وَقَعَتْ وَنُونَ فِی رَکْعَۃٍ وَسَأَ لَ سَائِلٌ وَالنَّازِعَاتِ فِی رَکْعَۃٍ وَوَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِینَ وَعَبَسَ فِی رَکْعَۃٍ وَالْمُدَّثِّرَ وَالْمُزَّمِّلَ فِی رَکْعَۃٍ وَہَلْ أَ تٰی وَلَا أُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فِی رَکْعَۃٍ وَعَمَّ یَتَسَاء َلُونَ وَالْمُرْسَلَاتِ فِی رَکْعَۃٍ وَالدُّخَانَ وَإِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ فِی رَکْعَۃٍ۔ قَالَ أَ بُو دَاوُد ہَذَا تَأْلِیفُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَحِمَہُ اللّٰہُ۔ … ایک آدمی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں مفصل سورتیں ایک رکعت میںپڑھتا ہوں، انھوں نے کہا: کیا تم شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھتے ہو؟ یا سوکھی ردی کھجوروں کی طرح بکھیرتے ہو؟ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یکساں قسم کی دو دو سورتیں ایک رکعت میںپڑھا کرتے تھے، سورۂ نجم اور سورۂ رحمن ایک رکعت میں، سورۂ قمر اور سورۂ حاقہ ایک رکعت میں، سورۂ طور اور سورۂ ذاریات ایک رکعت میں، سورۂ واقعہ اور سورۂ قلم ایک رکعت میں، سورۂ معارج اور سورۂ نازعات ایک رکعت میں، سورۂ مطففین اور سورۂ عبس ایک رکعت میں، سورۂ مدثر اور سورۂ مزمل ایک رکعت میں، سورۂ دہر اور سورۂ قیامہ ایک رکعت میں، سورۂ نبأ اور سورۂ مرسلات ایک رکعت میں اور سورۂ دخان اور سورۂ تکویر ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ امام ابوداود نے کہا: یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تالیف تھی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4996
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8426M
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ زِرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَيْفَ تَعْرِفُ هَذَا الْحَرْفَ مَاءٌ غَيْرِ يَاسِنٍ أَمْ آسِنٍ فَقَالَ كُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ قَرَأْتَ قَالَ إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ أَجْمَعَ فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ فَقَالَ أَهَذًّا الشِّعْرِ لَا أَبَا لَكَ قَدْ عَلِمْتُ قَرَائِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَ يَقْرِنُ قَرِينَتَيْنِ قَرِينَتَيْنِ مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ وَكَانَ أَوَّلُ مُفَصَّلِ ابْنِ مَسْعُودٍ الرَّحْمَنُ
۔ (دوسری سند) زرّ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کا اس قراء ت کے بارے میں کیا خیال ہے مائٍ غَیْرِ آسِن ہے یا یَاسِن؟ آگے سے انھوں نے کہا: کیا تو نے اس کے علاوہ سارا قرآن مجید پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں تمام مفصل سورتیں ایک ر کعت میں پڑھتا ہوں، انھوں نے کہا: کیا شعروں کی طرح جلدی جلدی، تیرا باپ نہ رہے، میں ان آپس میں ملتی جلتی سورتوں کو جانتا ہوں،جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو سورتیں کر کے پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مفصل کی ابتداء سے شروع کر تے تھے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں پہلی مفصل سورت رحمن تھی۔ [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8426M]
تخریج الحدیث: «صحيح، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3910»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. مَا جَاءَ فِي سُوْرَةِ الدَّارِيَاتِ
سورۂ ذاریات کی قراء ت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8427
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ [سورة الذاريات: ٥٦]
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پڑھایا {اِنِّیْ اَنَا الرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ}۔ [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8427]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3993، والترمذي: 2940، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3770 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3770»
وضاحت: فوائد: … قرآن مجید کی متواتر قراء ت یوں ہے: {اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ۔}

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 3993
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. مَا جَاءَ فِي سُورَةِ الْقَمَرِ
سورۂ قمر کی قراء ت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8428
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ [سورة القمر: ١٧] فَقَالَ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُدَّكِرٍ أَوْ مُذَّكِّرٍ قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُدَّكِرٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یوں پڑھایا: {وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ} ایک آدمی نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! مُدَّکِرٍ ہے یا مُذَّکِّرٍ؟انہوں نے کہا، مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مُدَّکِرٍ پڑھایا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8428]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3345، ومسلم: 823، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3755»
وضاحت: فوائد: … متواتر قراء ت مُدَّکِرٍ کے الفاظ کے ساتھ ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3345
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. مَا جَاءَ فِي سُورَةِ الطَّلَاقِ
سورۂ طلاق کی قراء ت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8429
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ [سورة الطلاق: ٢]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھا {یَا اَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ فِیْ قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ۔} [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8429]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5269»
وضاحت: فوائد: … متواتر قراء ت یوں ہے: {یَا اَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ۔}

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1471
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي سُوْرَةِ اللَّيْلِ
سورۂ لیل کی قراء ت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8430
عَنْ عَلْقَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَدِمَ الشَّامَ فَدَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ وَقَالَ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا قَالَ فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَ كَيْفَ سَمِعْتَ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ يَقْرَأُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى قَالَ عَلْقَمَةُ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ هَؤُلَاءِ حَتَّى شَكَّكُونِي ثُمَّ قَالَ أَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ الْوِسَادِ وَصَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ غَيْرُهُ وَالَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَاحِبُ الْوِسَادِ ابْنُ مَسْعُودٍ وَصَاحِبُ السِّرِّ حُذَيْفَةُ وَالَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ عَمَّارٌ وَفِي لَفْظٍ إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ قَالَ لِعَلْقَمَةَ هَلْ تَقْرَأُ عَلَى قَرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاقْرَأْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى قُلْتُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى قَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُهَا قَالَ أَحْسِبُ قَالَ فَضَحِكَ
۔ علقمہ کہتے ہیں: میں شام گیا، مسجد دمشق میں داخل ہوا، اس میں دو رکعت نماز ادا کی اور یہ دعا کی: اے اللہ! مجھے نیک ہم نشین مہیا فرما، پھر میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا، انھوں نے کہا: تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا:کوفہ والوں میں سے۔ انھوں نے کہا: تم نے ابن ام عبد یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ یہ سورت کیسے پڑھتے ہیں: {وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَی وَالنَّہَارِ إِذَا تَجَلّٰی} میں نے کہا: وہ اس طرح پڑھتے ہیں: {وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثٰی}، انھوں نے کہا: میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا، لیکن ان لوگوں نے مجھے شک میں ڈال دیا،یہ چاہتے ہیں کہ میں {وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْأُنْثٰی} پڑھوں، لیکن میں ان کی بات نہیں مانوں گا۔ پھر انھوں نے کہا: کیاتمہارے اندر یہ تین افراد نہیں ہیں: صاحب الوساد، رازدان، جس کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا اور اور جن کو شیطان سے محفوظ کر دیا گیا۔ صاحب الوساد ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، راز دان سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں اور جن کو شیطان سے محفوظ کیا گیا، وہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ ہیں۔ (ایک روایت میں ہے): سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے علقمہ سے کہا: کیا تم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت کے مطابق پڑھتے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: سورۂ لیل پڑھو، انھوں نے یوں پڑھا: {وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشٰی وَالنَّہَارِ اِذَا تَجَلّٰی وَالذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی}۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا، پھر وہ مسکرا پڑھے۔ [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8430]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6278، ومسلم: 824، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28088»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحب الوساد تھے، اس لقب کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((إِذْنُکَ عَلَیَّ أَ نْ یُرْفَعَ الْحِجَابُ وَأَ نْ تَسْتَمِعَ سِوَادِی حَتَّی أَ نْہَاکَ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: میری طرف سے تیرے لیے اجازت یہ ہے کہ پردہ اٹھا دیا جائے اور تو میرے وجود کو دیکھ لے، الا یہ کہ میں تجھے منع کر دوں۔ (صحیح مسلم) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز دان تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ صحابۂ کرام میں مخفی امور، علاماتِ قیامت اور احوالِ آخرت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ سوال کرنے والے یہ صحابی تھے۔
جس صحابی کو شیطان سے محفوظ کر دیا گیا تھا، وہ سیدنا عمار بن یاسر تھے، جب ابو خیثمہ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے احادیث بیان کرنے کا مطالبہ کیا تو انھوں نے اس سے پوچھا: تو کن لوگوں میں سے ہے؟ اس نے کہا: اہل کوفہ سے، اس پر سیدنا ابوہریرہ نے کہا: تَسْأَ لُنِیْ وَفِیْکُمْ عُلَمَائُ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَالْمُجَارُ مِنَ الشَّیْطَانِ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ۔ … تو مجھ سے سوال کرتا ہے، جبکہ تم میں علمائے اصحابِ رسول اور شیطان سے محفوظ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں۔(ابن عساکر)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6278
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بابُ وَقْتِ نُزُولِ الْقُرْآنِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْكُتُبِ لسَّمَاوِيَّةِ وَخَوْفِ الصَّحَابَةِ مِنْ نُزُولِ الْقُرْآنِ فِيْهِمْ
قرآن مجید اور دوسری آسمانی کتابوں کے نزول کے وقت کا بیان اور صحابہ کا اس بات سے ڈرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8431
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُنْزِلَتْ صُحُفُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَأُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ لِسِتٍّ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ وَالْإِنْجِيلُ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ وَأُنْزِلَ الْفُرْقَانُ لِأَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابراہیمی صحیفے رمضان کی پہلی رات کو، تورات رمضان کی چھٹی رات کو،انجیل رمضان کی تیرہ تاریخ کو اور قرآن مجید رمضان کی چوبیس تاریخ کو نازل ہوا۔ [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8431]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، تفرد به عمران القطان، وھو ممن لا يحتمل تفرده۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 185، والبيھقي: 9/ 188، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17109»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12