سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب فِي الرَّجُلِ يَسْمَعُ السَّجْدَةَ وَهُوَ رَاكِبٌ وَفِي غَيْرِ الصَّلاَةِ
باب: سوار یا وہ شخص جو نماز میں نہ ہو سجدے کی آیت سنے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1411
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ عَامَ الْفَتْحِ سَجْدَةً، فَسَجَدَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، مِنْهُمُ الرَّاكِبُ وَالسَّاجِدُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى إِنَّ الرَّاكِبَ لَيَسْجُدُ عَلَى يَدِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال سجدے والی آیت پڑھی تو تمام لوگوں نے سجدہ کیا، کچھ ان میں سوار تھے اور کچھ زمین پر سجدہ کرنے والے تھے حتیٰ کہ سوار اپنے ہاتھ پر سجدہ کر رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1411]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر سجدے کی آیت تلاوت فرمائی تو سب لوگوں نے سجدہ کیا۔ ان میں سے کچھ سواریوں پر سوار تھے اور کچھ زمین پر سجدہ کرنے والے تھے۔ سوار لوگوں نے اپنے اپنے ہاتھ پر سجدہ کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف:8444) (ضعیف)» (اس کے راوی مصعب لین الحدیث ہیں مگر صحیحین میں یہی روایت قدرے مختصر سیاق میں موجود ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مصعب بن ثابت ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
إسناده ضعيف
مصعب بن ثابت ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
حدیث نمبر: 1412
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ الْمَعْنَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا السُّورَةَ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى لَا يَجِدَ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سورۃ پڑھ کر سناتے (ابن نمیر کی روایت میں ہے) ”نماز کے علاوہ میں“ (آگے یحییٰ بن سعید اور ابن نمیر سیاق حدیث میں متفق ہیں)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سجدہ کی آیت آنے پر) سجدہ کرتے، ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ مل پاتی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1412]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر کوئی سورت تلاوت فرماتے“، ابن نمیر نے کہا: ”نماز کے علاوہ، عام حالت میں“، پھر دونوں کا بیان ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کرتے، حتیٰ کہ ہم میں سے بعض کو پیشانی رکھنے کے لیے جگہ نہ ملتی تھی“۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1412]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/سجود القرآن 8 (1075)، صحیح مسلم/المساجد 20 (575)، (تحفة الأشراف:8008، 8014)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/157)، سنن الدارمی/الصلاة 161 (1507) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایسی صورت میں وہ اپنے ہاتھ، یا ران، یا دوسرے کی پشت پر سجدہ کر لیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1075) صحيح مسلم (575)
حدیث نمبر: 1413
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ، فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا". قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَكَانَ الثَّوْرِيُّ يُعْجِبُهُ هَذَا الْحَدِيثُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يُعْجِبُهُ لِأَنَّهُ كَبَّرَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو قرآن سناتے، جب کسی سجدے کی آیت سے گزرتے تو ”الله أكبر“ کہتے اور سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: یہ حدیث ثوری کو اچھی لگتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہیں یہ اس لیے پسند تھی کہ اس میں ”الله أكبر“ کا ذکر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1413]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر قرآن پڑھا کرتے تھے۔ جب سجدے کی آیت سے گزرتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے اور سجدے میں چلے جاتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے۔“ جناب عبد الرزاق رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ”امام ثوری رحمہ اللہ کو یہ حدیث بہت پسند تھی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بیان کیا: ”کیونکہ اس میں تکبیر کا ذکر ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:7726) (منکر)» (سجدہ کے لئے تکبیر کا تذکرہ منکر ہے، نافع سے روایت کرنے والے عبداللہ العمری ضعیف ہیں، بغیر تکبیر کے تذکرے کے یہ حدیث ثابت ہے جیسا کہ پچھلی حدیث میں ہے، البتہ دوسروے دلائل سے تکبیر ثابت ہے)
قال الشيخ الألباني: منكر والمحفوظ دونه
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1032)
عبد الله العمري حسن الحديث عن نافع، ضعيف الحديث عن غيره
مشكوة المصابيح (1032)
عبد الله العمري حسن الحديث عن نافع، ضعيف الحديث عن غيره
7. باب مَا يَقُولُ إِذَا سَجَدَ
باب: سجدہ تلاوت میں کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 1414
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ، يَقُولُ فِي السَّجْدَةِ مِرَارًا:" سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں قرآن کے سجدوں میں کئی بار «سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته» یعنی ”میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اپنی قوت و طاقت سے اسے پیدا کیا اور اس کے کان اور آنکھ بنائے“ کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1414]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سجدہ قرآن میں یہ دعا تکرار سے پڑھا کرتے تھے: «سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ» ”میرا چہرہ اس ذات کے لیے سجدہ ریز ہے جس نے اس کو پیدا کیا اور اپنی طاقت اور قوت سے اس کے کان اور آنکھ بنائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 290 (الجمعة 55) (580)، والدعوات 33 (3425)، سنن النسائی/التطبیق 70 (1130)، (تحفة الأشراف:16083)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/30، 217) (صحیح)» (ترمذی اور نسائی کے یہاں سند میں عن رجل (مجہول راوی) نہیں ہے، اور خالد الخداء کی روایت ابوالعالیہ سے ثابت ہے اس لئے اس حدیث کی صحت میں کوئی کلام نہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (580،3425) نسائي (1130)
رجل: مجهول — قال الامام أبو بكر ابن خزيمة: ’’وإنما كنت تركت إملاء خبر أبي العالية،عن عائشة أن النبي ﷺ كان يقول في سجود القرآن بالليل: ((سجد وجهي للذي خلقه،وشق سمعه وبصره،بحوله وقوته)) لأن بين خالد الحذاء وبين أبي العالية رجلا غير مسمي لم يذكر الرجل عبد الوهاب بن عبد المجيد،وخالد بن عبد الله الواسطي‘‘ (صحيح ابن خزيمه: 1/ 282 تحت ح 563)
قال الشيخ زبير علي زئي: ’’والحديث صحيح في السجود مطلقًا،انظر سنن أبي داود (760) وصحيح مسلم (771)‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
إسناده ضعيف
ترمذي (580،3425) نسائي (1130)
رجل: مجهول — قال الامام أبو بكر ابن خزيمة: ’’وإنما كنت تركت إملاء خبر أبي العالية،عن عائشة أن النبي ﷺ كان يقول في سجود القرآن بالليل: ((سجد وجهي للذي خلقه،وشق سمعه وبصره،بحوله وقوته)) لأن بين خالد الحذاء وبين أبي العالية رجلا غير مسمي لم يذكر الرجل عبد الوهاب بن عبد المجيد،وخالد بن عبد الله الواسطي‘‘ (صحيح ابن خزيمه: 1/ 282 تحت ح 563)
قال الشيخ زبير علي زئي: ’’والحديث صحيح في السجود مطلقًا،انظر سنن أبي داود (760) وصحيح مسلم (771)‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
8. باب فِيمَنْ يَقْرَأُ السَّجْدَةَ بَعْدَ الصُّبْحِ
باب: جو شخص فجر کے بعد سجدہ والی آیت پڑھے تو وہ کب سجدہ کرے؟
حدیث نمبر: 1415
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ، قَالَ: لَمَّا بَعَثْنَا الرَّكْبَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: كُنْتُ أَقُصُّ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَأَسْجُدُ، فَنَهَانِي ابْنُ عُمَرَ فَلَمْ أَنْتَهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ عَادَ، فَقَالَ:" إِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمْ يَسْجُدُوا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
ابوتمیمہ طریف بن مجالد ہجیمی کہتے ہیں کہ جب ہم قافلہ کے ساتھ مدینہ آئے تو میں فجر کے بعد وعظ کہا کرتا تھا، اور (سجدہ کی آیت پڑھنے کے بعد) سجدہ کرتا تھا تو مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے تین مرتبہ منع کیا، لیکن میں باز نہیں آیا، آپ نے پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی لیکن کسی نے سجدہ نہیں کیا یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1415]
ابو تمیمہ ہجیمی کہتے ہیں کہ جب ہم قافلے والوں کے ساتھ مدینہ آئے تو میں نماز فجر کے بعد وعظ کیا کرتا تھا اور اس میں سجدہ تلاوت کیا کرتا تھا۔ پس سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ کو روکا، تین بار۔ مگر میں نہ رکا۔ پھر پلٹ کر انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نمازیں پڑھی ہیں۔ یہ حضرات سجدہ نہ کرتے تھے، حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جاتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:7110)، وقد أخرجہ: (حم (2/24، 106) (ضعیف)» (اس کے راوی ابوبحر عبدالرحمن بن عثمان ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو بحر عبد الرحمٰن بن عثمان ضعيف (تق : 3943) ضعفه الجمھور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57
إسناده ضعيف
أبو بحر عبد الرحمٰن بن عثمان ضعيف (تق : 3943) ضعفه الجمھور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57