مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ النَّهْيِ عَنِ الشِّغَارِ
نکاحِ شغار کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1163
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ. وَالشِّغَارُ: أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ [ ص: 55 ] الْآخَرُ ابْنَتَهُ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا اور شغار یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی بیٹی کو دوسرے کو اس شرط کے ساتھ بیاہ دے کہ وہ اپنی بیٹی اس کو بیاہ دے گا، اور ان دونوں کے درمیان حق مہر نہ ہوگا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1163]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب الشغار (5112) ومسلم، النكاح، باب تحريم نكاح الشغار وبطلانه (1415).»
حدیث نمبر: 1164
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ: أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ.
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1164]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم، النكاح، باب تحريم نکاح الشغار وبطلانه (1417).»
حدیث نمبر: 1165
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ".
مجاہد سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں شغار نہیں“۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1165]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح لارساله والمتن صحيح كما تقدم: اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (4232).»
حدیث نمبر: 1166
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ قُصَيِّ بْنِ كِلَابِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ مُدْرَكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارِ بْنِ مَعْدِ بْنِ عَدْنَانَ، ابْنِ عَمِّ [ ص: 56 ] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَمُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ كِلَاهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ. وَزَادَ مَالِكٌ فِي حَدِيثِهِ: وَالشِّغَارُ: أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ ابْنَتَهُ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ بَابِ الشِّغَارِ وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ النِّكَاحِ مِنَ الْإِمْلَاءِ وَهُوَ أَوَّلُ حَدِيثٍ فِيهِ.
ابن عمر اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ زیادہ بیان کیے کہ شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کو بیٹی اس شرط پر بیاہ دے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی اس سے کرے گا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1166]
تخریج الحدیث: «صحیح اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (4229).»
23. بَابُ مَا لَا يَجْمَعُ الرَّجُلُ بَيْنَهُنَّ مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ وَالْأَحْرَارِ
لونڈیوں اور آزاد عورتوں میں سے جنہیں ایک مرد بیک وقت اپنے پاس جمع نہیں کر سکتا ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 1167
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْأُخْتَيْنِ مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ: هَلْ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ، وَأَمَّا أَنَا فَلَا أُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ هَذَا، قَالَ: فَخَرَجَ مِنْ عِنْدَهُ فَلَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَوْ كَانَ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ، ثُمَّ وَجَدْتُ أَحَدًا فَعَلَ ذَلِكَ لَجَعَلْتُهُ نَكَالًا. قَالَ مَالِكٌ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَرَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ مَالِكٌ: وَبَلَغَنِي عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ مِثْلُ ذَلِكَ.
قبیصہ بن ذوئیب سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے دو بہنوں کے متعلق پوچھا جو ایک آدمی کی ملکیت ہوں، کیا وہ دونوں سے صحبت کر سکتا ہے؟ تو عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک آیت نے ان دونوں کو حلال کیا ہے جبکہ دوسری آیت نے دونوں کو حرام، اور رہی میری بات تو میں یہ کام کرنا پسند نہیں کرتا“۔ قبیصہ نے کہا وہ آدمی ان کے پاس سے نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی سے ملا تو اس نے کہا: ”اگر مجھے کچھ بھی معاملے کا اختیار ہوتا، پھر میں کسی آدمی کو پاتا جس نے یہ کام کیا ہوتا تو میں اس کو عبرت بنا لیتا“۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ابن شہاب نے کہا میرے خیال میں وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی اسی طرح اطلاع ملی ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1167]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقى 7 / 163 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4156) - وعبد الرزاق (12727)، (12732) . وابن ابي شيبة (16251)، (16258)، ومسالك فى الموطأ، النكاح، باب ماجاء في كراهية اصابة الاختين بملك اليمين والمرأة وابنتها.»
حدیث نمبر: 1168
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ: هَلْ تُوطَأُ إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الْأُخْرَى؟ فَقَالَ عُمَرُ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُجِيزَهُمَا جَمِيعًا.
عبید اللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک عورت اور اس کی بیٹی جو ایک ہی آدمی کی لونڈیاں ہوں کے متعلق سوال کیا گیا، کیا آدمی ان دونوں میں سے ایک سے وطی کرنے کے بعد دوسری سے کر سکتا ہے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں پسند نہیں کرتا کہ ان دونوں سے بیک وقت وطی کو جائز قرار دوں“۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1168]
تخریج الحدیث: «صحیح اخرجه البيهقي: 7 / 164 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4157) - والدار قطنی: 3/ 282 - ومالك في الموطا النكاح، باب ماجاء في كراهية اصابة الاختين يملك اليمين والمرأة وابنتها.»
حدیث نمبر: 1169
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْأُمِّ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنْ نُجِيزَهُمَا جَمِيعًا. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: قَالَ أَبِي: فَوَدِدْتُ أَنَّ عُمَرَ كَانَ أَشَدَّ فِي ذَلِكَ مِمَّا هُوَ.
عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ سے ماں اور اس کی بیٹی جو ایک ہی شخص کی ملکیت میں ہوں، کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”میں پسند نہیں کرتا کہ ہم ان دونوں کو جائز قرار دیں“۔ عبید اللہ نے کہا کہ میرے باپ نے کہا، میں چاہتا ہوں کہ عمر رضی اللہ عنہ اس معاملہ میں اس سے بھی زیادہ سخت ہوتے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1169]
تخریج الحدیث: «صحيح: اخرجه البيهقي: 7 / 164 ـ وفي المعرفة السنن والآثار له (4159). وعبدالرزاق (12731)، (12734) - وابن ابي شيبة (16243).»
حدیث نمبر: 1170
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُخْبِرُ: أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ جَاءَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ لَهَا: إِنَّ لِي سُرِّيَّةً أَصَبْتُهَا، وَإِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ لَهَا ابْنَةٌ جَارِيَةٌ لِي فَأَسْتَسِرُّ ابْنَتَهَا؟ فَقَالَتْ: لَا. [ ص: 58 ] قَالَ: فَإِنِّي لَا أَدَعُهَا إِلَّا أَنْ تَقُولِي: حَرَّمَهَا اللَّهُ تَعَالَى، فَقَالَتْ: لَا يَفْعَلُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِي، وَلَا أَحَدٌ أَطَاعَنِي.
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن عبداللہ بن عبید اللہ بن معمر، عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ: ”میری ایک لونڈی ہے، میں اس سے صحبت کرتا ہوں، اور اس کی بیٹی بھی میری لونڈی ہے تو کیا میں اس کی بیٹی سے بھی صحبت کروں؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے کہا: ”میں اس وقت تک اسے نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ یہ نہیں کہتیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام قرار دیا ہے۔“ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”یہ کام نہ تو میرے گھر والوں میں سے کوئی کرے گا اور نہ ہی میری بات ماننے والوں میں سے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1170]
تخریج الحدیث: «صحيح: اخرجه البيهقي: 7 / 164 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4159) - وعبدالرزاق (12731)، (12734) - وابن ابي شيبة (16243).»
حدیث نمبر: 1171
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَجْمَعُ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کرے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1171]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، النكاح، باب لا تنكح المرأة على عمتها (5109) - ومسلم، النكاح، باب تحريم الجمع بين المرأة وعمتها.... الخ (1408).»
24. بَابُ تَحْرِيمِ الرَّبِيبَةِ وَمَا يَحْرُمُ بِالرَّضَاعِ
ربیبہ کی حرمت اور رضاعت کی وجہ سے حرام ہونے والے رشتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1172
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي ابْنَةِ أَبِي سُفْيَانَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَاعِلٌ مَاذَا"؟ قَالَتْ: تَنْكِحُهَا. قَالَ:"أُخْتَكِ"! قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ:"أَتُحِبِّينَ ذَلِكَ"؟ قَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، قَالَ:"فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي". قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ بِأَنَّكَ تَخْطُبُ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ. قَالَ:"بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ"؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:"وَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لِابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ".
ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کو میری بہن، ابوسفیان کی بیٹی میں کوئی دلچسپی ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیا کرنے والا ہوں؟“ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”آپ اس سے نکاح کر لیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری بہن سے!“ انہوں نے کہا: ”ہاں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم یہ پسند کرو گی؟“ (کہ تمہاری بہن تمہاری سوکن ہو) انہوں نے کہا: ”ہاں، میں آپ کے پاس اکیلی تو نہیں ہوں اور میں خیر و برکت میں اپنی بہن کو اپنا شریک بنانا پسند کرتی ہوں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے لیے حلال نہیں ہے“۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوسلمہ کی بیٹی؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری ربیبہ اور زیرِ پرورش نہ ہوتی تو تب بھی حلال نہ ہوتی، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور اس کے باپ کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، لہٰذا تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ سے نکاح کے لیے پیش نہ کرو۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1172]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى النكاح، باب ﴿وان تجمعوا بين الاختين الا ما قد سلف﴾ (5107)، (5101) ومسلم، الرضاع، باب تحريم الربيبة واخت المرأة رقم: (1449)»