🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (648)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
111. (بَابُ بَيَانِ أَوْقَاتِ الْوِتْرِ)
(وتر پڑھنے کے اوقات کا بیان)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 171
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَذَاكَرَا الْوِتْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا أَنَا فَأُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا فَأُوتِرُ آخِرَ اللَّيْلِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَذِرَ هَذَا وَقَوِيَ هَذَا".
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے اپنے وتر پڑھنے کا طریقہ ذکر کیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں رات کے پہلے پہر ہی وتر پڑھ لیتا ہوں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ میں رات کے آخری پہر وتر پڑھتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خبر دار کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تائید کی۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أوتر من أول الليل وآخره/حدیث: 171]
تخریج الحدیث: «مصنف عبدالرزاق: 14/3، رقم: 4615، مصنف ابن ابي شيبة: 282/2 مرسل رجاله ثقات صحیح»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 172
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي يَعْقُوبَ , عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ:" مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْتَهَى، وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھا ہے (لیکن) آخری امر یہی تھا کہ سحری کے وقت وتر پڑھتے تھے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أوتر من أول الليل وآخره/حدیث: 172]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الوتر، باب ساعات الوتر، رقم: 996، مسلم صلاة المسافرين باب صلاة الليل وعدد ركعات النبي صلی اللہ علیہ وسلم ..... الخ، رقم: 745»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 173
أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ:" مَتَى تُوتِرُ؟" فَقَالَ: قَبْلَ أَنْ أَنَامَ أَوْ قَالَ: أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَقَالَ:" يَا عُمَرُ مَتَى تُوتِرُ؟" قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا أضْرِبُ لَكُمَا مَثَلا؟ أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَكَالَّذِي قَالَ: أَحْرَزْتُ نَهْبِي، وَابْتَغَى النَّوَافِلَ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ فَتَعْمَلُ بِعَمَلِ الأَقْوِيَاءِ". قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: نَهْبِي يَعْنِي سَهْمِي.
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ وتر کب پڑھتے ہیں؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: سونے سے پہلے پڑھ لیتا ہوں یا کہا رات کے پہلے حصے میں پڑھتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: عمر رضی اللہ عنہ تم کب پڑھتے ہو؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رات کے آخری پہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک مثال نہ بیان کروں؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے کہا میں نے اپنا حصہ بچا لیا ہے یعنی میں نے سونے سے پہلے جو واجب کام تھا کر دیا اگر آنکھ کھلی تو نوافل بھی پڑھ لوں گا اور اے عمر رضی اللہ عنہ یہ تو نے مضبوط لوگوں والا عمل کیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أوتر من أول الليل وآخره/حدیث: 173]
تخریج الحدیث: «مصنف عبدالرزاق: 14/3، رقم: 4616 مرسل ورجاله ثقات .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
112. (بَابُ الْأَمْرِ بِالدُّنُوِّ مِنَ السُّتْرَةِ)
(سترہ کے قریب کھڑے ہونے کا حکم)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 174
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلاتُهُ".
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم آگے سترہ رکھ کر نماز پڑھو تو اس کے قریب کھڑے ہو (تا کہ) شیطان نماز توڑ نہ دے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أوتر من أول الليل وآخره/حدیث: 174]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد، الصلاة، باب الدنو من السترة، رقم: 695 وقال الالبانی: صحیح، سنن نسائی، القبلة، باب الامر بالدنو من السترة، رقم: 748 وصححه ابن خزيمة، رقم: 803، وابن حبان، رقم: 409 وقال الحاكم صحيح على شرط الشيخين و وافقه الذهبي المستدرک: 251/1 . جامع ترمذی: رقم الحديث 455- وقال الالبانی: صحیح .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں