السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
246. (بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ عَلَىٰ سَائِرِ الْقُرُونِ)
(صحابہ کرام کی دیگر نسلوں پر فضیلت)
حدیث نمبر: 396
سَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرُوا أَبْنَاءَهُمْ، فَقَالُوا: أَبْنَاؤُنَا خَيْرٌ مِنَّا وَلِدُوا فِي الإِسْلامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ سَاعَةً قَطُّ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَكُنْ لِيَبْعَثَنِي إِلا فِي خَيْرِ أُمَّتِي نَحْنُ خَيْرٌ مِنْ أَبْنَائِنَا وَأَبْنَاؤُنَا خَيْرٌ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَبْنَاءُ أَبْنَائِنَا خَيْرٌ مِنْ أَبْنَائِهِمْ".
ابو قلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ابناء کا تذکرہ کیا تو کہنے لگے ہمارے بیٹے ہم سے بہتر ہیں اسلام میں پیدا ہوئے انہوں نے بالکل اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے بہترین امت کی طرف مبعوث فرمایا ہم اپنے بیٹوں سے بہتر ہیں، اور ہمارے بیٹے ہمارے پوتوں سے بہتر ہیں اور ہمارے پوتے اپنے بیٹوں سے بہتر ہیں۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب أيام التشريق/حدیث: 396]
تخریج الحدیث: «مجمع الزوائد: 16/10، مرسل لان اباقلابة تابعي لم يدرك نبی صلی اللہ علیہ وسلم والسند اليه صحيح على شرط الشيخين»
247. (بَابُ فَضْلِ الْأَنْصَارِ وَالْأَمْرِ بِالصَّبْرِ)
(انصار کی فضیلت اور صبر کی تلقین)
حدیث نمبر: 397
سَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ عَلَيْهِ تَمْرٌ وَشَعِيرٌ مِنْ بَعْضِ الْقُرَى وَأَنَّ أُسَيْدَ بْنَ الْحُضَيْرِ قَالَ لَهُ أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ بَنِي ظُفُرَ: اذْكُرْ حَاجَتَنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ أُسَيْدَ بْنَ الْحُضَيْرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مَعَهُ قَوْمًا وَأَنَّهُ حَنَا عَلَيْهِ فَذَكَرَ لَهُ حَاجَةَ أَهْلِ بَيْتَيْنِ مِنْ بَنِي ظُفُرَ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لِكُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ وَسْقٌ مِنْ تَمْرٍ وَشَطْرٌ مِنْ شَعِيرٍ"، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا. قَالَ يَحْيَى: فَزَعَمَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ فَإِنَّكُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ وَإِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فِي الأَمْرِ وَالْقَسْمِ فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي".
محمد بن ابراہیم بن حارث تمیمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بعض بستیوں سے کھجور اور جو آئے تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو بنی ظفر کے دو گھروں نے کہا ہماری ضروریات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرنا، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کچھ لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے تھے، اسید رضی اللہ عنہ قریب جا کر جھکے بنی ظفر کی حاجت ذکر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر گھر کو ایک وسق کھجور اور ایک وسق جو دیا جاتا ہے“ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ کو جزاء دے یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محمد بن ابراہیم بن حارث رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اے انصار! تمہیں اللہ جزائے خیر دے تم صابر لوگ ہو میرے بعد تم دیکھو گے کہ معاملات و تقسیم میں تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی مجھ سے ملاقات تک صبر سے کام لینا۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب أيام التشريق/حدیث: 397]
تخریج الحدیث: «سنده مرسل لان التيمى لم يشهد تلك الواقعة و انّه تابعى»
248. (بَابُ حُكْمِ ذَبْحِ الْفَرَعِ)
(فرع ذبح کرنے کا شرعی حکم)
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان اشیاء سے اہل جاہلیت اپنے مالوں میں برکت تلاش کرتے تھے، ایک جاہلی آدمی اونٹنی یا بکری کا بچہ دودھ پینے سے پہلے ہی اس امید پر ذبح کر دیتا کہ اس کے بعد بہت برکت ہو گی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے اس کے متعلق سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرع پہلا بچہ اگر چاہو تو ذبح کر سکتے ہو۔“ انہوں نے اس غرض سے پوچھا تھا کہ جاہلیت میں ایسا کرتے تھے اسلام میں حرام نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا بچہ ذبح کرنا حرام تو نہیں (اس سے بہتر حکم دیا) یعنی اختیاری حکم بہتری والا دیا کہ اسے دودھ پلاؤ (جوان کرو) پھر جہاد کے لیے استعمال میں لاؤ۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب أيام التشريق/حدیث: Q398]