السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
249. (بَابُ حُكْمِ الْفَرَعِ وَأَفْضَلِ مَصْرِفِهِ)
(فرعہ کا حکم اور بہتر مصرف)
حدیث نمبر: 398
أَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ , عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْفَرَعَةِ، فَقَالَ:" إِنَّ الْفَرَعَةَ حَقٌّ وَأَنْ تَغْذُوَهُ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ لَبُونٍ زُخْرُبًّا فَتُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ تَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُكْفَأَ إِنَاؤُكَ وَتُولَهُ نَاقَتُكَ وَتَأْكُلَهُ، يَتَلَصَّقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَقَوْلُهُ" الْفَرَعَةُ حَقٌّ" يَعْنِي أَنَّهَا لَيْسَتْ بِبَاطِلٍ وَلَكِنَّهُ كَلامٌ عَرَبِيٌّ يَخْرُجُ عَلَى جَوَّابِ السَّائِلِ.
بنی ضمرہ کے ایک آدمی سے روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرعہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرعہ بھی حق ہے اور یہ کہ اس نوزائیدہ جانور کو چھوڑو حتی کہ جوان تنومند ہو جائے تو کسی بیوہ کو دے دو یا جہاد فی سبیل اللہ عز وجل کے لیے سواری مہیا کر دو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم (اسے ذبح کر کے دودھ کا) برتن اوندھا کر ڈالو اور اونٹنی کو بے چین کر ڈالو اور پھر اس حال میں اس کا گوشت کھاؤ کہ گوشت بالوں سے ہی چمٹا ہو۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 398]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد، الأضاحي، باب في العقيقة، رقم: 2842 وقال الالباني: حسن، سنن نسائی، باب الافرع ولا عتيرة 4230»
250. (بَابُ أَحْكَامِ الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ وَالْعَقِيقَةِ)
(احکامِ فرعہ، عتیرہ اور عقیقہ)
حدیث نمبر: 399
وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا فَرَعَةَ وَلا عَتِيرَةَ" وَلَيْسَ هَذَا بِاخْتِلافٍ مِنَ الرِّوَايَةِ إِنَّمَا هَذَا لا فَرَعَةَ وَاجِبَةٌ وَلا عَتِيرَةَ وَاجِبَةٌ وَالْحَدِيثُ الآخَرُ يَدُلُّ عَلَى مَعْنَى ذَا أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُ الذَّبْحَ وَاخْتَارَ لَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ يَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَالْعَتِيرَةُ هِيَ الرَّجِبِيَّةُ وَهِيَ ذَبِيحَةٌ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَرَّرُونَ بِهَا فِي رَجَبَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا عَتِيرَةَ" عَلَى مَعْنَى لا عَتِيرَةَ لازِمَةٌ وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ:" اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ وَأَطْعِمُوا" أَيِ اذْبَحُوا إِنْ شِئْتُمْ وَاجْعَلُوا الذَّبِيحَةَ لِلَّهِ لا لِغَيْرِهِ وَفِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ لا أَنَّهَا فِي رَجَبَ دُونَ مَا سِوَاهُ مِنَ الشُّهُورِ وَقَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَالْعَقِيقَةُ مَا عَرَفَ النَّاسُ وَهُوَ ذَبْحٌ كَانَ يُذْبَحُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَنِ الْمَوْلُودِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِسْلامِ وَقَدْ كَرِهَ مِنْهُ الاسْمَ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان فرعہ حق ہے اس کا مطلب ہے باطل نہیں ہے (گوشت حلال ہے) لیکن یہ عربی کلام سائل کے جواب کے تناظر میں کی گئی ہے ایک روایت اس طرح بھی ہے کہ اسلام میں فرعہ یا عتیرہ نام کی کوئی چیز نہیں یہ روایات کا اختلاف (تضاد) نہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اسلام میں فرعہ یا عتیرہ واجب نہیں جبکہ دوسری حدیث بتاتی ہے کہ (واجب تو نہیں لیکن) مباح ہے۔ مختار بات یہ ہے کہ (جوان کر کے) بیوہ کو یا فی سبیل اللہ دیا جائے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں عتیرہ ہی رجبیہ ہے یہ اس ذبیحہ کا نام ہے جس کی اہل جاہلیت رجب میں ذبح کرنے کی نذر مانتے اور پھر اس کو ماہ رجب میں پورا کرتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عتیرہ نہیں“ کہ عتیرہ ضروری نہیں اور ایک حدیث میں فرمایا جب عتیرہ کے بارے میں سوال ہوا کہ ”کسی بھی ماہ میں اللہ کے نام پر ذبح کرو اور (فقراء کو) کھلاؤ“ یعنی اگر چاہو تو ذبح کر سکتے ہو لیکن ذبیحہ اللہ کے نام کا کرنا ہے غیر اللہ کے نام کا نہیں اور ماہ بھی مخصوص نہیں کرنا کیونکہ وہ لوگ بقیہ مہینوں کی بجائے ماہ رجب کو خاص کر بیٹھے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقیقہ تو لوگوں کے ہاں معروف چیز ہے یہ ذبیحہ نومولود کی طرف سے اہل جاہلیت کرتے تھے تو اسلام میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا، لیکن یہ نام (لغت کے اعتبار سے) مکروہ ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 399]
تخریج الحدیث: «لا فرعة ولا عتيرة حديث صحيح، متفق علیه، انظر صحیح بخاری، العقيقة، باب الفرع رقم: 5473، صحیح مسلم الاضاحی باب الفرع والعتيرة رقم: 1976.»
251. (بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ الْعَقِيقَةِ وَأَحْكَامِهَا)
(عقیقہ کی مشروعیت اور احکام)
حدیث نمبر: 400
فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ فِي حَدِيثِهِ: فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ:" لا أُحِبُّ الْعُقُوقَ وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا كَرِهَ الاسْمَ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ".
زید بن اسلم رحمہ اللہ کی روایت میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عقوق (نا فرمانیاں) پسند نہیں کرتا“ گویا یہ نام نا پسند کیا جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اس کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کرے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 400]
تخریج الحدیث: «مؤطا امام مالك العقيقة، باب ماجاء في العقيقة، رقم: 1441، مسند احمد: 211/38، رقم: 23134 وقال الارنوؤط: حسن لغيره، وهذا اسناد ضعيف»
252. (بَابُ بَيَانِ عَدَدِ مَا يُذْبَحُ فِي الْعَقِيقَةِ)
(عقیقہ میں جانوروں کی تعداد کا بیان)
حدیث نمبر: 401
عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ بِالتَّخْفِيفِ أَسْأَلُهُ عَنْ لُحُومِ الْهَدْيِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا".
ام کرز کہتی ہیں میں حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قربانی کے گوشت کا مسئلہ پوچھنے آئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری عقیقہ ہے کوئی حرج نہیں مذکر ہوں یا مؤنث۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 401]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد، الاضاحی، باب في العقيقة رقم: 2835 وقال الالباني، مسند احمد: 113/45، رقم: 27139 وقال الارنوؤط، حديث صحيح لغيره، وصححه الحاكم: 237/4 ووافقه الذهبي.»
253. (بَابُ النَّهْيِ عَنِ الطِّيَرَةِ)
(پرندوں سے بدشگونی لینے کی ممانعت)
حدیث نمبر: 402
وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا". قَالَ وَسَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا": إِنَّ عِلْمَ الْعَرَبِ كَانَ فِي زَجْرِ الطَّيْرِ وَالْبُوارِحِ وَالْخَطِّ وَالاعْتِيَافِ، كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا غَدَا مِنْ مَنْزِلِهِ يُرِيدُ أَمْرًا نَظَرَ أَوَّلَ طَائِرٍ يَرَاهُ فَإِنْ سَنَحَ عَنْ يَسَارِهِ وَاجْتَازَ عَنَ يَمِينِهِ قَالَ: هَذِهِ طَيْرُ الأَيَامِنِ فَمَضَى فِي حَاجَتِهِ وَرَأَى أَنَّهُ سَيَسْتَنْجِحُهَا وَإِنْ سَنَحَ عَنْ يَمِينِهِ فَمَرَّ عَنْ يَسَارِهِ قَالَ: هَذِهِ طَيْرُ الأَشَائِمِ فَرَجَعَ وَقَالَ: هَذِهِ حَاجَةٌ مَشْئُومَةٌ. وَقَالَ الْحُطَيْئَةُ يَمْدَحُ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لا يَزْجُرُ الطَّيْرَ سُنُحًا إِنْ عَرَضْنَ لَهُ وَلا يُفِيضُ عَلَى قِسْمٍ بِأَزْلامِ يَعْنِي أَنَّهُ سَلَكَ طَرِيقَ الإِسْلامِ فِي التَّوَكُّلِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ بَعْضُ الشُّعَرَاءِ يَمْدَحُ نَفْسَهُ: وَلا أَنَا مِمَّنْ يَزْجُرُ الطَّيْرَ هَمَّهُ أَصَاحَ غُرَابٌ أَمْ تَعَرَّضَ ثَعْلَبُ وَكَانَ الْعَرَبِيُّ إِذَا لَمْ يَرَ طَائِرًا سَانِحًا فَرَأَى طَيْرًا فِي وَكْرِهِ حَرَّكَهُ مِنْ وَكْرِهِ لِيُطَيِّرَهُ لَيَنْظُرَهُ أَسَلَكَ طَرِيقَ الأَشَائِمِ أَوْ طَرِيقَ الأَيَامِنِ؟ فَيُشْبِهُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا" أَيْ لا تُحَرِّكُوهَا فَإِنَّ تَحْرِيكَهَا وَمَا تَعْلَمُونَ بِهِ مِنَ الطِّيَرَةِ لا يَصْنَعُ شَيْئًا وَإِنَّمَا يَصْنَعُ فِيمَا تَتَوَجَّهُونَ لَهُ قَضَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
اور ام کرز کہتی ہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے بھی سنا ہے کہ ”پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان پرندوں کو گھونسلے ٹھہرنے دو“ کا مفہوم یہ ہے کہ عرب کا علم پرندے اڑانا، ان کے دائیں بائیں (جانے کا اندازہ لگانا) لکیریں کھینچنا اور پرندوں کو ڈانٹنا تھا عر بی گھر سے کسی کام کو نکلتا تو پہلے پرندے پر نظر ڈالتا اگر پرندہ بائیں کی بجائے دائیں جانب پروان بھرتا تو عربی کہتا یہ پرندہ دائیں والا ہے تو اپنے کام پر چلا جاتا اور خیال کرتا کہ کامیاب رہے گا، اگر پرندہ دائیں کی بجائے بائیں سے گزر جاتا تو منحوس پرندہ جانتے ہوئے سفر ترک کر دیتا کہ یہ بدشگون حاجت ہے۔ حطیکہ شاعر نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مدح کرتے ہوئے کہا: ”کہ وہ کسی کام جائیں تو پرندوں کو اڑا کر بدشگونی نہیں لیتے اور نہ قسمت کے تیر نکالتے ہیں یا پھینکتے ہیں۔ یعنی اسلامی طریقے کے مطابق اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں جاہلی رسم پرندوں (سے قسمت معلوم کرنا) بدشگونی لینا چھوڑ دی۔ بعض عرب کے شعراء نے اپنی تعریف اس انداز سے کی کہ: ”میں اُن لوگوں میں سے نہیں ہوں جو پرندے اڑاتے ہیں اپنے مقاصد کے لیے (میں مقاصد سے نہیں رکتا) کوّ ابو لے یا لومڑی سامنے آئے۔“ ایک عربی کو اگر راستے میں پرندہ نہ ملے تو جا کر گھونسلے سے اڑاتا تھا تاکہ معلوم کرے راستہ منحوس رہے گا یا پر امن یہ مراد ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی کہ پرندوں کو گھونسلے میں ٹھہر نے دو حرکت نہ دو پرندوں کی حرکت میں کوئی تاثیر واختیار نہیں سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہوتا ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 402]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد،الضحايا، باب في العقيقة، رقم: 2835 وقال الالباني: ضعيف، السنن الكبرى للبيهقي: 311/9.»
254. (بَابُ حَقِيْقَةِ الطِّيَرَةِ وَالنَّهْيِ عَنْهَا)
(بدشگونی کی حقیقت اور ممانعت)
حدیث نمبر: 403
وَقَدْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطِّيَرَةِ فَقَالَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلا يَصُدَّنَّكُمْ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے الطيرة (پرندوں سے بدشگونی) کے بارے میں سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وسواس ہیں یہ تمہیں سفر سے مت روکیں۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 403]
تخریج الحدیث: «صحيح مسلم، المساجد، باب تحريم الكلام في الصلاة، رقم: 537.»
حدیث نمبر: 403M1
أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ وَالرَّبِيعُ الْمُرَادِيُّ جَمِيعًا عَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا فيهِ الشَّعْرَ الَّذِي ذَكَرَهُ الْمُزَنِيُّ. أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِيُّ، قَالَ: وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ أَبِي عِمْرَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ شُرَيْحٍ النَّقَّالَ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَمَعَنَا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، يَوْمَئِذٍ بِحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ هَذَا، فَالْتَفَتَ سُفْيَانُ إِلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فَسَأَلَهُ عَنْ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا" فَأَجَابَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِمِثْلِ هَذَا الْجَوَّابِ بِعَيْنِهِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ عَنِ الْمُزَنِيِّ عَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْبَيْتَيْنِ مِنَ الشَّعْرِ اللَّذَيْنِ ذَكَرَهُمَا الْمُزَنِيُّ فَسَكَتَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا.
0 [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 403M1]
حدیث نمبر: 403M2
أَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ , عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْفَرَعَةِ، فَقَالَ:" إِنَّ الْفَرَعَةَ حَقٌّ وَأَنْ تَغْذُوَهُ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ لَبُونٍ زُخْرُبًّا فَتُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ تَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُكْفَأَ إِنَاؤُكَ وَتُولَهُ نَاقَتُكَ وَتَأْكُلَهُ، يَتَلَصَّقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَقَوْلُهُ" الْفَرَعَةُ حَقٌّ" يَعْنِي أَنَّهَا لَيْسَتْ بِبَاطِلٍ وَلَكِنَّهُ كَلامٌ عَرَبِيٌّ يَخْرُجُ عَلَى جَوَّابِ السَّائِلِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا فَرَعَةَ وَلا عَتِيرَةَ" وَلَيْسَ هَذَا بِاخْتِلافٍ مِنَ الرِّوَايَةِ إِنَّمَا هَذَا لا فَرَعَةَ وَاجِبَةٌ وَلا عَتِيرَةَ وَاجِبَةٌ وَالْحَدِيثُ الآخَرُ يَدُلُّ عَلَى مَعْنَى ذَا أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُ الذَّبْحَ وَاخْتَارَ لَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ يَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَالْعَتِيرَةُ هِيَ الرَّجِبِيَّةُ وَهِيَ ذَبِيحَةٌ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَرَّرُونَ بِهَا فِي رَجَبَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا عَتِيرَةَ" عَلَى مَعْنَى لا عَتِيرَةَ لازِمَةٌ وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ:" اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ وَأَطْعِمُوا" أَيِ اذْبَحُوا إِنْ شِئْتُمْ وَاجْعَلُوا الذَّبِيحَةَ لِلَّهِ لا لِغَيْرِهِ وَفِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ لا أَنَّهَا فِي رَجَبَ دُونَ مَا سِوَاهُ مِنَ الشُّهُورِ وَقَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَالْعَقِيقَةُ مَا عَرَفَ النَّاسُ وَهُوَ ذَبْحٌ كَانَ يُذْبَحُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَنِ الْمَوْلُودِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِسْلامِ وَقَدْ كَرِهَ مِنْهُ الاسْمَ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ فِي حَدِيثِهِ: فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ:" لا أُحِبُّ الْعُقُوقَ وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا كَرِهَ الاسْمَ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ".
[السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 403M2]
حدیث نمبر: 403M3
عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ بِالتَّخْفِيفِ أَسْأَلُهُ عَنْ لُحُومِ الْهَدْيِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا"، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا". قَالَ وَسَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا": إِنَّ عِلْمَ الْعَرَبِ كَانَ فِي زَجْرِ الطَّيْرِ وَالْبُوارِحِ وَالْخَطِّ وَالاعْتِيَافِ، كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا غَدَا مِنْ مَنْزِلِهِ يُرِيدُ أَمْرًا نَظَرَ أَوَّلَ طَائِرٍ يَرَاهُ فَإِنْ سَنَحَ عَنْ يَسَارِهِ وَاجْتَازَ عَنَ يَمِينِهِ قَالَ: هَذِهِ طَيْرُ الأَيَامِنِ فَمَضَى فِي حَاجَتِهِ وَرَأَى أَنَّهُ سَيَسْتَنْجِحُهَا وَإِنْ سَنَحَ عَنْ يَمِينِهِ فَمَرَّ عَنْ يَسَارِهِ قَالَ: هَذِهِ طَيْرُ الأَشَائِمِ فَرَجَعَ وَقَالَ: هَذِهِ حَاجَةٌ مَشْئُومَةٌ. وَقَالَ الْحُطَيْئَةُ يَمْدَحُ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لا يَزْجُرُ الطَّيْرَ سُنُحًا إِنْ عَرَضْنَ لَهُ وَلا يُفِيضُ عَلَى قِسْمٍ بِأَزْلامِ يَعْنِي أَنَّهُ سَلَكَ طَرِيقَ الإِسْلامِ فِي التَّوَكُّلِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ بَعْضُ الشُّعَرَاءِ يَمْدَحُ نَفْسَهُ: وَلا أَنَا مِمَّنْ يَزْجُرُ الطَّيْرَ هَمَّهُ أَصَاحَ غُرَابٌ أَمْ تَعَرَّضَ ثَعْلَبُ وَكَانَ الْعَرَبِيُّ إِذَا لَمْ يَرَ طَائِرًا سَانِحًا فَرَأَى طَيْرًا فِي وَكْرِهِ حَرَّكَهُ مِنْ وَكْرِهِ لِيُطَيِّرَهُ لَيَنْظُرَهُ أَسَلَكَ طَرِيقَ الأَشَائِمِ أَوْ طَرِيقَ الأَيَامِنِ؟ فَيُشْبِهُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا" أَيْ لا تُحَرِّكُوهَا فَإِنَّ تَحْرِيكَهَا وَمَا تَعْلَمُونَ بِهِ مِنَ الطِّيَرَةِ لا يَصْنَعُ شَيْئًا وَإِنَّمَا يَصْنَعُ فِيمَا تَتَوَجَّهُونَ لَهُ قَضَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَدْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطِّيَرَةِ فَقَالَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلا يَصُدَّنَّكُمْ". أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ وَالرَّبِيعُ الْمُرَادِيُّ جَمِيعًا عَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا فيهِ الشَّعْرَ الَّذِي ذَكَرَهُ الْمُزَنِيُّ. أَخْبَرَنَا الطَّحَاوِيُّ، قَالَ: وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ أَبِي عِمْرَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ شُرَيْحٍ النَّقَّالَ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَمَعَنَا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، يَوْمَئِذٍ بِحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ هَذَا، فَالْتَفَتَ سُفْيَانُ إِلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فَسَأَلَهُ عَنْ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا" فَأَجَابَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِمِثْلِ هَذَا الْجَوَّابِ بِعَيْنِهِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ عَنِ الْمُزَنِيِّ عَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْبَيْتَيْنِ مِنَ الشَّعْرِ اللَّذَيْنِ ذَكَرَهُمَا الْمُزَنِيُّ فَسَكَتَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا.
[السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 403M3]
255. (بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ وَدُخُولِ شَهْرِ رَمَضَانَ)
(رویت ہلال اور آغازِ رمضان)
حدیث نمبر: 404
أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنَّ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ". وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَصُومُ قَبْلَهُ بِيَوْمٍ فَقُلْتُ: تَتَقَدَّمُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ نہ رکھو حتی کہ رمضان کا چاند دیکھ لو اور افطار نہ کرو حتی کہ عید کا چاند دیکھ لو اگر آسمان ابر آلود ہو تو تمہیں روزے پورے کرو۔“ راوی کہتے ہیں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایک دن پہلے روزہ رکھتے تھے راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا استقبالیہ؟ استاذ نے جواب دیا ہاں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب تفسير الفرعة والعتيرة/حدیث: 404]
تخریج الحدیث: «تقدم تخرجه برقم 335.»