السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
373. (بَابُ حُكْمِ عِتْقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ)
(مشترکہ غلام کی آزادی کا حکم)
حدیث نمبر: 550
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَانَ عَبْدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا فَإِنَّهُ يُقَوَّمُ عَلَيْهِ بِأَعْلَى الْقِيمَةِ وَيَعْتِقُ". قَالَ سُفْيَانُ: وَرُبَّمَا قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: قِيمَةٌ لا وَكْسَ فِيهَا وَلا شَطَطَ.
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو بندوں کا مشترکہ غلام ہو ایک اپنا حصہ آزاد کر دے اگر آزاد کرنے والا مالدار ہے تو غلام کی اعلیٰ قیمت لگائی جائے گی۔ اور اس کو (پہلے) کی طرف سے آزاد کر دیا جائے گا۔“ عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں قیمت لگانے میں نہ کمی کی جائے گی نہ زیادتی۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أعتق شركاً له في عبد/حدیث: 550]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، العتق، باب اذا اعتق عبدا بين اثنين او امة بين الشركاء، رقم: 2521؛ صحیح مسلم، الأيمان والنذور، باب من اعتق شركاً له فى عبد، رقم: 501.»
حدیث نمبر: 551
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ الْعَدْلِ فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلا فَقَدْ عَتَقَ عَلَيْهِ مَا عَتَقَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنا حصہ آزاد کر دیا اور اس کے پاس مال ہے جس سے بقیہ حصص بھی آزاد کیے جا سکتے ہیں تو غلام کی قیمت لگائی جائے گی وہی آدمی بقیہ شرکاء کو رقم ادا کر کے اپنی طرف سے پورا غلام آزاد کرے اگر مال نہیں تو پھر غلام اتنا ہی آزاد متصور ہوگا جتنا اس نے آزاد کیا۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أعتق شركاً له في عبد/حدیث: 551]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، العتق، باب اذا اعتق عبدا بين اثنين الخ، رقم: 2522؛ صحیح مسلم، الأيمان والنذور، باب من اعتق شركاً له في عبد، رقم: 1501.»
374. (بَابُ مَعْرِفَةِ الْإِيمَانِ وَالرُّسُومِ الْجَاهِلِيَّةِ)
(ایمان کی پہچان اور جاہلی رسوم)
حدیث نمبر: 552
عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ جَارِيَةً لِي كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَفُقِدَتْ شَاةٌ مِنَ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا، فَقَالَتْ: أَكَلَهَا الذِّئْبُ، فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا، وَكُنْتُ امْرَأً مِنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ اللَّهُ؟" فَقَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، فَقَالَ:" مَنْ أَنَا؟" فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَعْتِقْهَا"، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْحَكَمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْيَاءٌ كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ: كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلا تَأْتُوا الْكُهَّانَ"، فَقَالَ عُمَرُ: وَكُنَّا نَتَطَيَّرُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلا يَصُدَّنَّكُمْ". قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُسَمِّي هَذَا الرَّجُلَ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ وَإِنَّمَا هُوَ مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ. قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: هُوَ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ. وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: مَالِكٌ يَقُولُ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ هِلالَ بْنَ أُسَامَةَ، وَإِنَّمَا هُوَ هِلالُ بْنُ عَلِيٍّ غَيْرَ أَنَّ قَائِلا قَالَ: هُوَ هِلالُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أُسَامَةَ فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَإِنَّمَا نَسَبَهُ مَالِكٌ إِلَى جَدِّهِ.
سیدنا عمر بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک لونڈی بکریاں چراتی تھی میں اس کے پاس گیا تو ایک بکری غائب تھی میں نے اس بکری کے متعلق دریافت کیا تو اس نے کہا بکری بھیڑیا کھا گیا ہے، مجھے اس پر انتہائی افسوس ہوا (کیونکہ) میں بھی بنی آدم سے ہوں میں نے اس لونڈی کے چہرے پر تھپڑ مار دیا میں نے غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی کیا اس کو آزاد کر دوں؟ (تو اس لونڈی کو لایا گیا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟“ کہنے لگی: ”آسمانوں پر ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ تو اس نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دے۔“ تو عمر بن حکم رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کچھ کام ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے ہم غیب کی باتیں بتانے والوں کے پاس جایا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس (اسلام کے بعد) مت جاؤ۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم پرندوں کے ذریعے قسمت بھی معلوم کیا کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وسوسہ ہے جو تمہارے دلوں میں آتا ہے پرندے اور بدشگونیاں تمہیں کسی کام سے نہ روکیں۔“ امام مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: امام مالک رحمہ اللہ اس کا نام عمر بن حکم رضی اللہ عنہ بتاتے تھے حالانکہ یہ معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ تھے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أعتق شركاً له في عبد/حدیث: 552]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، المساجد، باب تحريم الكلام في الصلاة رقم: 537.»
375. (بَابُ اشْتِرَاكِ سَبْعَةٍ فِي الْأُضْحِيَّةِ)
(قربانی میں سات افراد کی شراکت)
حدیث نمبر: 553
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ:" نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر اونٹ اور گائے سات سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أعتق شركاً له في عبد/حدیث: 553]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد، الاضاحی، باب في البقر والجزور عن كم تجزئ، رقم: 2809 وقال الالبانی صحیح؛ سنن ترمذى، الحج، باب ماجاء في الاشتراك ..... الخ، رقم: 904 وقال: حسن صحيح.»
376. (بَابُ حُكْمِ الْأُضْحِيَّةِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِيدِ)
(نماز عید کے بعد قربانی کا حکم)
حدیث نمبر: 554
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ، يَقُولُ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلِمَ أَنَّ نَاسًا ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلاةِ، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاةِ فَلْيُعِدْ ذَبِيحَتَهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ".
سیدنا جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں شریک ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ کچھ لوگوں نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز سے قبل قربانی کی وہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے قربانی نہیں کی وہ (نماز کے بعد) اللہ کے نام پر ذبح کرے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أعتق شركاً له في عبد/حدیث: 554]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، الاضاحی، باب وقتها، رقم: 1960.»
377. (بَابُ النَّهْيِ عَنِ الذَّبْحِ قَبْلَ صَلَاةِ الْعِيدِ)
(نمازِ عید سے قبل قربانی کی ممانعت)
حدیث نمبر: 555
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أنَّ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَضْحَى فَزَعَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ لِضَحِيَّةٍ أُخْرَى، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: لا أَجِدُ إِلا جَذَعًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلا جَذَعًا فَاذْبَحْهُ".
بشیر بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کرنے سے قبل ہی (یعنی نماز سے پہلے) عید الاضحی کے موقع پر قربانی کر دی تو لوگوں کا خیال ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ قربانی کا حکم دیا جس پر ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میرے پاس تو ایک سال کا جانور ہی بچا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تجھے اور کوئی میسر نہ آئے تو ایک سال کا جانور ہی ذبح کر لے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أعتق شركاً له في عبد/حدیث: 555]
تخریج الحدیث: «سنن نسائی، الضحايا، باب ذبح الضحية قبل الامام، رقم: 4397 وقال الالباني: صحيح الاسناد؛ مسند احمد: 151/25، رقم: 15830 وقال الارنوؤط: حديث صحيح وهذا اسناد رجاله ثقات.»
حدیث نمبر: 556
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ يَوْمَ الأَضْحَى وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ بِضَحِيَّةٍ أُخْرَى".
عباد بن تمیم رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا عویمر بن اشقر رضی اللہ عنہ نے عید الاضحی ادا کرنے سے پہلے ہی قربانی کر دی جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ قربانی کا حکم دیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أعتق شركاً له في عبد/حدیث: 556]
تخریج الحدیث: «انظر ما بعده، برقم: 557.»
حدیث نمبر: 557
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ، أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنِ انْصَرَفَ" فَزَعَمَ أَنَّهُ أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ بِأُضْحِيَّةٍ".
سیدنا عباد بن تمیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا عویمر بن اشقر رضی اللہ عنہ نے نماز عید کے لیے نکلنے سے قبل ہی قربانی کر دی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أعتق شركاً له في عبد/حدیث: 557]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجه، الاضاحي، باب النهي عن ذبح الاضحية قبل الصلاة، رقم: 3153، وقال الالباني: صحيح، مسند احمد: 41/25، رقم: 15762 وقال الارنوؤط: حديث صحيح لغيره.»
حدیث نمبر: 558
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ النَّحْرِ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" لا يَذْبَحَنَّ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُصَلِّيَ"، قَالَ: فَقَامَ خَالِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَقْرُومٌ، وَإِنِّي ذَبَحْتُ نَسِيكَتِي فَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ فَعَلْتَ فَأَعِدْ ذَبْحًا آخَرَ" فَقَالَ: عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَقَالَ:" هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ وَلَنْ تُجْزِئَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: أَظُنُّ أَنَّهَا مَاعِزٌ. قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَالْعَنَاقُ هِيَ مَاعِزٌ كَمَا قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ، إِنَّمَا يُقَالُ لِلضَّانِيَةِ: رِخْلٌ. وَقَوْلُهُ: هِيَ خَيْرٌ نَسِيكَتَيْكَ: أَنَّكَ ذَبَحْتَهُمَا تَنْوِي بِهِمَا نَسِيكَتَيْنِ فَلَمَّا قَدَّمْتَ الأُولَى قَبْلَ وَقْتِ الذَّبْحِ كَانَتِ الآخِرَةُ هِيَ النَّسِيكَةُ وَالأُولَى غَيْرَ نَسِيكَةٍ وَإِنْ نَوَيْتَ بِهَا النَّسِيكَةَ. وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ" يَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا لَهُ خَاصَّةً وَقَوْلُهُ: عَنَاقُ لَبَنٍ يَعْنِي عَنَاقًا تُقْتَنَى لِلَّبَنِ لا لِلذَّبْحِ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی والے دن خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا: ”نماز ادا کرنے سے قبل ہرگز قربانی نہ کرنا۔“ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے ماموں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آج کے دن گوشت سے جی بھر جاتا ہے۔ میں تو اپنی قربانی کر آیا ہوں جس سے میں نے گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو کھلایا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ایسا کر لیا ہے تو اس کی جگہ دوسری قربانی کرو۔“ ماموں کہنے لگے میرے پاس ایک سالہ دودھ پیتی (کھیری) بکری ہے وہ گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہاری بہترین قربانی ہے (اس کی قربانی کرلو) لیکن تمہارے بعد کسی کو ایک سالہ جانور قربانی کرنا کافی نہیں ہوگا۔“ راوی عبدالوہاب کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ وہ بکری کا بچہ تھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ عناق کا معنی بکری کی بچی ہے جیسا کہ راوی عبدالوہاب نے کہا، ”ضائیہ کو درخل“ کہا جاتا ہے دو بکریوں سے بہتر کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے دو بکریاں ذبح کی ایک نماز سے پہلے جو قربانی شمار نہ ہوئی جبکہ دوسری نماز کے بعد ذبح کی تو دونوں میں سے بہتر بعد والی ہوئی کیونکہ وہ قربانی شمار ہوئی ہے، تیرے بعد کسی کو کفایت نہ کرے گی کا مطلب ہے یہ اُن کے ساتھ خاص تھی اور دودھ والی بکری سے مراد ہے کہ وہ بکری دودھ کے مقصد کے لیے رکھی تھی نہ کہ ذبح کرنے کے لیے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أعتق شركاً له في عبد/حدیث: 558]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، الأضاحي، باب وقتها، رقم: 1961.»
378. (بَابُ الدُّعَاءِ بِالْبَرَكَةِ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ)
(خرید و فروخت میں برکت کی دعا)
حدیث نمبر: 559
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، سَمِعَ الْحَيَّ، يَقُولُونَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى عُرْوَةَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيَّ دِينَارًا يَشْتَرِيَ لَهُ بِهِ شَاةً أَوْ أُضْحِيَّةً، قَالَ: فَاشْتَرَيْتُ لَهُ بِهِ شَاتَيْنِ فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِشَاةٍ وَدِينَارٍ، قَالَ:" فَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ فِي الْبَيْعِ"، فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى تُرَابًا لَرَبِحَ فِيهِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عروہ بن ابی جعد بارقی رضی اللہ عنہ کو ایک دینار دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قربانی کی بکری خرید لائے عروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دینار کی دو بکریاں خریدیں (پھر منڈی میں ہی) ایک بکری ایک دینار کی فروخت کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بکری بھی لے آیا اور دینار بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے خرید و فروخت میں برکت کی دعا فرمائی اس کے بعد اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو انہیں اس میں بھی نفع ہوتا۔ (یعنی جو بھی خریدتے برکت ہوتی) [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أعتق شركاً له في عبد/حدیث: 559]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد، البيوع، باب فی المضارب يخالف، رقم: 3384 وقال الالباني: صحيح، سنن ابن ماجه، الصدقات، باب الأميين يتجر فيه فيربح، رقم: 2402.»