صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَنْ رَجَعَ الْقَهْقَرَى فِي صَلاَتِهِ، أَوْ تَقَدَّمَ بِأَمْرٍ يَنْزِلُ بِهِ:
باب: جو شخص نماز میں الٹے پاؤں پیچھے سرک جائے یا آگے بڑھ جائے کسی حادثہ کی وجہ سے تو نماز فاسد نہ ہو گی۔
حدیث نمبر: 1205
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , قَالَ يُونُسُ , قَالَ الزُّهْرِيُّ , أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ،" أَنَّ الْمُسْلِمِينَ بَيْنَا هُمْ فِي الْفَجْرِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُصَلِّي بِهِمْ، فَفَجِأَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ صُفُوفٌ، فَتَبَسَّمَ يَضْحَكُ فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَهَمَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي صَلَاتِهِمْ فَرَحًا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَوْهُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا ثُمَّ دَخَلَ الْحُجْرَةَ وَأَرْخَى السِّتْرَ وَتُوُفِّيَ ذَلِكَ الْيَوْمَ".
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، انہیں امام عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ پیر کے روز مسلمان ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کا پردہ ہٹائے ہوئے دکھائی دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ صحابہ صف باندھے کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھل کر مسکرا دیئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے ہٹے۔ انہوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لائیں گے اور مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ کر اس درجہ خوش ہوئے کہ نماز ہی توڑ ڈالنے کا ارادہ کر لیا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارہ سے ہدایت کی کہ نماز پوری کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ڈال دیا اور حجرے میں تشریف لے گئے۔ پھر اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1205]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ پیر کے دن نمازِ فجر میں مشغول تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے، اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے سے پردہ اٹھایا اور لوگوں کی طرف دیکھا جبکہ وہ نماز میں صف بستہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے ہنسے، یہ منظر دیکھ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے واپس ہوئے اور یہ خیال کیا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لانے کا ارادہ رکھتے ہیں، مسلمانوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اس قدر خوش ہوئے کہ نماز ہی کو توڑ ڈالنے کا ارادہ کر لیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے اشارہ فرمایا کہ ”نماز کو پورا کرو“، پھر حجرے میں تشریف لے گئے اور پردہ لٹکا دیا اور اس روز اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1205]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
7. بَابُ إِذَا دَعَتِ الأُمُّ وَلَدَهَا فِي الصَّلاَةِ:
باب: اگر کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کی ماں اس کو بلائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1206
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ , قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَادَتِ امْرَأَةٌ ابْنَهَا وَهُوَ فِي صَوْمَعَةٍ , قَالَتْ: يَا جُرَيْجُ، قَالَ: اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي، قَالَتْ: يَا جُرَيْجُ، قَالَ: اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي، قَالَتْ: يَا جُرَيْجُ، قَالَ: اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي، قَالَتْ: اللَّهُمَّ لَا يَمُوتُ جُرَيْجٌ حَتَّى يَنْظُرَ فِي وُجُوهِ الْمَيَامِيسِ، وَكَانَتْ تَأْوِي إِلَى صَوْمَعَتِهِ رَاعِيَةٌ تَرْعَى الْغَنَمَ فَوَلَدَتْ، فَقِيلَ لَهَا: مِمَّنْ هَذَا الْوَلَدُ؟ قَالَتْ: مِنْ جُرَيْجٍ، نَزَلَ مِنْ صَوْمَعَتِهِ، قَالَ جُرَيْجٌ: أَيْنَ هَذِهِ الَّتِي تَزْعُمُ أَنَّ وَلَدَهَا لِي؟ قَالَ: يَا بَابُوسُ مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: رَاعِي الْغَنَمِ
اور لیث بن سعد نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، (بنی اسرائیل کی) ایک عورت نے اپنے بیٹے کو پکارا، اس وقت وہ عبادت خانے میں تھا۔ ماں نے پکارا کہ اے جریج! جریج (پس و پیش میں پڑ گیا اور دل میں) کہنے لگا کہ اے اللہ! میں اب ماں کو دیکھوں یا نماز کو۔ پھر ماں نے پکارا: اے جریج! (وہ اب بھی اس پس و پیش میں تھا) کہ اے اللہ! میری ماں اور میری نماز! ماں نے پھر پکارا: اے جریج! (وہ اب بھی یہی) سوچے جا رہا تھا۔ اے اللہ! میری ماں اور میری نماز! (آخر) ماں نے تنگ ہو کر بددعا کی اے اللہ! جریج کو موت نہ آئے جب تک وہ فاحشہ عورت کا چہرہ نہ دیکھ لے۔ جریج کی عبادت گاہ کے قریب ایک چرانے والی آیا کرتی تھی جو بکریاں چراتی تھی۔ اتفاق سے اس کے بچہ پیدا ہوا۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ کس کا بچہ ہے؟ اس نے کہا کہ جریج کا ہے۔ وہ ایک مرتبہ اپنی عبادت گاہ سے نکل کر میرے پاس رہا تھا۔ جریج نے پوچھا کہ وہ عورت کون ہے؟ جس نے مجھ پر تہمت لگائی ہے کہ اس کا بچہ مجھ سے ہے۔ (عورت بچے کو لے کر آئی تو) انہوں نے بچے سے پوچھا کہ بچے! تمہارا باپ کون؟ بچہ بول پڑا کہ ایک بکری چرانے والا گڈریا میرا باپ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1206]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عورت نے اپنے بیٹے کو آواز دی جبکہ وہ اپنے عبادت خانے میں (مصروف عبادت) تھا، اس نے کہا: اے جریج! جریج نے (دل میں) کہا: اے اللہ! ایک طرف میری والدہ ہے، دوسری طرف میری نماز ہے۔ وہ پھر بولی: اے جریج! جریج گویا ہوا: یا اللہ! میری والدہ اور میری نماز، میں کسے اختیار کروں؟ اس عورت نے تیسری مرتبہ پکارا: اے جریج! اس نے پھر وہی کہا: یا اللہ! ادھر میری والدہ ہے، ادھر میری نماز ہے۔ (بہرحال اس نے نماز کو نہ چھوڑا تو) ماں نے بددعا کی: اے اللہ! جریج کو موت نہ آئے جب تک وہ بدمعاش عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے، چنانچہ اس کے عبادت خانے کے پاس ایک بکریاں چرانے والی عورت ٹھہرا کرتی تھی۔ اس نے ایک بچے کو جنم دیا تو اس سے کہا گیا: یہ بچہ کس شخص کا ہے؟ وہ کہنے لگی: (نومولود) جریج سے ہے۔ وہ یہ الزام سن کر اپنے عبادت خانے سے نیچے اترا اور کہنے لگا: وہ عورت کہاں ہے جو دعویٰ کرتی ہے کہ یہ بچہ مجھ سے ہے؟ جریج نے بچے کو مخاطب کر کے کہا: اے شیر خوار! تیرا باپ کون ہے؟ اس نے کہا: میرا باپ بکریاں چرانے والا ایک گڈریا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1206]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
8. بَابُ مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلاَةِ:
باب: نماز میں کنکری اٹھانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1207
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ، قَالَ: إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے معیقیب بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے جو ہر مرتبہ سجدہ کرتے ہوئے کنکریاں برابر کرتا تھا فرمایا اگر ایسا کرنا ہے تو صرف ایک ہی بار کر۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1207]
حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا جو دورانِ نماز سجدے کی جگہ پر مٹی ہموار کر رہا تھا: ”اگر تم یہ کرنا ہی چاہتے ہو تو ایک دفعہ کر لو (اس سے زیادہ نہ کرو)۔“ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1207]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
9. بَابُ بَسْطِ الثَّوْبِ فِي الصَّلاَةِ لِلسُّجُودِ:
باب: نماز میں سجدہ کے لیے کپڑا بچھانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1208
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا غَالِبٌ الْقَطَّانُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ وَجْهَهُ مِنَ الْأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غالب بن قطان نے بیان کیا، ان سے بکر بن عبداللہ مزنی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ہم سخت گرمیوں میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے اور چہرے کو زمین پر پوری طرح رکھنا مشکل ہو جاتا تو اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1208]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم سخت گرمی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھتے تھے، جب ہم میں سے کسی کو زمین پر اپنا چہرہ رکھنے کی ہمت نہ ہوتی تو وہ زمین پر اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کر لیتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1208]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
10. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْعَمَلِ فِي الصَّلاَةِ:
باب: نماز میں کون کون سے کام درست ہیں؟
حدیث نمبر: 1209
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" كُنْتُ أَمُدُّ رِجْلِي فِي قِبْلَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَرَفَعْتُهَا، فَإِذَا قَامَ مَدَدْتُهَا".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے ابوالنضر سالم بن ابی امیہ نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں اپنا پاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پھیلا لیتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنے لگتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہاتھ لگاتے، میں پاؤں سمیٹ لیتی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے تو میں پھیلا لیتی۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1209]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب (رات کے وقت) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تو میں آپ کی طرف پاؤں پھیلا کر لیٹی رہتی، جب آپ سجدہ کرتے تو میرا پاؤں دبا دیتے، میں انہیں اٹھا لیتی اور جب آپ کھڑے ہو جاتے تو میں پھر پاؤں دراز کر لیتی۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1209]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1210
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةً , قَالَ:" إِنَّ الشَّيْطَانَ عَرَضَ لِي فَشَدَّ عَلَيَّ لِيَقْطَعَ الصَّلَاةَ عَلَيَّ فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ، فَذَعَتُّهُ وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أُوثِقَهُ إِلَى سَارِيَةٍ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ , فَذَكَرْتُ قَوْلَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَام: رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي، فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِيًا"، ثُمَّ قَالَ: النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ فَذَعَتُّهُ بِالذَّالِ أَيْ خَنَقْتُهُ وَفَدَعَّتُّهُ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ: يَوْمَ يُدَعُّونَ سورة الطور آية 13 أَيْ يُدْفَعُونَ وَالصَّوَابُ فَدَعَتُّهُ إِلَّا أَنَّهُ كَذَا قَالَ بِتَشْدِيدِ الْعَيْنِ وَالتَّاءِ.
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شبابہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک نماز پڑھی پھر فرمایا کہ میرے سامنے ایک شیطان آ گیا اور کوشش کرنے لگا کہ میری نماز توڑ دے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو میرے قابو میں کر دیا میں نے اس کا گلا گھونٹا یا اس کو دھکیل دیا۔ آخر میں میرا ارادہ ہوا کہ اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دوں اور جب صبح ہو تو تم بھی دیکھو۔ لیکن مجھے سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی ”اے اللہ! مجھے ایسی سلطنت عطا کیجیو جو میرے بعد کسی اور کو نہ ملے“ (اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا) اور اللہ تعالیٰ نے اسے ذلت کے ساتھ بھگا دیا۔ اس کے بعد نضر بن شمیل نے کہا کہ «ذعته» ”ذال“ سے ہے۔ جس کے معنی ہیں کہ میں نے اس کا گلا گھونٹ دیا اور «دعته» اللہ تعالیٰ کے اس قول سے لیا گیا ہے۔ «يوم يدعون» جس کے معنی ہیں قیامت کے دن وہ دوزخ کی طرف دھکیلے جائیں گے۔ درست پہلا ہی لفظ ہے۔ البتہ شعبہ نے اسی طرح ”عین“ اور ”تاء“ کی تشدید کے ساتھ بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1210]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ نماز پڑھی تو فرمایا: ”شیطان نے میرے سامنے آ کر مجھ پر حملہ کر دیا تاکہ میری نماز خراب کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے جب مجھے اس پر قدرت دی تو میں نے اسے گردن سے دبوچ لیا۔ میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اسے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح تم لوگ بھی اسے دیکھ لو لیکن مجھے حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی: ﴿رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي﴾ [سورة ص: 35] ”اے اللہ! مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لیے نہ ہو۔“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے ناکام و بے مراد واپس کر دیا۔“ پھر نضر بن شمیل نے کہا: یہ لفظ «فَذَعَتُّهُ» ذال کے ساتھ ہے، یعنی میں نے اس کا گلا گھونٹ دیا اور لفظ «دَعَتُّهُ» اللہ تعالیٰ کے اس قول سے ماخوذ ہے: ﴿يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ [سورة الطور: 13] ”قیامت کے دن وہ دوزخ کی طرف دھکیل دیے جائیں گے۔“ لیکن پہلا لفظ ہی درست ہے، البتہ راویِ حدیث شعبہ رحمہ اللہ نے اسے عین اور تاء کی تشدید کے ساتھ بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1210]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
11. بَابُ إِذَا انْفَلَتَتِ الدَّابَّةُ فِي الصَّلاَةِ:
باب: اگر آدمی نماز میں ہو اور اس کا جانور بھاگ پڑے۔
حدیث نمبر: Q1211
وَقَالَ قَتَادَةُ: إِنْ أُخِذَ ثَوْبُهُ يَتْبَعُ السَّارِقَ وَيَدَعُ الصَّلَاةَ.
اور قتادہ نے کہا کہ اگر کسی کا کپڑا چور لے بھاگے تو اس کے پیچھے دوڑے اور نماز چھوڑ دے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: Q1211]
حدیث نمبر: 1211
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ: كُنَّا بِالْأَهْوَازِ نُقَاتِلُ الْحَرُورِيَّةَ فَبَيْنَا أَنَا عَلَى جُرُفِ نَهَرٍ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَإِذَا لِجَامُ دَابَّتِهِ بِيَدِهِ، فَجَعَلَتِ الدَّابَّةُ تُنَازِعُهُ وَجَعَلَ يَتْبَعُهَا، قَالَ شُعْبَةُ هُوَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ، فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنْ الْخَوَارِجِ , يَقُولُ: اللَّهُمَّ افْعَلْ بِهَذَا الشَّيْخِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ الشَّيْخُ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ قَوْلَكُمْ وَإِنِّي غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَثَمَانِيَ وَشَهِدْتُ تَيْسِيرَهُ، وَإِنِّي إِنْ كُنْتُ أَنْ أُرَاجِعَ مَعَ دَابَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَدَعَهَا تَرْجِعُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقُّ عَلَيَّ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ارزق بن قیس نے بیان کیا، کہا کہ ہم اہواز میں (جو کئی بستیاں ہیں بصرہ اور ایران کے بیچ میں) خارجیوں سے جنگ کر رہے تھے۔ ایک بار میں نہر کے کنارے بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک شخص (ابوبرزہ صحابی رضی اللہ عنہ) آیا اور نماز پڑھنے لگا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ان کے گھوڑے کی لگام ان کے ہاتھ میں ہے۔ اچانک گھوڑا ان سے چھوٹ کر بھاگنے لگا۔ تو وہ بھی اس کا پیچھا کرنے لگے۔ شعبہ نے کہا یہ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ دیکھ کر خوارج میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ اے اللہ! اس شیخ کا ناس کر۔ جب وہ شیخ واپس لوٹے تو فرمایا کہ میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات یا آٹھ جہادوں میں شرکت کی ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آسانیوں کو دیکھا ہے۔ اس لیے مجھے یہ اچھا معلوم ہوا کہ اپنا گھوڑا ساتھ لے کر لوٹوں نہ کہ اس کو چھوڑ دوں وہ جہاں چاہے چل دے اور میں تکلیف اٹھاؤں۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1211]
حضرت ازرق بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم علاقہ اہواز میں خارجیوں سے مصروفِ جنگ تھے۔ میں نہر کے کنارے پر تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنی سواری کی لگام ہاتھ میں تھامے نماز پڑھ رہا ہے۔ دریں اثنا اس کی سواری شوخی کرنے لگی تو وہ بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔ شعبہ نے کہا: وہ شخص حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔ انہیں دیکھ کر خارجیوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ! تو اس بوڑھے کو ایسا ایسا کر دے۔ جب شیخ محترم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی ہے۔ دراصل میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چھ، سات یا آٹھ جنگوں میں شرکت کی ہے۔ میں نے لوگوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سہولت اور آسانی کو دیکھا ہے، اس لیے مجھے اپنی سواری کے ہمراہ رہنا اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں اسے چھوڑ دوں اور وہ اپنے اصطبل میں چلی جائے، پھر مجھے تکلیف ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1211]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1212
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ , قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةً:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ سُورَةً طَوِيلَةً ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ بِسُورَةٍ أُخْرَى، ثُمَّ رَكَعَ حَتَّى قَضَاهَا وَسَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الثَّانِيَةِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يُفْرَجَ عَنْكُمْ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُهُ، حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُ أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، وَرَأَيْتُ فِيهَا عَمْرَو بْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ".
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ جب سورج گرہن لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے اور ایک لمبی سورت پڑھی۔ پھر رکوع کیا اور بہت لمبا رکوع کیا۔ پھر سر اٹھایا اس کے بعد دوسری سورت شروع کر دی، پھر رکوع کیا اور رکوع پورا کر کے اس رکعت کو ختم کیا اور سجدے میں گئے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اس لیے جب تم ان میں گرہن دیکھو تو نماز شروع کر دو جب تک کہ یہ صاف ہو جائے اور دیکھو میں نے اپنی اسی جگہ سے ان تمام چیزوں کو دیکھ لیا ہے جن کا مجھ سے وعدہ ہے۔ یہاں تک کہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ میں جنت کا ایک خوشہ لینا چاہتا ہوں۔ ابھی تم لوگوں نے دیکھا ہو گا کہ میں آگے بڑھنے لگا تھا اور میں نے دوزخ بھی دیکھی (اس حالت میں کہ) بعض آگ بعض آگ کو کھائے جا رہی تھی۔ تم لوگوں نے دیکھا ہو گا کہ جہنم کے اس ہولناک منظر کو دیکھ کر میں پیچھے ہٹ گیا تھا۔ میں نے جہنم کے اندر عمرو بن لحیی کو دیکھا۔ یہ وہ شخص ہے جس نے سانڈ کی رسم عرب میں جاری کی تھی۔ (نوٹ: سانڈ کی رسم سے مراد کہ اونٹنی کو غیر اللہ کے نام پر چھوڑ دینا حتیٰ کہ سواری اور دودھ بھی نہ دھونا۔) [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1212]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ نے ایک طویل سورت پڑھی، پھر طویل رکوع کیا۔ اس کے بعد اپنا سر مبارک اٹھایا اور دوسری سورت پڑھنا شروع کر دی۔ پھر رکوع کیا اور اچھی طرح اسے ادا کیا۔ اس کے بعد سجدہ فرمایا۔ پھر آپ نے اسی طرح دوسری رکعت ادا کی، پھر فرمایا: ”یہ دونوں (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم ان حالات سے دوچار ہو جاؤ تو نماز پڑھو تاآنکہ گرہن ختم ہو جائے۔ یقیناً میں نے اس مقام پر کھڑے ہر چیز کو دیکھا ہے جس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا حتیٰ کہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ میں جنت کے انگوروں سے ایک خوشہ توڑنے کا ارادہ کر رہا ہوں، جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا۔ اسی طرح میں نے جہنم کو بھی دیکھا کہ اس کے شعلے ایک دوسرے کو توڑ رہے ہیں، جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا۔ میں نے جہنم میں عمرو بن لحی کو بھی دیکھا جس نے بتوں کے نام پر جانور وقف کرنے کا طریقہ رائج کیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: 1212]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
12. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْبُصَاقِ وَالنَّفْخِ فِي الصَّلاَةِ:
باب: اس بارے میں کہ نماز میں تھوکنا اور پھونک مارنا کہاں تک جائز ہے؟
حدیث نمبر: Q1213
وَيُذْكَرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو نَفَخَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُجُودِهِ فِي كُسُوفٍ.
اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے گرہن کی حدیث میں منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز میں سجدے میں پھونک ماری۔ [صحيح البخاري/كتاب العمل في الصلاة/حدیث: Q1213]