🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ فِي الْخَبَرِ فِي صِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ
باب: ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے والی حدیث کے سلسلہ میں موسیٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2432
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِهَذِهِ الْأَيَّامِ الثَّلَاثِ الْبِيضِ , وَيَقُولُ: هُنَّ صِيَامُ الشَّهْرِ".
قتادہ بن ملحان (ابن منہال) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیض کے ان تینوں دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے، اور فرماتے تھے: ”یہ مہینے بھر کے روزے کے برابر ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2432]
حضرت عبدالملک رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاندنی راتوں والے تین دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے: ”یہ تین روزے (ثواب کے لحاظ سے) مہینے بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم68 (2449)، سنن ابن ماجہ/الصوم29 (1707)، (تحفة الأشراف: 11071)، مسند احمد 4/165، 275، 28 (صحیح) (شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ’’عبدالملک بن قتادہ بن المنھال‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2449) ابن ماجه (1707) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2433
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي الْمِنْهَالِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ الْبِيضِ، قَالَ: هِيَ صَوْمُ الشَّهْرِ".
ابوالمنہال قتادہ بن ملحان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام بیض کے تین روزے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ مہینہ بھر کے روزے کے برابر ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2433]
حضرت عبدالملک بن ابومنہال اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چاندنی راتوں والے تین دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ مہینے بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2432 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (2432) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2434
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ مِلْحَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِصَوْمِ أَيَّامِ اللَّيَالِي الْغُرِّ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
قدامہ (قتادہ بن ملحان) بن ملحان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روشن چاندنی راتوں کے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2434]
حضرت عبدالملک بن قدامہ بن ملحان رحمہ اللہ نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں چاندنی راتوں والے دنوں کے روزوں کا حکم دیا کرتے تھے، یعنی (چاند کی) تیرہ، چودہ اور پندرہ (تاریخ) کا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2432 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (2432) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. بَابُ: صَوْمِ يَوْمَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ
باب: مہینہ میں دو دن روزہ رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2435
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ مِنْ خِيَارِ الْخَلْقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ , فَقَالَ:" صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي زِدْنِي , قَالَ:" تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي زِدْنِي، يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي زِدْنِي، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَقَالَ:" زِدْنِي زِدْنِي أَجِدُنِي قَوِيًّا"، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيَرُدُّنِي. قَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے رکھنے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”تم کہتے ہو: اللہ کے رسول! کچھ بڑھا دیجئیے، کچھ بڑھا دیجئیے، تو ہر مہینے دو دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، اس پر آپ نے میری بات ”کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں“ دہرائی پھر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ اب آپ مجھے لوٹا دیں گے، پھر آپ نے فرمایا: ”ہر مہینے تین دن رکھ لیا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2435]
حضرت ابوعقرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نفل روزے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینے میں ایک روزہ رکھ لیا کر۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بڑھائیے، بڑھائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میری بات دہراتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ کے رسول! بڑھائیے، بڑھائیے۔ چلو مہینے میں دو دن روزہ رکھ لیا کر۔“ میں نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! بڑھائیے، بڑھائیے، میں اپنے آپ کو طاقتور محسوس کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میری بات دہراتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ کے رسول! بڑھائیے، بڑھائیے، میں اپنے آپ کو طاقتور محسوس کرتا ہوں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے حتیٰ کہ میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری درخواست رد کر دیں گے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کر۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2071)، مسند احمد 4/347، 5/67 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2436
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ , عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ , فَقَالَ:" صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَاسْتَزَادَهُ" , قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَزَادَهُ , قَالَ:" صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ"، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا"، فَمَا كَادَ أَنْ يَزِيدَهُ فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو“، انہوں نے مزید کی درخواست کی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو آپ نے اس میں اضافہ فرما دیا، فرمایا: ”ہر مہینہ دو دن رکھ لیا کرو“، تو انہوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میری بات) ”میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں“ دہرائی، آپ اضافہ کرنے والے نہ تھے، مگر جب انہوں نے اصرار کیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر مہینہ تین دن رکھ لیا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2436]
حضرت ابوعقرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نفل روزے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینے میں ایک روزہ رکھ لیا کر۔“ میں نے مزید اجازت مانگی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! میں اپنے آپ کو طاقت ور محسوس کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید اجازت دے دی اور فرمایا: ”ہر مہینے دو روزے رکھ لیا کر۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں اپنے آپ کو طاقت ور سمجھتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میری بات دوہراتے ہوئے) فرمایا: ”میں اپنے آپ کو طاقت ور سمجھتا ہوں، میں اپنے آپ کو طاقت ور سمجھتا ہوں۔“ امید نہیں تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزید اجازت فرمائیں گے۔ جب میں نے اصرار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے تین روزے رکھ لیا کر۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں