🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

شمائل ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (417)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
فضیلت والے کاموں کو دائیں طرف سے شروع کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 84
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ هُوَ ابْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي تَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ وَطُهُورِهِ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنگھی فرمانے میں، جوتا پہننے میں، وضو کرنے میں حتی المقدور داہنی طرف سے شروع کرنے کو بہت پسند رکھتے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى نعل رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 84]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«‏‏‏‏صحيح بخاري و صحيح مسلم»
دیکھئے حدیث سابق: 34
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور شیخیں رضی اللہ عنہا کے جوتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 85
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسٍ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ لِنَعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَالَانِ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ» ، «وَأَوَّلُ مَنْ عَقَدَ عَقْدًا وَاحِدًا عُثْمَانُ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ایک کفش مبارک کے دو تسمے تھے، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بھی۔ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پہلے صاحب ہیں جنہوں نے ایک تسمے کی گرہ باندھی۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى نعل رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 85]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف جدًا» }:
اس کا راوی عبدالرحمٰن بن قیس ابومعاویہ متروک و مجروح ہے اور المعجم الصغیر للطبرانی (92/1) میں اس کا ایک ضعیف شاہد بھی ہے۔ اس شاہد کی سند میں صالح مولیٰ التوامہ اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے [ علمي مقالات ج 3 ص 206 ]
نیز ابراہیم بن اسحاق الطبرانی مجہول یا مجروح ہے۔ «والله اعلم»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف جدا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12