🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

شمائل ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (417)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
سیاہ پگڑی سنت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ معظمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اقدس پر ایک سیاہ پگڑی تہی۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى عمامة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 113]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«سنن ترمذي، ح1735، وقال: حسن صحيح . صحيح مسلم، ح 1358، دارالسلام: 3309»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 114
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ»
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اقدس پر سیاہ عمامہ تھا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى عمامة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 114]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«صحيح مسلم، ح 1359»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
خطبہ کے وقت پگڑی پہننا سنت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 115
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَيُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرُو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ»
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اقدس پر سیاہ پگڑی تہی۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى عمامة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 115]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«صحيح مسلم، ح 1359»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عمامہ مبارک کا شملہ کندھوں کے درمیان ہوتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 116
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَمَّ سَدَلَ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ» قَالَ نَافِعٌ: «وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَفْعَلُ ذَلِكَ» قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: «وَرَأَيْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمًا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پگڑی مبارک باندھتے تو اس کے شملہ کو اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا دیتے تھے (ابن عمر رضی اللہ عنہ کے شاگرد، امام) نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے۔ اور عبیداللہ فرماتے ہیں: قاسم بن محمد اور سالم کو میں نے دیکھا کہ وہ دونوں بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى عمامة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 116]
تخریج الحدیث: { «حسن» }:
«سنن ترمذي، ح 1732، وقال: حسن غريب . . . . صحيح ابن حبان (الاحسان:6363، نسخه محققه:6397) . كتاب الضعفاء الكبير اللعقيلي (3/21)»
اس روایت کی سند بظاہر صحیح ہے، لیکن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: دراوردی (عبدالعزیز بن محمد) کی عبید اللہ (بن عمر) سے عام حدیثیں عبداللہ (بن عمر العمری) کی مقلوب شدہ حدیثیں ہیں . . . عبد العزیز الدراوردی کی عبید اللہ سے حدیثیں منکر ہیں۔ (سوالات ابی داود نسخہ محققہ ص 222 فقرہ: 198)
امام احمد نے مزید فرمایا: «ما حدث عن عبيد الله بن عمر فهو عن عبدالله بن عمر» انھوں (عبد العزیز الدراوردی) نے عبید اللہ بن عمر سے جو حدیثیں بیان کی ہیں، وہ عبداللہ بن عمر کی حدیثیں ہیں۔ کتاب الجرح والتعدیل 395/5 وسندہ صحیح
عبد اللہ بن العمری کو اگرچہ امام احمد ایک روایت میں لین الحدیث (ضعیف) کہتے تھے۔ (دیکھئے سوالات المروذی: 124)
لیکن قول راجح میں نافع سے ان کی روایت حسن ہوتی ہے، لہٰذا یہاں منکر کا اعتراض محل نظر ہے اور امام احمد کے مقابلے میں ترمذی کی تحسین یہاں راجح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس حدیث کے شواہد کے لیے دیکھئے صحیح مسلم (1359، ترقیم دارالسلام:3312) اور مجمع الزوائد (120/5)
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عمامہ مبارک کی مقدار عرض و طول
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 117
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سُلَيْمَانَ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسْمَاءُ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اقدس پر سیاہ پگڑی تہی۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى عمامة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 117]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«صحيح بخاري، ح 927 مطولا»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں