🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

شمائل ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (417)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نفلی نماز بیٹھ کر پڑھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 280
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا وَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ وَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا»
زوجہ رسول ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (بسا اوقات) نفلی نماز بیٹھ کر ادا فرماتے۔ آپ سورت کی قرات ٹھہر ٹھہر کر فرماتے حتیٰ کہ وہ سورت اپنے سے لمبی سورت سے بڑھ جاتی تھی۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى عبادة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 280]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏صحيح» ‏‏‏‏ }:
«(سنن ترمذي: 373، وقال: حسن صحيح)، صحيح مسلم (733)، موطأ امام مالك (رواية يحييٰ 137/1 ح 307، رواية ابن القاسم: 7)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آخری ایام میں اکثر بیٹھ کر نوافل پڑھتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 281
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے آخری ایام میں) وفات سے قبل نفلی نماز اکثر بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى عبادة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 281]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏سنده صحيح» ‏‏‏‏ }:
«صحيح مسلم (732)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سنن رواتب کی تعداد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 282
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي بَيْتِهِ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (آپ کے گھر میں) ظہر سے قبل دو رکعت اور ظہر کے بعد بھی دو رکعت نماز ادا کی اور دو رکعت مغرب کے بعد اور دو رکعت عشاء کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ادا کیں۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى عبادة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 282]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏سنده صحيح» ‏‏‏‏ }:
«(سنن ترمذي: 425، وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (433 من حديث ايوب السختياني)، مسند احمد (6/2 عن اسماعيل بن ابراهيم)، صحيح ابن خزيمه (1197، عن احمد بن منيع)، وللحديث طريق آخر عند مسلم فى صيحه (729)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز صبح کی سنتیں مختصر پڑھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 283
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَيُنَادِي الْمُنَادِي» قَالَ أَيُّوبُ:" وَأُرَاهُ قَالَ: خَفِيفَتَيْنِ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب فجر طلوع ہو جاتی اور مؤذن اذان کہتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت نماز ادا فرماتے۔ راوی ایوب کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے «حفيفتين» بھی کہا، یعنی ہلکی ہلکی دو رکعت پڑھتے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى عبادة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 283]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏سنده صحيح» ‏‏‏‏ }:
«صحيح مسلم (723)»
اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے دوسری سند کے ساتھ امام نافع عن ابن عمر عن حفصہ رضی اللہ عنہما۔۔۔ بیان کیا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سنت مؤکدہ آٹھ رکعت (بروایت ابن عمر رضی اللہ عنہما)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ: رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ" قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِرَكْعَتَيِ الْغَدَاةِ، وَلَمْ أَكُنْ أَرَاهُمَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ رکعتیں یاد رکھیں۔ دو رکعت ظہر سے پہلے، دو اس کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد اور دو عشاء کے بعد۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مجھے (ام المؤمنین سیدہ) حفصہ رضی اللہ عنہا نے صبح کی دو رکعتیں بیان کی ہیں جب کہ میں ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خیال نہیں کرتا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى عبادة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 284]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏سنده ضعيف» ‏‏‏‏ }:
«سنده ضعيف»
اس روایت کی سند اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس کے راوی مروان بن معاویہ الفزاری مدلس تھے۔ [طبقات المدلسين 105/3 ]
اور یہ سند عن سے ہے۔
اس روایت کا پہلا حصہ (دو رکعتیں عشاء کے بعد تک) سابقہ حدیث (282) کی وجہ سے صحیح ہے اور دوسرا حصہ ”حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے دو رکعتوں کے بارے میں بتایا“ بھی سابق حدیث (283) کی رُو سے صحیح ہے۔
آخری حصہ ”میں نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں دیکھا تھا“ محل نظر ہے اور صحیح بخاری کی ایک روایت میں آیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دو رکعتیں ایسے وقت میں پڑھتے تھے جب میں آپ کے پاس نہیں جاتا تھا۔ [ديكهئے ح 1173 ]
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سنت مؤکدہ دس رکعت (بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 285
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلتُ عَائِشَةَ، عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ، وَقَبْلَ الْفَجْرِ ثِنْتَيْنِ»
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر سے پہلے دو رکعت، ظہر کے بعد دو رکعت، نماز مغرب کے بعد دو رکعت، عشاء کے بعد دو رکعت اور نماز فجر سے پہلے دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى عبادة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 285]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏سنده صحيح» ‏‏‏‏ }:
دیکھئے حدیث سابق: 279
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سنت مؤکدہ چودہ رکعت (بروایت علی رضی اللہ عنہ)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 286
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ يَقُولُ: سَأَلْنَا عَلِيًّا، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّهَارِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَ ذَلِكَ قَالَ: فَقُلْنَا: مِنْ أَطَاقَ ذَلِكَ مِنَّا صَلَّى، فَقَالَ: «كَانَ إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا عِنْدَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَإِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا عِنْدَ الظُّهْرِ صَلَّى أَرْبَعًا، وَيُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا، يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ»
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دن کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: تم اس کی طاقت نہیں رکھ سکتے۔ ہم نے کہا: جو ہم میں سے اس کی طاقت رکھے گا، پڑھ لے گا (آپ بتائیں تو سہی)۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سورج مشرق میں جب ایسے ہوتا جیسا کہ عصر کے وقت مغرب کی طرف ہوتا ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت نماز ادا فرماتے، اور جب سورج مشرق میں ایسے ہوتا جیسا کہ ظہر کے وقت مغرب کی طرف ہوتا ہے تو چار رکعتیں پڑھتے، اسی طرح عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے، ہر دو رکعت میں مقرب فرشتوں، نبیوں ان کے پیروکار ایمانداروں اور عام مسلمانوں پر سلام سے فصل و فرق کرتے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى عبادة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 286]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏سنده حسن» ‏‏‏‏ }:
«(سنن ترمذي: 599، وقال: حديث حسن)، سنن نسائي (119/2-120 ح875)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں