صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ كَيْفَ يُكْتَبُ هَذَا مَا صَالَحَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ. وَفُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ وَإِنْ لَمْ يَنْسُبْهُ إِلَى قَبِيلَتِهِ، أَوْ نَسَبِهِ:
باب: صلح نامہ میں لکھنا کافی ہے یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر فلاں ولد فلاں اور فلاں ولد فلاں نے صلح کی اور خاندان اور نسب نامہ لکھنا ضروری نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2699
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ كَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالُوا: لَا نُقِرُّ بِهَا، فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا مَنَعْنَاكَ، لَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَنَا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ: امْحُ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: لَا، وَاللَّهِ لَا أَمْحُوكَ أَبَدًا، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ، فَكَتَبَ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَا يَدْخُلُ مَكَّةَ سِلَاحٌ إِلَّا فِي الْقِرَابِ، وَأَنْ لَا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا بِأَحَدٍ إِنْ أَرَادَ أَنْ يَتَّبِعَهُ، وَأَنْ لَا يَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا، فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا، فَقَالُوا: قُلْ لِصَاحِبِكَ اخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبِعَتْهُمُ ابْنَةُ حَمْزَةَ، يَا عَمِّ، يَا عَمِّ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَالَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام: دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ حَمَلَتْهَا فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ، وَزَيْدٌ، وَجَعْفَرٌ، فَقَالَعَلِيٌّ: أَنَا أَحَقُّ بِهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي، وَقَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي، وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي، فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ: الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ، وَقَالَ لِعَلِيٍّ: أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ: أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي، وَقَالَ لِزَيْدٍ: أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا".
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا اسرائیل سے، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ کے مہینے میں عمرہ کا احرام باندھا۔ لیکن مکہ والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہر میں داخل نہیں ہونے دیا۔ آخر صلح اس پر ہوئی کہ (آئندہ سال) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تین روز قیام کریں گے۔ جب صلح نامہ لکھا جانے لگا تو اس میں لکھا گیا کہ یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ لیکن مشرکین نے کہا کہ ہم تو اسے نہیں مانتے۔ اگر ہمیں علم ہو جائے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو نہ روکیں۔ بس آپ صرف محمد بن عبداللہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں رسول اللہ بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی ہوں۔ اس کے بعد آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ رسول اللہ کا لفظ مٹا دو، انہوں نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم! میں تو یہ لفظ کبھی نہ مٹاؤں گا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دستاویز لی اور لکھا کہ یہ اس کی دستاویز ہے کہ محمد بن عبداللہ نے اس شرط پر صلح کی ہے کہ مکہ میں وہ ہتھیار میان میں رکھے بغیر داخل نہ ہوں گے۔ اگر مکہ کا کوئی شخص ان کے ساتھ جانا چاہے گا تو وہ اسے ساتھ نہ لے جائیں گے۔ لیکن اگر ان کے اصحاب میں سے کوئی شخص مکہ میں رہنا چاہے گا تو اسے وہ نہ روکیں گے۔ جب (آئندہ سال) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لے گئے اور (مکہ میں قیام کی) مدت پوری ہو گئی تو قریش علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ اپنے صاحب سے کہئے کہ مدت پوری ہو گئی ہے اور اب وہ ہمارے یہاں سے چلے جائیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے روانہ ہونے لگے۔ اس وقت حمزہ رضی اللہ عنہ کی ایک بچی چچا چچا کرتی آئیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے ساتھ لے لیا، پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ہاتھ پکڑ کر لائے اور فرمایا، اپنی چچا زاد بہن کو بھی ساتھ لے لو، انہوں نے اس کو اپنے ساتھ سوار کر لیا، پھر علی، زید اور جعفر رضی اللہ عنہم کا جھگڑا ہوا۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کا میں زیادہ مستحق ہوں، یہ میرے چچا کی بچی ہے۔ جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ میرے بھی چچا کی بچی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں بھی ہیں۔ زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے بھائی کی بچی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچی کی خالہ کے حق میں فیصلہ کیا اور فرمایا کہ خالہ ماں کی جگہ ہوتی ہے، پھر علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم صورت اور عادات و اخلاق سب میں مجھ سے مشابہ ہو۔ زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم ہمارے بھائی بھی ہو اور ہمارے مولا بھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2699]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا تو اہل مکہ نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا، یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ سے ان شرائط پر صلح کرلی کہ آپ آئندہ سال صرف تین دن مکہ میں قیام فرمائیں گے۔ جب صلح نامہ لکھنے لگے تو لکھا: یہ وہ دستاویز ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی ہے۔ مشرکین نے کہا: ہم تو اس رسالت کا اقرار نہیں کریں گے؛ اگر ہمیں یقین ہو کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو ہم آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے کبھی نہ روکیں، لیکن آپ تو محمد بن عبداللہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا رسول بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ مٹا دو۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں تو کبھی آپ کا نام نہیں مٹاؤں گا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے از خود وہ صلح نامہ لیا اور لکھا: ”یہ وہ دستاویز ہے جس کے مطابق محمد بن عبداللہ نے صلح کی ہے کہ وہ مکہ میں ہتھیار لے کر داخل نہیں ہوں گے مگر وہ اپنے نیام میں ہوں گے اور اگر اہل مکہ میں سے کوئی بھی آپ کے ساتھ جانے کو تیار ہوگا تو آپ اسے مکہ سے باہر نہیں لے جاسکیں گے اور اگر آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی شخص مکہ میں رہنا چاہے گا تو آپ اسے نہیں روکیں گے۔“ آئندہ سال جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور مدت گزرنے والی تھی تو مشرکین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اپنے ساتھی سے کہو کہ آپ ہمارے پاس سے چلے جائیں کیونکہ مدتِ معاہدہ گزر چکی ہے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے جانے لگے تو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا چچا کہہ کر پیچھا کرنے لگی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا، اس کا ہاتھ پکڑ کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اسے اٹھا لو، یہ تمہاری چچازاد ہے، اسے اپنے ساتھ سوار کر لو، پھر اس لڑکی کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت زید رضی اللہ عنہ اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے جھگڑا کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، یہ میرے چچا کی صاحبزادی ہے۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میرے چچا کی صاحبزادی ہے اور اس کی خالہ میرے عقد میں ہے۔ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میرے بھائی کی صاحبزادی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالہ کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: «الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ» ”(پرورش کرنے میں) ماں کی جگہ ہوتی ہے۔“ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ» ”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔“ نیز حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي» ”تم صورت اور سیرت میں میری مانند ہو۔“ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا» ”تم ہمارے بھائی بھی ہو اور ہمارے آزاد کردہ غلام بھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2699]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
7. بَابُ الصُّلْحِ مَعَ الْمُشْرِكِينَ:
باب: مشرکین کے ساتھ صلح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2700-2
فِيهِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ.
اس باب میں ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: Q2700-2]
حدیث نمبر: Q2700
وَقَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَكُونُ هُدْنَةٌ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، وَأَسْمَاءُ، وَالْمِسْوَرُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ ایک دن آئے گا کہ پھر تمہاری رومیوں سے صلح ہو جائے گی۔ اس باب میں سہل بن حنیف، اسماء اور مسور رضی اللہ عنہم کی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: Q2700]
حدیث نمبر: 2700
وَقَالَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: عَلَى أَنَّ مَنْ أَتَاهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَدَّهُ إِلَيْهِمْ، وَمَنْ أَتَاهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَرُدُّوهُ، وَعَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا مِنْ قَابِلٍ وَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ السَّيْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِهِ، فَجَاءَ أَبُو جَنْدَلٍ يَحْجُلُ فِي قُيُودِهِ فَرَدَّهُ إِلَيْهِمْ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: لَمْ يَذْكُرْ مُؤَمَّلٌ، عَنْ سُفْيَانَ، أَبَا جَنْدَلٍ، وَقَالَ: إِلَّا بِجُلُبِّ السِّلَاحِ.
موسیٰ بن مسعود نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ مشرکین کے ساتھ تین شرائط پر کی تھی، (1) یہ کہ مشرکین میں سے اگر کوئی آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کر دیں گے۔ لیکن اگر مسلمانوں میں سے کوئی مشرکین کے یہاں پناہ لے گا تو یہ لوگ ایسے شخص کو واپس نہیں کریں گے۔ (2) یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ سال مکہ آ سکیں گے اور صرف تین دن ٹھہریں گے۔ (3) یہ کہ ہتھیار، تلوار، تیر وغیرہ نیام اور ترکش میں ڈال کر ہی مکہ میں داخل ہوں گے۔ چنانچہ ابوجندل رضی اللہ عنہ (جو مسلمان ہو گئے تھے اور قریش نے ان کو قید کر رکھا تھا) بیڑیوں کو گھسیٹتے ہوئے آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (شرائط معاہدہ کے مطابق) مشرکوں کو واپس کر دیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مؤمل نے سفیان سے ابوجندل کا ذکر نہیں کیا ہے اور «إلا بجلبان السلاح» کے بجائے «إلا بجلب السلاح.» کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2700]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر مشرکین کے ساتھ تین چیزوں پر صلح کی تھی، ایک تو یہ کہ ”جو مشرکین میں سے آپ کے پاس آئے گا آپ اسے ان کے پاس واپس لوٹا دیں گے اور جو مسلمان ان مشرکین کے پاس آئے گا وہ اسے واپس نہیں کریں گے۔“ دوسری یہ کہ ”آپ آئندہ سال مکہ میں آسکیں گے اور تین دن تک وہاں قیام کریں گے۔“ تیسری یہ کہ ”تلوار اور تیر وغیرہ نیام اور ترکش میں ڈال کر ہی مکہ میں داخل ہوں گے۔“ اس دوران میں حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ جو مسلمان ہو گئے تھے، اپنی بیڑیوں سمیت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مشرکین کی طرف واپس کر دیا۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: مومل نے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر نہیں کیا، البتہ انہوں نے «جُلْبَانِ السِّلَاحِ» کے بجائے «جُلُبِ السِّلَاحِ» کے الفاظ ذکر کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2700]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2701
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ مُعْتَمِرًا، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَقَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرَ الْعَامَ الْمُقْبِلَ، وَلَا يَحْمِلَ سِلَاحًا عَلَيْهِمْ إِلَّا سُيُوفًا، وَلَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا، فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَدَخَلَهَا كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ، فَلَمَّا أَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ، فَخَرَجَ".
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن نعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کا احرام باندھ کر نکلے، تو کفار قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ جانے سے روک دیا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور حدیبیہ میں ذبح کر دیا اور سر بھی وہیں منڈوا لیا اور کفار مکہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر صلح کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ سال عمرہ کر سکیں گے۔ تلواروں کے سوا اور کوئی ہتھیار ساتھ نہ لائیں گے۔ (اور وہ بھی نیام میں ہوں گی) اور قریش جتنے دن چاہیں گے اس سے زیادہ مکہ میں نہ ٹھہر سکیں گے۔ (یعنی تین دن) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ سال عمرہ کیا اور شرائط کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے، پھر جب تین دن گزر چکے تو قریش نے مکے سے چلے جانے کے لیے کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس چلے آئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2701]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو کفارِ قریش آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہی اپنی قربانی کو ذبح کیا، اپنا سر مبارک بھی حدیبیہ میں منڈایا اور مشرکینِ قریش سے اس بات پر صلح کر لی کہ آپ آئندہ سال عمرہ کریں گے اور ان پر ہتھیار اٹھا کر نہیں چلیں گے، البتہ تلواریں نیام میں لے کر آ سکیں گے، نیز مکہ معظمہ میں جب تک کفار پسند کریں آپ قیام فرمائیں گے، چنانچہ آپ نے آئندہ سال عمرہ کیا اور حسبِ شرائطِ صلح مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ جب تین دن مکہ میں ٹھہر چکے تو انھوں نے مکہ سے چلے جانے کو کہا، لہٰذا آپ مکہ مکرمہ سے روانہ ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2701]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2702
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ إِلَى خَيْبَرَ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہما خیبر گئے۔ خیبر کے یہودیوں سے مسلمانوں کی ان دنوں صلح تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2702]
حضرت سہل بن ابی حشمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہما خیبر کی طرف گئے، خیبر کے یہودیوں سے ان دنوں مسلمانوں کی صلح تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2702]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
8. بَابُ الصُّلْحِ فِي الدِّيَةِ:
باب: دیت پر صلح کرنا (یعنی قصاص معاف کر کے دیت پر راضی ہو جانا)۔
حدیث نمبر: 2703
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ وَهِيَ ابْنَةُ النَّضْرِ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ، فَطَلَبُوا الْأَرْشَ، وَطَلَبُوا الْعَفْوَ، فَأَبَوْا، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُمْ بِالْقِصَاصِ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا، فَقَالَ: يَا أَنَسُ، كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ، فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَعَفَوْا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ". زَادَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الْأَرْشَ.
ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، کہا مجھ سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نضر کی بیٹی ربیع رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دئیے۔ اس پر لڑکی والوں نے تاوان مانگا اور ان لوگوں نے معافی چاہی، لیکن معاف کرنے سے انہوں نے انکار کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدلہ لینے کا حکم دیا۔ (یعنی ان کا بھی دانت توڑ دیا جائے) انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ربیع کا دانت کس طرح توڑا جا سکے گا۔ نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انس! کتاب اللہ کا فیصلہ تو بدلہ لینے (قصاص) ہی کا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ راضی ہو گئے اور معاف کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ خود ان کی قسم پوری کرتا ہے۔ فزاری نے (اپنی روایت میں) حمید سے، اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے یہ زیادتی نقل کی ہے کہ وہ لوگ راضی ہو گئے اور تاوان لے لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2703]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ربیع رضی اللہ عنہا جو نضر کی دختر تھیں، انہوں نے کسی نوجوان لڑکی کا اگلا دانت توڑ دیا تو لڑکی کے ورثاء نے تاوان کا مطالبہ کر دیا۔ ربیع کے خاندان نے معافی کی درخواست کی تو انہوں نے انکار کر دیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے قصاص لینے کا حکم دیا۔ حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ربیع کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انس! کتاب اللہ کا فیصلہ تو قصاص ہی ہے۔“ یہ سن کر دوسرے لوگ راضی ہو گئے اور انہوں نے قصاص معاف کر دیا۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں، اگر وہ اللہ پر یقین محکم رکھتے ہوئے قسم اٹھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دیتا ہے۔“ (راویِ حدیث) فزاری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں، قوم راضی ہو گئی اور انہوں نے دیت قبول کر لی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2703]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
9. بَابُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ» :
باب: حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میرا یہ بیٹا ہے مسلمانوں کا سردار ہے اور شاید اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے۔
حدیث نمبر: Q2704
وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا سورة الحجرات آية 9.
اور اللہ پاک کا سورۃ الحجرات میں یہ ارشاد ”پس دونوں میں صلح کرا دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: Q2704]
حدیث نمبر: 2704
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ:" اسْتَقْبَلَ وَاللَّهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ مُعَاوِيَةَ بِكَتَائِبَ أَمْثَالِ الْجِبَالِ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: إِنِّي لَأَرَى كَتَائِبَ لَا تُوَلِّي حَتَّى تَقْتُلَ أَقْرَانَهَا، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: وَكَانَ وَاللَّهِ خَيْرَ الرَّجُلَيْنِ، أَيْ عَمْرُو إِنْ قَتَلَ هَؤُلَاءِ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ هَؤُلَاءِ مَنْ لِي بِأُمُورِ النَّاسِ بِنِسَائِهِمْ مَنْ لِي بِضَيْعَتِهِمْ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ: عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ، فَقَالَ: اذْهَبَا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَاعْرِضَا عَلَيْهِ، وَقُولَا لَهُ، وَاطْلُبَا إِلَيْهِ، فَأَتَيَاهُ، فَدَخَلَا عَلَيْهِ فَتَكَلَّمَا وَقَالَا لَهُ فَطَلَبَا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ: إِنَّا بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ أَصَبْنَا مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَدْ عَاثَتْ فِي دِمَائِهَا، قَالَا: فَإِنَّهُ يَعْرِضُ عَلَيْكَ كَذَا وَكَذَا، وَيَطْلُبُ إِلَيْكَ وَيَسْأَلُكَ، قَالَ: فَمَنْ لِي بِهَذَا؟ قَالَا: نَحْنُ لَكَ بِهِ، فَمَا سَأَلَهُمَا شَيْئًا إِلَّا قَالَا نَحْنُ لَكَ بِهِ، فَصَالَحَهُ، فَقَالَ الْحَسَنُ: وَلَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَى جَنْبِهِ، وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ أُخْرَى، وَيَقُولُ: إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: إِنَّمَا ثَبَتَ لَنَا سَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْأَبِي بَكْرَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ میں نے امام حسن بصری سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ قسم اللہ کی جب حسن بن علی رضی اللہ عنہما (معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں) پہاڑوں میں لشکر لے کر پہنچے، تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا (جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مشیر خاص تھے) کہ میں ایسا لشکر دیکھ رہا ہوں جو اپنے مقابل کو نیست و نابود کیے بغیر واپس نہ جائے گا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا اور قسم اللہ کی، وہ ان دونوں اصحاب میں زیادہ اچھے تھے، کہ اے عمرو! اگر اس لشکر نے اس لشکر کو قتل کر دیا، یا اس نے اس کو قتل کر دیا، تو (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) لوگوں کے امور (کی جواب دہی کے لیے) میرے ساتھ کون ذمہ داری لے گا، لوگوں کی بیوہ عورتوں کی خبرگیری کے سلسلے میں میرے ساتھ کون ذمہ دار ہو گا۔ لوگوں کی آل اولاد کے سلسلے میں میرے ساتھ کون ذمہ دار ہو گا۔ آخر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حسن رضی اللہ عنہ کے یہاں قریش کی شاخ بنو عبد شمس کے دو آدمی بھیجے۔ عبدالرحمٰن بن سمرہ اور عبداللہ بن عامر بن کریز، آپ نے ان دونوں سے فرمایا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے یہاں جاؤ اور ان کے سامنے صلح پیش کرو، ان سے اس پر گفتگو کرو اور فیصلہ انہیں کی مرضی پر چھوڑ دو۔ چنانچہ یہ لوگ آئے اور آپ سے گفتگو کی اور فیصلہ آپ ہی کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہم بنو عبدالمطلب کی اولاد ہیں اور ہم کو خلافت کی وجہ سے روپیہ پیسہ خرچ کرنے کی عادت ہو گئی ہے اور ہمارے ساتھ یہ لوگ ہیں، یہ خون خرابہ کرنے میں طاق ہیں، بغیر روپیہ دئیے ماننے والے نہیں۔ وہ کہنے لگے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ آپ کو اتنا اتنا روپیہ دینے پر راضی ہیں اور آپ سے صلح چاہتے ہیں۔ فیصلہ آپ کی مرضی پر چھوڑا ہے اور آپ سے پوچھا ہے۔ حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ ان دونوں قاصدوں نے کہا کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ حسن نے جس چیز کے متعلق بھی پوچھا، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ آخر آپ نے صلح کر لی، پھر فرمایا کہ میں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا تھا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے سنا ہے اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی حسن رضی اللہ عنہ کی طرف اور فرماتے کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور شاید اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مجھ سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ ہمارے نزدیک اس حدیث سے حسن بصری کا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت ہوا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2704]
حضرت ابو موسیٰ (اسرائیل بن موسیٰ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حسن بصری رحمہ اللہ سے سنا، انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں پہاڑوں جیسا لشکر لے کر آئے تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایسے لشکروں کو دیکھ رہا ہوں جو اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک وہ اپنے مخالفین کو قتل نہ کر دیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جو ان (عمرو) سے بہتر تھے، انہوں نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عمرو! اگر انہوں نے ان کو اور انہوں نے ان کو قتل کر دیا تو لوگوں کے امور کی نگرانی کون کرے گا؟ ان کی عورتوں کی کفالت کون کرے گا؟ ان کے بچوں اور بوڑھوں کی حفاظت کون کرے گا؟ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے قریش کے قبیلہ عبدشمس سے دو آدمی: عبدالرحمٰن بن سمرہ اور عبداللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہما بھیجے اور ان سے کہا کہ اس شخص (حضرت حسن رضی اللہ عنہ) کے پاس جاؤ اور صلح کی پیش کش کرو، اس سے صلح کے متعلق گفتگو کرو، چنانچہ وہ دونوں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ان سے گفتگو کی اور صلح کی پیش کش سامنے رکھی۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا: ہم بنو عبدالمطلب کی اولاد ہیں اور ہمیں خلافت کی وجہ سے روپیہ پیسہ خرچ کرنے کی عادت پڑ گئی ہے اور یہ لوگ جو ہمارے ساتھ ہیں انہیں بھی خون خرابہ کرنے کی لت پڑ چکی ہے۔ (یہ روپیہ پیسہ کے بغیر واپس نہیں ہوں گے۔) وہ دونوں کہنے لگے: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ آپ کو اتنا اتنا پیسہ دینے پر راضی ہیں اور آپ سے صلح چاہتے ہیں، انہوں نے فیصلہ آپ کی صوابدید پر چھوڑا ہے اور آپ سے اس کا حل دریافت کیا ہے؟ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ انہوں نے عرض کیا: ہم اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے جس جس چیز کا مطالبہ کیا وہ دونوں یہی کہتے رہے کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں، چنانچہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا جبکہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما آپ کے پہلو میں بیٹھے تھے۔ آپ کبھی تو لوگوں کی طرف دیکھتے اور کبھی ان کی طرف متوجہ ہو جاتے اور فرماتے: ”میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے سے مسلمان کی دو عظیم جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: میرے استاد علی بن مدینی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس حدیث کی بدولت ہمارے نزدیک حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا سماع صحیح ثابت ہوا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2704]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
10. بَابُ هَلْ يُشِيرُ الإِمَامُ بِالصُّلْحِ:
باب: کیا امام صلح کے لیے فریقین کو اشارہ کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 2705
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّأُمَّهُ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ" سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا، وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الْآخَرَ وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْءٍ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْنَ الْمُتَأَلِّي عَلَى اللَّهِ لَا يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ؟ فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَهُ أَيُّ ذَلِكَ أَحَبَّ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن ہلال نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے ابوالرجال، محمد بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ان کی والدہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر دو جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی جو بلند ہو گئی تھی۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک آدمی دوسرے سے قرض میں کچھ کمی کرنے اور تقاضے میں کچھ نرمی برتنے کے لیے کہہ رہا تھا اور دوسرا کہتا تھا کہ اللہ کی قسم! میں یہ نہیں کروں گا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اور فرمایا کہ اس بات پر اللہ کی قسم کھانے والے صاحب کہاں ہیں؟ کہ وہ ایک اچھا کام نہیں کریں گے۔ ان صحابی نے عرض کیا، میں ہی ہوں یا رسول اللہ! اب میرا بھائی جو چاہتا ہے وہی مجھ کو بھی پسند ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2705]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آوازیں سنیں جو بلند ہو رہی تھیں۔ واقعہ یہ تھا کہ ان میں سے ایک دوسرے سے قرض میں کمی کرنے اور تقاضے میں کچھ نرمی برتنے کے لیے کہہ رہا تھا جبکہ دوسرا کہتا تھا کہ اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ”اس بات پر اللہ کی قسم اٹھانے والے صاحب کہاں ہیں جو کہتے ہیں کہ میں نیکی کا کام نہیں کروں گا؟“ قسم اٹھانے والے نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں موجود ہوں۔ اب میرا بھائی جو چاہتا ہے مجھے وہی پسند ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلح/حدیث: 2705]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة