🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اہل ایمان کے ساتھ اللہ ذوالجلال کے فضل و کرم کا اثبات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 40
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَشْرًا، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نیکی کا ارادہ کرتا ہے لیکن اسے کر نہیں پاتا تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اگر وہ اس نیکی کو کر لیتا ہے تو دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، اور جو کسی برائی کا ارادہ کرتا ہے لیکن اسے کرتا نہیں تو اس کے خلاف نہیں لکھی جاتی، اور اگر وہ اسے کر لیتا ہے تو وہ ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الايمان/حدیث: 40]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب التوحيد، رقم: 7501 . مسلم، كتاب الايمان، باب اذاهم العبد بحسنة الخ، رقم: 130 . مسند احمد: 234/2»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اللہ ذوالجلال کی خاطر محبت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 41
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، نا أَبُو بَلْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجِدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ فَلْيُحِبَّ عَبْدًا لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے پسند ہو کہ وہ ایمان کی حلاوت پا لے تو وہ کسی بندے سے صرف اللہ ہی کی خاطر محبت کرے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الايمان/حدیث: 41]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 298/2 . قال شعيب الارناؤوط: اسناده حسن . مستدرك حاكم: 44/1 . مسند ابي داود الطيالسي، 235/4، رقم: 2617»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 42
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، نا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ أَبُو بَلْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَجِدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ فَلْيُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے پسند ہو کہ وہ ایمان کا ذائقہ چکھ لے تو وہ کسی شخص سے محبت کرے تو محض اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الايمان/حدیث: 42]
تخریج الحدیث: «السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
انسان کے اعضاء سے بھی زنا کا صدور ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 43
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (زِنَاءُ الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَاءُ اللِّسَانِ النُّطْقُ، وَزِنَاءُ الْيَدِ الْبَطْشُ، وَزِنَاءُ الْبَطْنِ، وَزِنَا الرِّجْلِ الْمَشْيُ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ مَا تَمَّ أَوْ يُكَذِّبُهُ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اور پیٹ کا زنا، پاؤں کا زنا چلنا ہے، شرمگاہ تصدیق کرتی ہے یا اس کی تکذیب کرتی ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الايمان/حدیث: 43]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب القدر، رقم: 6612 . مسلم، كتاب القدر، باب قدر على ابن آدم حظه من الزني، رقم: 2657»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
باب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 44
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا) ) بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَيَسَارِهِ، ثُمَّ مَشَى سَاعَةً، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ( (أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟، قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ) ) ، ثُمَّ مَشَى سَاعَةً، فَقَالَ: ( (يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ وَحَقُّ النَّاسِ عَلَى اللَّهِ؟ حَقُّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقُّ النَّاسِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: میں مدینہ کے کھجوروں کے باغ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ! زیادہ مال والے ہلاک ہوں گے مگر وہ جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح اپنے آگے، اپنے دائیں اور اپنے بائیں خرچ کیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر چلے اور فرمایا: ”ابوہریرہ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟“ فرمایا: ” «لا حول ولا قوة ولا ملجا من الله الا اليه» “ پھر کچھ دیر چلے تو فرمایا: ”ابوہریرہ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا لوگوں پر کیا حق ہے اور لوگوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ اللہ کا لوگوں پر حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں اور لوگوں کا اللہ پر حق ہے کہ جب وہ یہ کر لیں تو پھر وہ انہیں عذاب نہ دے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الايمان/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 309/2 . قال شعيب الارناؤوط: اسناده صحيح»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 45
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
کمیل بن زیاد رحمہ الله نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الايمان/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: «ايضاً»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
انسان کے دل میں شیطان کا وسوسے ڈالنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 46
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، نا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيَسْأَلَنَّكُمُ النَّاسُ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللَّهُ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ، فَمَنْ خَلَقَهُ؟" قَالَ جَعْفَرٌ: فحَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَأَنَّهُ رَفَعَهُ قَالَ:" فَإِنْ سُئِلْتُمْ فَقُولُوا: اللَّهُ كَانَ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ، وَهُوَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ، وَهُوَ بَعْدَ كُلِّ شَيْءٍ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ تم سے ہر چیز کے متعلق پوچھیں گے حتی کہ وہ کہیں گے: ان سب چیزوں کو تو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر اسے کس نے پیدا فرمایا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم سے (اس طرح کا سوال) پوچھا جائے تو کہو: اللہ ہر چیز سے پہلے موجود تھا، اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا، اور وہی ہر چیز کے بعد بھی ہو گا۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الايمان/حدیث: 46]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب بدء الخلق، باب صفة ابليس وجنوده، رقم: 3276 . مسلم، كتاب الايمان، باب بيان الوسوسة فى الايمان الخ، رقم: 135 . سنن ابوداود، رقم: 4721 . مسند احمد: 282/2»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
باب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 47
أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ أَتَى اللَّهَ بِثَلَاثٍ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ وَلَا يُشْرِكُ بِهِ، وَسَمِعَ وَأَطَاعَ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تین چیزیں لے کر اللہ کے حضور پیش ہو گا اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا: وہ ایک اللہ کی عبادت کرتا ہو اور اس کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو اور سمع اور اطاعت کا رویہ رکھتا ہو۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الايمان/حدیث: 47]
تخریج الحدیث: «مجمع الزوائد: 103/1، قال الهيثمي: فيه بقية بن الوليد وهو مدلس»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کس شخص کے لیے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 48
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، نا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، نا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعْتِبٍ الْهُذَلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ؟ فَقَالَ: ( (وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَا يُهِمُّنِي مِنَ انْقِصَافِهِمْ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ ذَلِكَ وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا يَصْدُقُ لِسَانُهُ قَلْبَهُ، وَقَلْبُهُ لِسَانَهُ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: شفاعت کے بارے میں آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ان کا باب جنت پر روک دیا جانا میرے نزدیک اس سے زیادہ اہم ہے اور میری شفاعت اس شخص کے لیے ہے جس نے اخلاص کے ساتھ گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس وقت اس کی زبان اس کے دل کی اور اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الايمان/حدیث: 48]
تخریج الحدیث: «ضعيف ترغيب وترهيب، رقم: 2113»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اچھے اشعار کہنے اور سننے جائز ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 49
أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مِنْ أَصْدَقِ بَيْتٍ قَالَتْهُ الْعَرَبُ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرب کی شاعری میں سب سے سچی بات لبید کی یہ ہے: سنو اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے (ختم ہونے والی) ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الايمان/حدیث: 49]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الرقاق، باب الجنه اقرب الي احدكم الخ، رقم: 6489 . مسلم، كتاب الشعر، رقم: 2256 . سنن ترمذي، رقم: 2849 . مسند احمد: 248/2»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں