مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
امانت کی اہمیت خیانت کرنے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 441
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهَا رُغَاءٌ) ) ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَى آخِرِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ اس نے اپنی گردن پر اونٹ اٹھا رکھا ہو اور وہ بلبلا رہا ہو۔“ پس راوی نے حدیث کے آخر تک اس کے مثل ذکر کیا، لیکن اس کا اول حصہ ذکر نہ کیا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البيوع /حدیث: 441]
تخریج الحدیث: «السابق»
لونڈیوں (کی بدکاری) کی کمائی حرام ہے
حدیث نمبر: 442
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، نا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ( (نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندیوں (کی بدکاری) کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البيوع /حدیث: 442]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الاجارة، باب كسب البغي والاما، رقم: 2283 . سنن ابوداود، كتاب الاجارة، باب فى الاما، رقم: 3425 . مسند احمد: 287/2 . صحيح ابن حبان، رقم: 5158، سنن دارمي، رقم: 3602 .»
حدیث نمبر: 443
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: ( (نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندیوں کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البيوع /حدیث: 443]
تخریج الحدیث: «السابق»
میت کے قرض کی ادائیگی کی وضاحت
حدیث نمبر: 444
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرِثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مال چھوڑ کر فوت ہو تو وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے اور جو قرض چھوڑ جائے تو وہ ہمارے ذمے ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البيوع /حدیث: 444]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الكفالة، باب الدين، رقم: 2298 . سنن ابوداود، رقم: 2900 . مسند احمد: 287/2 . صحيح ابن حبان، رقم: 5054 .»
قیمت بڑھانے کے لیے بولی لگانا جائز نہیں
حدیث نمبر: 445
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ( (أَنَّهُ نَهَى عَنِ التَّلَقِّي، وَالنَّجَشِ، وَالتَّصْرِيَةِ، وَأَنْ لَا تَسَأَلَ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا وَأَنْ لَا يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی قافلوں کو منڈی تک پہنچنے سے پہلے راستوں میں جا کر ملنے، محض قیمت بڑھانے کے لیے بولی لگانے اور دودھیل جانوروں کا دودھ روکنے سے منع فرمایا ہے، اور یہ کہ عورت اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے اور یہ کہ آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کے نرخ پر نرخ نہ لگائے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البيوع /حدیث: 445]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الشروط، باب الشروط فى الطلاق، رقم: 2727 . مسلم، كتاب البيوع، باب تحريم بيع الرجل على بيع اخيه الخ، رقم: 1515 . سنن نسائي، رقم: 4502 .»
سود کی اقسام کا بیان
حدیث نمبر: 446
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا فُضَيْلٌ، وَهُوَ ابْنُ غَزْوَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ، فَمَا زَادَ فَهُوَ رِبًا، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ فَمَا زَادَ فَهُوَ رِبًا، وَلَا تُبَاعُ تَمْرَةٌ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاندی چاندی کے بدلے میں برابر برابر ہم وزن بیع کی جائے، پس جو زائد ہو تو وہ سود ہے اور سونا سونے کے بدلے میں برابر برابر ہم وزن بیع کیا جائے پس جو زیادہ ہو تو وہ سود ہے اور کھجوروں کی بیع نہ کی جائے حتیٰ کہ ان (کے پکنے) کی صلاحیت ظاہر ہو جائے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البيوع /حدیث: 446]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب المساقاة، باب الصرف وبيع الذهب بالورق . .، رقم: 1588 . سنن ترمذي، رقم: 1240 . سنن نسائي، رقم: 4569 . مسند احمد: 262/2 .»
چوری کا مال خریدنے والے کا گناہ
حدیث نمبر: 447
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنِ اشْتَرَى سَرِقَةً وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهَا سَرِقَةٌ فَقَدَ شَرَكَ فِي عَارِهَا وَإِثْمِهَا) ) .
اہل مدینہ کے ایک شخص نے کہا:، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چوری کا مال خریدا جبکہ وہ جانتا ہے کہ وہ چوری کا مال ہے تو وہ اس کے عار اور گناہ میں برابر کا شریک ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البيوع /حدیث: 447]
تخریج الحدیث: «ضعيف الجامع الصغير، رقم: 5421 . مستدرك حاكم: 41/2 . ضعيف ترغيب وترهيب، رقم: 1074 .»
حدیث نمبر: 448
أَخْبَرَنَا يَحْيَى، نا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزِّنْجِيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ مَوْلًى لِلْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ شُرَحْبِيلُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنِ اشْتَرَى سَرِقَةً وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهَا سَرِقَةٌ فَقَدْ شَرَكَ فِي عَارِهَا وَإِثْمِهَا) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے یہ جانتے ہوئے کہ یہ چوری کا مال ہے چوری کا مال خریدا تو وہ اس کے عار اور گناہ میں برابر کا شریک ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البيوع /حدیث: 448]
تخریج الحدیث: «السابق: اس ميں مسلم بن خالد رنجي، صدوق كثير الاوهام هے . (تقريب التهذيب: 6625) شرحبيل مولي انصار بهي ضعيف هے . (تهذيب: 2764)»
کھانے اور غلام کی بیع
حدیث نمبر: 449
أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةَ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بَكْرٍ التَّمِيمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (بِئْسَ الْبَيْعَتَانِ بَيْعُ الطَّعَامِ وَبَيْعُ الرَّقِيقِ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بیع بری ہیں، کھانے اور غلام کی بیع۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البيوع /حدیث: 449]
تخریج الحدیث: «مصنب ابن ابي شيبة، فى التفريق بين الوالدو والده، رقم: 2283 بلفظ انماكر هوا بيع الرقيق، بخاري ميں بهي 'باب الرقيق' هے . مذكوره روايت كے الفاظ مسند اسحاق كے هيں، والله اعلم .»
نیلامی کا بیان
حدیث نمبر: 450
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْمُزَايَدَةِ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: الْمِيرَاثِ وَالشَّرِكَةِ وَبَيْعِ الْغَنَائِمِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں میراث، شراکت اور بیع الغنائم کے علاوہ دیگر چیزوں میں نیلامی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البيوع /حدیث: 450]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 71/2 . قال شعيب الارناوط: اسناده ضعيف . سنن دارقطني: 11/3 .»