🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
مدینہ منورہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 563
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، نا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مَعْبَدِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ كَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ كَادَهُ اللَّهُ) ) . قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: ( (وَيَذُوبُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مدینہ والوں سے جنگ کرے گا، اللہ اس سے جنگ کرے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اسی طرح پگھل جائے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفضائل/حدیث: 563]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب فضائل مدينه، باب اثم من كا د اهل المدينة، رقم: 1877 . مسلم، كتاب الحج، باب من الراد اهل المدينة . . .، رقم: 1387 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اللہ کی قسم اٹھانے والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 564
وَبِهَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلًا يَسْرِقُ، فَقَالَ لَهُ: أَسْرَقْتَ؟ قَالَ: لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَقَالَ عِيسَى: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ الْبَصَرَ".
اسی سند سے ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو اسے فرمایا: کیا تم نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں اور نظر کو جھوٹا کہتا ہوں۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفضائل/حدیث: 564]
تخریج الحدیث: «بخاري، احاديث الانبياء، رقم: 3444 . مسلم، كتاب الفضائل، باب فضائل عيسيٰ عليه السلام، رقم: 2368 . سنن نسائي، رقم: 5427 . سنن ابن ماجه، رقم: 2102 . مسند احمد: 383/2 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 565
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَصَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ لَيْسَ الْكَعْبَةَ) ) .
اسی سند سے ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مسجد مدینہ (مسجد نبوی) میں ایک نماز پڑھنا کعبہ (بیت اللہ) کے علاوہ دیگر مساجد میں ایک ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفضائل/حدیث: 565]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الحج، باب فضل الصلاة بمسجدي مكة والمديںة، رقم: 1394 . سنن ترمذي، رقم: 325 . سنن نسائي، رقم: 694 . سنن ابن ماجه، رقم: 1404 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 566
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، نا عَبْدُ اللَّهِ الْأَسْلَمِيُّ وَهُوَ ابْنُ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفضائل/حدیث: 566]
تخریج الحدیث: «السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت اور اسلام کی قوت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 567
وَقَالَ قَيْسٌ: عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عُمَرُ قَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ: الْيَوْمَ وَهِيَ الْإِسْلَامُ قَالَ: وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا ذُكِرَ فِي حَدِيثِ قَيْسٍ قَالَ: قُلْ لَهَا: لَا تَبْكِينَ، فَقَالَتْ: إِنَّمَا أَبْكِي عَلَى خَبَرِ السَّمَاءِ قَالَ إِسْحَاقُ: نَرَاهُ وَهْمًا مِنْ سُفْيَانَ.
طارق بن شہاب نے بیان کیا: جب عمر رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے، ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا: آج اسلام کمزور ہو گیا۔ راوی نے کہا: سفیان بسا اوقات حدیث قیس میں کہا کرتے تھے: انہوں نے کہا: ان (ام ایمن رضی اللہ عنہا) سے کہا گیا: آپ نہ روئیں، انہوں نے فرمایا: میں آسمان کی خبر پر روتی ہوں، اسحاق (راوی) نے کہا: ہم اسے سفیان کی طرف سے وہم سمجھتے ہیں۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفضائل/حدیث: 567]
تخریج الحدیث: «معجم كبير الطبراني: 56/25 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 568
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ إِسْحَاقُ: وَأَظُنُّنِي سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ، مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا: لَوَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي فَشَكَوْتُ إِلَيْهِ وَذَكَرْتُ لَهُ قَالَتْ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَقَالَ: لَا. فَقُلْتُ: أَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ فَقَالَ: لَا. فَقُلْتُ: أَدْعُو لَكَ عَلِيًّا؟ فَقَالَ: لَا. فَقُلْتُ: أَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. قَالَتْ: فَدَعَوْتُ عُثْمَانَ فَجَاءَ فَلَمَّا كَانَ فِي الْبَيْتِ قَالَ لِي: تَنَحِّي، فَتَنَحَّيْتُ مِنْهُ، فَأَدْنَى عُثْمَانَ مِنْ نَفْسِهِ حَتَّى مَسَّتْ رُكْبَتُهُ رُكْبَتَهُ قَالَتْ: فَجَعَلَ يُحَدِّثُ عُثْمَانَ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ قَالَتْ: وَجَعَلَ يَقُولُ لَهُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: انْصَرِفْ، فَانْصَرَفَ. قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الدَّارِ، قَالُوا لِعُثْمَانَ: أَلَا تُقَاتِلُ؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا سَأَصْبِرُ عَلَيْهِ. قَالَتْ: فَكُنَّا نَرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ فِيمَا يَكُونُ مِنْ أَمْرِهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس میرا ایک صحابی ہو، میں اس سے شکایت کروں اور اس سے بات چیت کروں۔ انہوں نے کہا: میں نے گمان کیا کہ آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملنا چاہتے ہوں گے، میں نے عرض کیا: میں آپ کے لیے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: میں آپ کے لیے عمر رضی اللہ عنہ کو بلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: میں آپ کے لیے علی رضی اللہ عنہ کو بلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: میں آپ کے لیے عثمان رضی اللہ عنہ کو بلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے کہا: میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا، تو وہ تشریف لائے، پس جب وہ گھر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: الگ ہو جاؤ۔ میں الگ ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنے قریب کر لیا، حتیٰ کہ آپ کا گھٹنا ان کے گھٹنے سے چھونے لگا، انہوں نے بیان کیا: پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم عثمان رضی اللہ عنہ سے بات چیت کرنے لگے اور عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ سرخ ہونے لگا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں فرمانے لگے، اور ان کے چہرے کا رنگ سرخ ہونے لگا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: چلے جاؤ۔ وہ چلے گئے، جب ان کے گھر کے محاصرے کا دن آیا تو انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آپ لڑتے کیوں نہیں؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا ہے میں اس پر قائم رہوں گا، انہوں (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) نے فرمایا: ہم سمجھتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس واقعے کے متعلق عہد لیا تھا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفضائل/حدیث: 568]
تخریج الحدیث: «سنن ترمذي، ابواب المناقب، باب فى مناقب عثمان بن عفان رضى الله عنه، رقم: 3711 . سنن ابن ماجه، باب فضل عثمان رضى الله عنه، رقم: 113 . قال الشيخ الالباني: صحيح .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ہجرت کرنے والوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 569
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَقَالَ: الْحَبَشِيَّةُ هِيَ، يُرِيدُ الْبَلَدَ الَّذِي كَانُوا عِنْدَ النَّجَاشِيِّ، فَقَالَتْ عُيِّبْتُ عَنْ ذَاكَ بِابْنِ الْخَطَّابِ , فَقَالَ عُمَرُ: نِعْمَ الْفَقْرَةُ أَنْتُمْ، لَوْلَا أَنَّكُمْ سُبِقْتُمْ بِالْهِجْرَةِ، فَقَالَتْ: كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ جَاهِلَكُمْ وَيَحْمِلُ رَاجِلَكُمْ، ثُمَّ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَّتْ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ: ( (بَلْ لَكُمُ الْهِجْرَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا) ) ، يَعْنِي الْهِجْرَةَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَالْهِجْرَةَ يَعْنِي إِلَى الْمَدِينَةِ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے تو فرمایا: وہ حبشی ہیں؟ وہ اس سے وہ ملک مراد لیتے تھے جہاں وہ نجاشی کے پاس تھے، انہوں (اسماء رضی اللہ عنہا) نے کہا: ابن خطاب! آپ نے اس کے علاوہ کوئی قصد کیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم بہترین قوم ہو اگر تم ہجرت میں پیچھے نہ رہ جاتے، انہوں نے فرمایا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، وہ تمہارے جاہل ولا علم کو تعلیم دیتے تھے، تمہارے پیادہ کو سواری فراہم کر رہے تھے، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ قصہ بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تمہارے لیے دو ہجرتیں ہیں۔ یعنی سرزمین حبشہ کی طرف ہجرت اور مدینہ کی طرف ہجرت۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفضائل/حدیث: 569]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 416، 395/4، بخاري، كتاب الخمس، رقم: 3623، 2967 . مسلم، رقم: 169 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مکہ معظمہ کی عظمت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 570
اَخْبَرَنَا جَرِیْرٌ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ زِیَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّ مَکَّۃَ حَرَمٌ، حَرَّمَهَا اللّٰهُ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، (وَالشَّمْسَ وَالَبِقَمَر وَجَعَلَ الْأَخْشَبیْن) لَا یَحِلُّ فِیْهِ الْقِتَالُ لِاَحَدٍ قَبْلِیْ) ، وَلَا یَحِلُّ لِاَحَدٍ بَعْدِیْ، وَلَمْ تَحِلُّ لِیْ اِلَّا سَاعَةَ مِّنْ نَهَارٍ، ثُمَّ عَادَتْ لَا یُخْتَلٰی خَلَاهَا، وَلَا یُعْضَدُ شَجَرَهَا، وَلَا یُخَافُ صَیْدُهَا، وَلَا تُرْفَعُ لُقْطَتُهَا اِلَّا لِمُنْشِدٍ۔ فَقَالَ الْعَبَّاسُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، اِلَّا الْاِذْخِرَ، فَاِنَّهٗ لَا غِنَی لِاَهْلِ مَکَّةَ عَنْهُ، قَالَ: اِلَّا الْاِذْخِرِ۔ قَالَ جَرِیْرٌ: وَمَعْنٰی قَوْلُهٗ: لَا تَرْفَعُ اللُّقْطَةُ اِلَّا لِمَنْ کَانَ سَمِعَ نَاشِدًا قَبْلَ ذٰلِكَ، فَهُوَ یَحْبِسُهَا عَلَیْهِ، وَلَا یَحْکُمُ لِلُقْطَةِ مَکَّةَ کَمَا یَحْکُمُ لِلُّقْطَةِ سَائِرَ الْلبَلْدَانِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکہ حرم ہے، اللہ نے جس دن آسمان و زمین اور سورج و چاند پیدا فرمائے تھے، تب سے اسے حرام قرار دے دیا تھا، مجھ سے پہلے کسی کے لیے اس میں قتال کرنا حلال نہیں کیا گیا، اور نہ ہی میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا، اور میرے لیے بھی دن کے کچھ ہی وقت کے لیے حلال کیا گیا تھا، اور پھر اپنی حالت پر لوٹ گیا، اس کا نہ گھاس کاٹا جائے گا نہ درخت، نہ اس کے شکار کو ڈرایا جائے گا، نہ وہاں گری پڑی چیز کو اٹھایا جائے گا، سوائے اس کے جو اس کا اعلان کرنے والا ہو۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سوائے اذخر (گھاس) کے، کیونکہ مکہ والے اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوائے اذخر گھاس کے (اسے کاٹنے کی اجازت ہے)۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفضائل/حدیث: 570]
تخریج الحدیث: «تقدم تخريجه انظر، 748 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
محمد صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو اٹھتے تو ان کی آنکھیں صاف اور چمکدار ہوتی تھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 571
اَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا طَلْحَةُ، عَنْ عَطَاءٍ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ الصِّبْیَانَ کَانُوْا یُصْبِحُوْنَ رَمْصًا وَمُحَمَّدًا یُصْبِحُ صَقِیْلًا دَهِیْنًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: عام بچے جب صبح کو اٹھتے تو ان کی آنکھوں کے گوشوں میں سفید میل آئی ہوتی تھی، جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو اٹھتے تو ان کی آنکھیں بالکل صاف چمکدار ہوتی تھیں۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفضائل/حدیث: 571]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں