🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ جَزَاءِ الْوَالِدَيْنِ
والدین کے احسان کا بدلہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، أَنَّهُ شَهِدَ ابْنَ عُمَرَ وَرَجُلٌ يَمَانِيٌّ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، حَمَلَ أُمَّهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ، يَقُولُ‏:‏
إِنِّي لَهَا بَعِيرُهَا الْمُذَلَّلُ
إِنْ أُذْعِرَتْ رِكَابُهَا لَمْ أُذْعَرِ
ثُمَّ قَالَ‏:‏ يَا ابْنَ عُمَرَ أَتُرَانِي جَزَيْتُهَا‏؟‏ قَالَ‏:‏ لاَ، وَلاَ بِزَفْرَةٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ طَافَ ابْنُ عُمَرَ، فَأَتَى الْمَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ‏:‏ يَا ابْنَ أَبِي مُوسَى، إِنَّ كُلَّ رَكْعَتَيْنِ تُكَفِّرَانِ مَا أَمَامَهُمَا‏.‏
سعید بن ابو بردہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یمن کے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے، اور اس نے اپنی والدہ کو کمر پر اٹھا رکھا ہے، اور یہ اشعار پڑھ رہا ہے: ”میں اپنی ماں کے لیے سدھایا ہوا اونٹ ہوں، اگر اس کی سواریوں کو خوفزدہ کیا جائے تو میں خوفزدہ نہیں ہوں گا۔“ پھر اس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے کہ میں نے اپنی والدہ کا بدلہ چکا دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس (کی زچگی) کے ایک سانس کا بھی نہیں۔ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے طواف کیا اور مقام ابراہیم پر آ کر دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: اے ابو موسیٰ کے بیٹے! ہر دو رکعتیں ماقبل کئے ہوئے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ [الادب المفرد/كتاب الوالدين/حدیث: 11]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه المروزي فى البر والصلة: 37 و الفاكهي فى أخبار مكة: 642 و ابن أبى الدنيا فى مكارم الاخلاق: 235 و البيهقي فى شعب الإيمان: 7926»
قال الشيخ الألباني: صحیح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَسْتَخْلِفُهُ مَرْوَانُ، وَكَانَ يَكُونُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَكَانَتْ أُمُّهُ فِي بَيْتٍ وَهُوَ فِي آخَرَ‏.‏ قَالَ‏:‏ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ وَقَفَ عَلَى بَابِهَا فَقَالَ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكِ يَا أُمَّتَاهُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَتَقُولُ‏:‏ وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ يَا بُنَيَّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَيَقُولُ‏:‏ رَحِمَكِ اللَّهُ كَمَا رَبَّيْتِنِي صَغِيرًا، فَتَقُولُ‏:‏ رَحِمَكَ اللَّهُ كَمَا بَرَرْتَنِي كَبِيرًا، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ صَنَعَ مِثْلَهُ‏.‏
سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مروان اپنا نائب بنایا کرتا تھا، اور وہ ذوالحلیفہ میں رہتے تھے، اور ان کی والدہ ایک گھر میں رہتی تھی، اور وہ خود دوسرے گھر میں رہتے تھے۔ ابو مرہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جب کہیں جانے کا ارادہ فرماتے تو اپنی والدہ کے (گھر کے) دروازے پر کھڑے ہو کر فرماتے: اے اماں جان! تجھ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، تو ان کی والدہ جواب میں فرماتیں: اور تجھ پر سلامتی اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ وہ (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) فرماتے: اللہ آپ پر رحم فرمائے جیسے آپ نے بچپن میں میری پرورش کی، تو جواباً فرماتیں: اللہ تجھ پر بھی رحم فرمائے جس طرح تو نے بڑے ہو کر میرے ساتھ حسنِ سلوک کیا۔ اور جب واپس تشریف لاتے تو پھر اسی طرح کرتے۔ [الادب المفرد/كتاب الوالدين/حدیث: 12]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه ابن وهب فى الجامع: 151 و المروزي فى البر والصلة: 37 و ابن أبى الدنيا فى مكارم الاخلاق: 228»
قال الشيخ الألباني: ضعیف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ‏:‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ”يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَتَرَكَ أَبَوَيْهِ يَبْكِيَانِ، فَقَالَ‏:‏ ارْجِعْ إِلَيْهِمَا، وَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا‏.“‏
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کی بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوا اور اس کے والدین (اس کی جدائی سے) رو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جا اور انہیں ہنسا جس طرح تو نے انہیں رلایا ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب الوالدين/حدیث: 13]
تخریج الحدیث: «صحيح: أبوداؤد، الجهاد، باب فى الرجل يغزو و أبواه كارهان: 2528 و النسائي فى الكبريٰ، حديث: 8696، من حديث سفيان الثوري و النسائي: 4163 و ابن ماجه: 2782، صحيح الترغيب: 2481»
قال الشيخ الألباني: صحیح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُوسَى، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئِ ابْنَةِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَكِبَ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَى أَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَإِذَا دَخَلَ أَرْضَهُ صَاحَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ‏:‏ عَلَيْكِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ يَا أُمَّتَاهُ، تَقُولُ‏:‏ وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، يَقُولُ‏:‏ رَحِمَكِ اللَّهُ رَبَّيْتِنِي صَغِيرًا، فَتَقُولُ‏:‏ يَا بُنَيَّ، وَأَنْتَ فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا وَرَضِيَ عَنْكَ كَمَا بَرَرْتَنِي كَبِيرًا قَالَ مُوسَى‏:‏ كَانَ اسْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ‏:‏ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو‏.‏
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے بتایا کہ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سوار ہو کر عقیق علاقے میں ان کی زمین کی طرف گیا۔ جب وہ اپنی زمین میں داخل ہوئے تو انہوں نے بآواز بلند کہا: اے میری ماں تجھ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ ان کی والدہ نے جواب میں ایسے ہی کلمات کہے۔ پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تجھ پر رحم فرمائے جس طرح بچپن میں تو نے میری پرورش کی ہے۔ ان کی والدہ نے فرمایا: میرے بیٹے! اللہ آپ کو بہترین بدلہ دے اور آپ سے راضی اور خوش ہو، جیسے تو نے بڑے ہو کر میرے ساتھ حسنِ سلوک کیا۔ راوی حدیث موسیٰ بن یعقوب کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عمرو ہے۔ [الادب المفرد/كتاب الوالدين/حدیث: 14]
تخریج الحدیث: «حسن: انظر الحديث: 12»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ عُقُوقِ الْوَالِدَيْنِ
والدین کی نافرمانی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ‏؟“‏ ثَلاَثًا، قَالُوا‏:‏ بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ‏:‏ ”الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ“، مَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْتُ‏:‏ لَيْتَهُ سَكَتَ‏.‏
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں بہت بڑے گناہوں کے متعلق نہ بتاؤں؟“ تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ضرور بتلایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور (فرمایا): ”خبردار! جھوٹ بولنا!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بار بار فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے (دل میں) کہا: کاش کہ آپ خاموش ہو جاتے۔ [الادب المفرد/كتاب الوالدين/حدیث: 15]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، الأدب، باب عقوق الوالدين من الكبائر: 5976 و مسلم: 143، غاية المرام: 277»
قال الشيخ الألباني: صحیح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ‏:‏ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ‏:‏ اكْتُبْ إِلَيَّ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.‏ قَالَ وَرَّادٌ‏:‏ فَأَمْلَى عَلَيَّ وَكَتَبْتُ بِيَدَيَّ‏:‏ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَنْهَى عَنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ، وَعَنْ قِيلَ وَقَالَ‏.‏
وراد کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان لکھ بھیجو، تو انہوں نے مجھے املا کروایا، اور میں نے اپنے ہاتھوں سے لکھا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سوال، مال ضائع کرنے اور قیل و قال سے منع فرماتے تھے۔ [الادب المفرد/كتاب الوالدين/حدیث: 16]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، الاعتصام بالكتاب والسنة: 2792 و مسلم: 593، انظر الضعيفة تحت حديث: 5598»
قال الشيخ الألباني: صحیح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ
والدین پر لعنت کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ‏:‏ سُئِلَ عَلِيٌّ‏:‏ هَلْ خَصَّكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَخُصَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً‏؟‏ قَالَ‏:‏ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَخُصَّ بِهِ النَّاسَ، إِلاَّ مَا فِي قِرَابِ سَيْفِي، ثُمَّ أَخْرَجَ صَحِيفَةً، فَإِذَا فِيهَا مَكْتُوبٌ‏:‏ ”لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الأَرْضِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا‏.“‏
حضرت ابو الطفیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی خاص بات بتائی ہے جو دوسرے تمام لوگوں کو نہ بتائی ہو؟ انہوں نے فرمایا: ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی چیز نہیں بتائی جو لوگوں کو نہ بتائی ہو سوائے اس کے جو میری تلوار کے نیام میں ہے۔ پھر آپ نے ایک کاغذ کا ٹکڑا نکالا جس پر لکھا ہوا تھا: ”اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس پر جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرے، اللہ کی لعنت ہو اس پر جو زمین کے نشانات چرائے، اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس پر جو اپنے والدین پر لعنت کرے اور بدعتی کو پناہ دینے والے پر اللہ کی لعنت ہو۔“ [الادب المفرد/كتاب الوالدين/حدیث: 17]
تخریج الحدیث: «صحيح: صحيح مسلم، الأضاحي، حديث: 1978»
قال الشيخ الألباني: صحیح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ يَبَرُّ وَالِدَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ مَعْصِيَةً
جائز حد تک والدین کے ساتھ ہر ممکن حسن سلوک کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ الْبَصْرِيُّ لَقِيتُهُ بِالرَّمْلَةِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ‏:‏ أَوْصَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتِسْعٍ‏:‏ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا ؛ وَإِنْ قُطِّعْتَ أَوْ حُرِّقْتَ، وَلاَ تَتْرُكَنَّ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ مُتَعَمِّدًا، وَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَلاَ تَشْرَبَنَّ الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ، وَأَطِعْ وَالِدَيْكَ، وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ دُنْيَاكَ فَاخْرُجْ لَهُمَا، وَلاَ تُنَازِعَنَّ وُلاَةَ الأَمْرِ وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّكَ أَنْتَ، وَلاَ تَفْرُرْ مِنَ الزَّحْفِ، وَإِنْ هَلَكْتَ وَفَرَّ أَصْحَابُكَ، وَأَنْفِقْ مِنْ طَوْلِكَ عَلَى أَهْلِكَ، وَلاَ تَرْفَعْ عَصَاكَ عَنْ أَهْلِكَ، وَأَخِفْهُمْ فِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ‏.‏
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نو چیزوں کی وصیت فرمائی: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا اگرچہ تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں، یا تجھے جلا دیا جائے۔ فرض نماز جان بوجھ کر ہرگز نہ چھوڑنا، جس نے فرض نماز قصداً چھوڑ دی (اللہ کا) ذمہ اس سے بری ہے۔ شراب ہرگز نہ پینا کیونکہ وہ ہر برائی کی چابی ہے۔ والدین کی اطاعت کرنا اگر وہ تجھے حکم دیں کہ تو اپنی دنیا (یعنی دنیا کے مال) سے نکل تو ان کی خاطر نکل جانا۔ اصحاب اقتدار سے ہرگز نہ جھگڑنا، اگرچہ تو اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہو۔ میدان جنگ سے نہ بھاگنا خواہ تو ہلاک ہو جائے اور تیرے ساتھی بھاگ جائیں۔ خوشحالی میں اپنے اہل وعیال پر خرچ کرو۔ اور اپنے گھر والوں سے (ہر وقت) لاٹھی اٹھا کر نہ رکھو۔ اور انہیں اللہ عزوجل سے ڈراتے رہو۔ [الادب المفرد/كتاب الوالدين/حدیث: 18]
تخریج الحدیث: «حسن: مسند أحمد: 238/5، ابن ماجه، الفتن، باب البر على البلاء: 4034، صحيح الترغيب: 567 و الإرواء: 2026»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ‏:‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏:‏ جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا.“
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میں آپ سے ہجرت پر بیعت کے لیے حاضر ہوا ہوں، اور میں نے اپنے والدین کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ (میری جدائی کی وجہ سے) رو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جا اور انہیں جس طرح رلایا ہے اسی طرح ہنسا۔“ [الادب المفرد/كتاب الوالدين/حدیث: 19]
تخریج الحدیث: «صحيح: تقدم أنظر الحديث: 13»
قال الشيخ الألباني: صحیح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الأَعْمَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ‏:‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ الْجِهَادَ، فَقَالَ‏:‏ ”أَحَيٌّ وَالِدَاكَ‏؟“‏ فَقَالَ‏:‏ نَعَمْ، فَقَالَ‏:‏ ”فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ.“
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ وہ جہاد (میں شریک ہونے) کا ارادہ رکھتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تیرے والدین زندہ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر انہی میں جا کر جہاد کر۔“ [الادب المفرد/كتاب الوالدين/حدیث: 20]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، الجهاد، باب الجهاد بإذن الوالدين: 3004، 5972 و مسلم: 2549، الإرواء: 199»
قال الشيخ الألباني: صحیح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں