🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
104. بَابُ الْعَبْدُ رَاعٍ
غلام کی ذمہ داری کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 206
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ، وَهُوَ مَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ، وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْهُ، أَلاَ كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ‏.‏“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق سوال ہوگا، چنانچہ حاکم جو لوگوں کا ذمہ دار ہے اس سے اس کی رعیت کے بارے میں باز پرس ہو گی، اور آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا، اور کسی شخص کا غلام اپنے آقا کے مال پر نگران ہے اور اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی۔ خبردار! تم سب ذمہ دار ہو اور سب سے ان کی ذمہ داری کے متعلق پوچھ گچھ ہو گی۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 206]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأحكام: 7138 و مسلم: 1829 و أبوداؤد: 2928»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 207
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ‏:‏ الْعَبْدُ إِذَا أَطَاعَ سَيِّدَهُ، فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا عَصَى سَيِّدَهُ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ‏.‏
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: غلام جب اپنے آقا کی اطاعت کرے تو اس نے گویا اللہ عزوجل کی اطاعت کی اور جب وہ اپنے آقا کی نافرمانی کرتا ہے تو اس نے گویا اللہ عزوجل کی نافرمانی کی۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 207]
تخریج الحدیث: «ضعيف:» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
105. بَابُ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا
جس نے غلام ہونے کی خواہش کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 208
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ إِذَا أَدَّى حَقَّ اللهِ وَحَقَّ سَيِّدِهِ، لَهُ أَجْرَانِ“، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، لَوْلاَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَالْحَجُّ، وَبِرُّ أُمِّي، لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ مَمْلُوكًا‏.‏
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان غلام جب اپنے آقا کا حق ادا کرے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔“ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے! اگر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، حج کرنا اور والدہ کی خدمت کرنا نہ ہوتا تو میں غلامی کی حالت میں مرنا پسند کرتا۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 208]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب العتق، باب العبد إذا أحسن عبادة ربه و نصح سيده: 2548 و مسلم: 1665 - الصحيحة: 877»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
106. بَابُ لا يَقُولُ‏:‏ عَبْدِي
غلام کو ”عبدی“ نہیں کہنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 209
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ‏:‏ عَبْدِي، أَمَتِي، كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللهِ، وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللهِ، وَلْيَقُلْ‏:‏ غُلاَمِي، جَارِيَتِي، وَفَتَايَ، وَفَتَاتِي‏.‏“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی (اپنے غلام کو) «عبدي» اور (لونڈی کو) «امتي» نہ کہے، کیونکہ تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ کی باندیاں ہیں۔ بلکہ اس طرح کہنا چاہیے: میرا غلام، میری لونڈی اور میرا فتا (نوجوان) اور میری فتاۃ۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 209]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب العتق، باب كراهية التطاول على الرقيق: 2552، نحوه، و مسلم: 2249 - الصحيحة: 803»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
107. بَابُ هَلْ يَقُولُ‏:‏ سَيِّدِي‏؟‏
کیا کسی کو سیدی کہا جاسکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 210
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَحَبِيبٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ‏:‏ عَبْدِي وَأَمَتِي، وَلاَ يَقُولَنَّ الْمَمْلُوكُ‏:‏ رَبِّي وَرَبَّتِي، وَلْيَقُلْ‏:‏ فَتَايَ وَفَتَاتِي، وَسَيِّدِي وَسَيِّدَتِي، كُلُّكُمْ مَمْلُوكُونَ، وَالرَّبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ‏.‏“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی قطعاً ایسا نہ کہے: میرا بندہ اور میری بندی، اور غلام ہرگز نہ کہے: ربی و ربتی، مالک کو چاہیے کہ وہ غلام اور لونڈی کو میرے نوجوان، میری جواں کہہ کر پکارے اور غلام کو چاہیے کہ وہ یا سیدی کہہ کر مالک کو آواز دے۔ تم سب کے سب اللہ تعالیٰ کے غلام ہو اور رب اللہ عزوجل ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: «صحيح: أبوداؤد، الأدب، باب لا يقول المملوك ربي ربتي: 4975 و النسائي فى الكبرىٰ: 9999 - الصحيحة: 803 و عمل اليوم و الليلة: 243»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 211
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ‏:‏ قَالَ أَبِي‏:‏ انْطَلَقْتُ فِي وَفْدِ بَنِي عَامِرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا‏:‏ أَنْتَ سَيِّدُنَا، قَالَ‏:‏ ”السَّيِّدُ اللَّهُ“، قَالُوا‏:‏ وَأَفْضَلُنَا فَضْلاً، وَأَعْظَمُنَا طَوْلاً، قَالَ‏:‏ فَقَالَ‏:‏ ”قُولُوا بِقَوْلِكُمْ، وَلاَ يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ‏.‏“
مطرف اپنے والد (عبداللہ بن شخیر) سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں بنو عامر کے ایک وفد کے ہمراہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ ہمارے سید ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سید تو اللہ ہے۔“ انہوں نے کہا: آپ ہم سے زیادہ فضیلت اور عزت و شرف والے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی بات کرو اور شیطان تمہیں اپنا وکیل نہ بنائے۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 211]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب، باب فى كراهية التمادح: 4806 و أحمد: 16307 و النسائي فى الكبرىٰ: 1004»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں