🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
120. بَابُ الْمُسْلِمُ مَرْآةُ أَخِيهِ
مسلمان اپنے بھائی کا آئینہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 238
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ الْمُؤْمِنُ مَرْآةُ أَخِيهِ، إِذَا رَأَى فِيهَا عَيْبًا أَصْلَحَهُ‏.‏
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مومن اپنے بھائی کا آئینہ ہے، جب وہ اس میں کوئی عیب دیکھتا ہے تو اس کی اصلاح کر دیتا ہے۔ [الادب المفرد/كتاب الانبساط إلى الناس/حدیث: 238]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه ابن وهب فى الجامع: 203 و أبوالشيخ فى التوبيخ: 57»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 239
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”الْمُؤْمِنُ مَرْآةُ أَخِيهِ، وَالْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ، يَكُفُّ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ، وَيَحُوطُهُ مِنْ وَرَائِهِ‏.‏“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن اپنے بھائی کا آئینہ ہے اور مومن، مومن کا بھائی ہے، اس کو ضائع ہونے اور نقصان سے بچاتا ہے، اور اس کی عدم موجودگی میں اس کی حفاظت کرتا ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب الانبساط إلى الناس/حدیث: 239]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه أبوداؤد، الأدب، باب فى النصيحة و الحياطة: 4918 - الصحيحة: 926»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 240
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي حَيْوَةُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَقَّاصِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”مَنْ أَكَلَ بِمُسْلِمٍ أُكْلَةً، فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ كُسِيَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَكْسُوهُ مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مَقَامَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‏.‏“
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کے ذریعے سے ایک لقمہ کھایا، اللہ تعالیٰ اسے اسی کی مثل لقمہ دوزخ کی آگ سے کھلائے گا، اور جس کو کسی مسلمان کے سبب کپڑا پہنایا گیا تو اللہ تعالیٰ اسے اسی جیسا لباس دوزخ سے پہنائے گا۔ جو کسی مسلمان کے ذریعے ریا اور شہرت کے مقام پر کھڑا ہوا تو اللہ تعالیٰ روز قیامت ریا اور شہرت کے مقام پر کھڑا کرے گا۔“ [الادب المفرد/كتاب الانبساط إلى الناس/حدیث: 240]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أبوداؤد، الأدب، باب فى الغيبة: 4881 - الصحيحة: 934»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
121. بَابُ مَا لا يَجُوزُ مِنَ اللَّعِبِ وَالْمُزَاحِ
جو کھیل اور مذاق جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 241
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي، يَقُولُ‏:‏ ”لَا يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ صَاحِبِهِ لاَعِبًا وَلاَ جَادًّا، فَإِذَا أَخَذَ أَحَدُكُمْ عَصَا صَاحِبِهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ‏.‏“
سیدنا یزید بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے ساتھی کا سامان بطور مذاق لے نہ سنجیدگی سے، حتی کہ جب تم میں سے کوئی اپنے ساتھی کی لاٹھی پکڑے تو وہ بھی واپس کر دے۔“ [الادب المفرد/كتاب الانبساط إلى الناس/حدیث: 241]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه أبوداؤد، الأدب، باب من يأخذ الشئ من مزاح: 5003 و الترمذي: 2160 - الإرواء: 1518»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
122. بَابُ الدَّالِّ عَلَى الْخَيْرِ
خیر کے کام کی راہنمائی کرنے والے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 242
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ‏:‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏:‏ إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي، قَالَ‏:‏ ”لَا أَجِدُ، وَلَكِنِ ائْتِ فُلاَنًا، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَحْمِلَكَ“، فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ‏:‏ ”مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ‏.‏“
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ خلاف عادت میری سواری چلنے سے عاجز آ گئی ہے، لہٰذا آپ مجھے کوئی سواری دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس سواری نہیں ہے، لیکن تم فلاں آدمی کے پاس جاؤ شاید وہ تمہیں سواری دے دے۔“ چنانچہ وہ اس کے پاس گیا تو اس نے اسے سواری دے دی۔ اس نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی خیر کے کام پر راہنمائی کی اس کے لیے بھی عمل کرنے والے کے برابر اجر ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب الانبساط إلى الناس/حدیث: 242]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه مسلم، الإمارة، باب فضل إعانة الغازي فى سبيل الله ..........: 1893 و أبوداؤد: 5129 و الترمذي: 267 - الصحيحة: 1660»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
123. بَابُ الْعَفْوِ وَالصَّفْحِ عَنِ النَّاسِ
لوگوں سے درگزر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 243
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا، فَقِيلَ‏:‏ أَلاَ نَقْتُلُهَا‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”لَا“، قَالَ‏:‏ فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.‏
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت زہر آلود بھنی ہوئی بکری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھا لیا۔ پھر اس عورت کو لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیا ہم اس کو قتل نہ کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“! سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلق میں مسلسل زہر کے اثرات دیکھتا رہا۔ [الادب المفرد/كتاب الانبساط إلى الناس/حدیث: 243]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الهية و فضلها و التحريض عليها: 2617 و مسلم: 2190 و أبوداؤد: 4508 - الصحيحة: 6441»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 244
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ‏: ‏ ﴿خُذِ الْعَفْوَ ‏ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ [الأعراف: 199] ، قَالَ‏:‏ وَاللَّهِ مَا أَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤْخَذَ إِلاَّ مِنْ أَخْلاَقِ النَّاسِ، وَاللَّهِ لَآخُذَنَّهَا مِنْهُمْ مَا صَحِبْتُهُمْ‏.‏
وہب بن کیسان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے منبر پر یہ آیت پڑھی: « ﴿خُذِ الْعَفْوَ ‏ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ » [الأعراف: 199] ”عفو و درگزر سے کام لیں اور نیکی کا حکم دیں اور جاہلوں سے اعراض کریں۔“ پھر فرمایا: اللہ کی قسم یہ آیت لوگوں کے اخلاق کے متعلق نازل ہوئی۔ اللہ کی قسم جب تک میرا لوگوں سے معاملہ رہے گا میں اس کے حکم کو ضرور لوں گا۔ [الادب المفرد/كتاب الانبساط إلى الناس/حدیث: 244]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب التفسير: 4643 و أبوداؤد: 4787»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 245
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ‏.‏“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو سکھاؤ، آسانی کا برتاؤ کرو اور تنگی نہ کرو۔ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ خاموش ہو جائے۔“ [الادب المفرد/كتاب الانبساط إلى الناس/حدیث: 245]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أحمد: 2136 و ابن أبى شيبة: 532/8 و الطيالسي: 2608 و الطبراني فى الكبير: 10951 - الصحيحة: 1375»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
124. بَابُ الِانْبِسَاطِ إِلَى النَّاسِ
لوگوں کے ساتھ ہنس مکھ چہرے کے ساتھ پیش آنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 246
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ‏:‏ لَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ‏:‏ أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ، قَالَ‏:‏ فَقَالَ‏:‏ أَجَلْ وَاللَّهِ، إِنَّهُ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِبَعْضِ صِفَتِهِ فِي الْقُرْآنِ‏:‏ ‏ ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا﴾ ‏ [الأحزاب: 45] ، وَحِرْزًا لِلأُمِّيِّينَ، أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي، سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ، لَيْسَ بِفَظٍّ وَلاَ غَلِيظٍ، وَلاَ صَخَّابٍ فِي الأَسْوَاقِ، وَلاَ يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ، وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ تَعَالَى حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ، بِأَنْ يَقُولُوا‏:‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَيَفْتَحُوا بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا، وَآذَانًا صُمًّا، وَقُلُوبًا غُلْفًا‏.‏
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ملا تو ان سے عرض کیا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان صفات کے متعلق بتایئے جو تورات میں مذکور ہیں۔ انہوں نے کہا: ضرور! اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تورات میں کئی صفات ایسی ہیں جو قرآن میں بھی بعینہ مذکور ہیں (جیسے قرآن میں ہے): « ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا﴾ » [الأحزاب: 45] ”اے نبی! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔“ اور ان پڑھوں کو (گمراہی سے) بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تم میرے بندے اور رسول ہو، میں نے تمہارا نام متوکل رکھا ہے۔ آپ سخت گو، تند مزاج اور بازاروں میں شور مچانے والے نہیں ہیں۔ اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے بلکہ عفو و درگزر کرنے والے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ آپ کو اس وقت تک فوت نہیں کرے گا جب تک آپ کے ذریعے ٹیڑھی ملت کو سیدھا نہ کر دے، اس طرح کہ وہ لوگ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیں۔ اور لوگ اس کے ذریعے سے اندھی آنکھیں، بہرے کان اور بند دل نہ کھول لیں۔ [الادب المفرد/كتاب الانبساط إلى الناس/حدیث: 246]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب البيوع، باب كراهية السخب فى السوق: 2125، 4838 - المشكاة: 5752»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 247
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ‏:‏ إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْقُرْآنِ ﴿‏يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا‏﴾ [الأحزاب: 45] ، فِي التَّوْرَاةِ...... نَحْوَهُ‏.‏
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ قرآن کی یہ آیت: « ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا﴾ » [الأحزاب: 45] ”اے نبی! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔“ تورات میں بھی ہے. . . (پہلی حدیث کی طرح ہے)۔ [الادب المفرد/كتاب الانبساط إلى الناس/حدیث: 247]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب التفسير: 4838 - تخريج السنة: 1073»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»