صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ:
باب: عمارت بنانا کیسا ہے۔
حدیث نمبر: 6303
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو، قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُ لَبِنَةً عَلَى لَبِنَةٍ، وَلَا غَرَسْتُ نَخْلَةً مُنْذُ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ سُفْيَانُ: فَذَكَرْتُهُ لِبَعْضِ أَهْلِهِ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ بَنَى، قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ: فَلَعَلَّهُ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوسفیان ثوری نے، ان سے عمرو بن نشار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نہ میں نے کوئی اینٹ کسی اینٹ پر رکھی اور نہ کوئی باغ لگایا۔ سفیان نے بیان کیا کہ جب میں نے اس کا ذکر ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بعض گھرانوں کے سامنے کیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم انہوں نے گھر بنایا تھا۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے کہا پھر یہ بات ابن عمر رضی اللہ عنہما نے گھر بنانے سے پہلے کہی ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6303]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کوئی اینٹ کسی اینٹ پر نہیں رکھی اور نہ کوئی باغ ہی لگایا ہے۔“ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے ان کی یہ بات ان کے اہل خانہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! انہوں نے گھر بنایا تھا۔“ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ”پھر انہوں نے یہ بات گھر بنانے سے پہلے کہی ہوگی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6303]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة