🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
293. بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الاسْتِخَارَةِ
استخارہ کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 704
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، مَسْجِدِ الْفَتْحِ، يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الثُّلاثَاءِ وَيَوْمَ الأَرْبِعَاءِ، فَاسْتُجِيبَ لَهُ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ مِنْ يَوْمِ الأَرْبِعَاءِ، قَالَ جَابِرٌ: وَلَمْ يَنْزِلْ بِي أَمْرٌ مُهِمٌّ غائِظٌ إِلا تَوَخَّيْتُ تِلْكَ السَّاعَةَ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ فِيهِ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ، إِلا عَرَفْتُ الإِجَابَةَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسجد، یعنی مسجد فتح میں پیر، منگل اور بدھ کے روز دعا کی۔ بدھ کے روز دو نمازوں کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہوئی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے جب بھی کوئی شدید اہم کام پیش آیا تو میں نے دعا کرنے کے لیے اسی وقت کا انتخاب کیا۔ چنانچہ میں نے اللہ تعالیٰ سے بدھ کے روز اسی وقت دو نمازوں کے درمیان جب بھی دعا کی ضرور قبولیت کے آثار میں نے دیکھے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 704]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه أحمد: 14563 و البيهقي فى شعب الإيمان: 3874 و البزار: 431، كشف - انظر صحيح الترغيب: 1185»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 705
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ عَنْ خَلَفِ بْنِ خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَفْصُ ابْنُ أَخِي أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، إِنِّي أَسْأَلُكَ، فَقَالَ: ”أَتَدْرُونَ بِمَا دَعَا؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ.“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو ایک آدمی نے دعا کی اور کہا: اے آسمانوں کو سابقہ مثال کے بغیر پیدا کرنے والے! اے زندہ و قائم رکھنے والے! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو اس نے کس چیز کے ساتھ دعا کی؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے اللہ کے اس نام کے ساتھ دعا کی ہے کہ جب اس کے ذریعے سے دعا کی جائے تو وہ ضرور قبول فرماتا ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 705]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الوتر: 1495 و الترمذي: 3544 و النسائي: 1300 و ابن ماجه: 3885»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 706
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْن وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاتِي، قَالَ: ”قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مِنْ عِنْدِكَ مَغْفِرَةً، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ.“
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی دعا سکھائیں جو میں اپنی نماز میں پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو: اے اللہ! بلاشبہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، بہت زیادہ ظلم، اور گناہوں کو تیرے سوا کوئی نہیں بخش سکتا۔ تو اپنے پاس سے مجھے بخش دے، اچھی طرح بخشنا، بلاشبہ تو بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 706]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب التوحيد: 7387، 3231 و مسلم: 2705 و الترمذي: 3531 و النسائي: 1302 و ابن ماجه: 3835»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
294. بَابُ إِذَا خَافَ السُّلْطَانَ
جب بادشاہ کا ڈر ہو تو یہ دعا پڑھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 707
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ سُوَيْدٍ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: إِذَا كَانَ عَلَى أَحَدِكُمْ إِمَامٌ يَخَافُ تَغَطْرُسَهُ أَوْ ظُلْمَهُ، فَلْيَقُلِ: ”اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ فُلانِ بْنِ فُلانٍ وَأَحْزَابِهِ مِنْ خَلائِقِكَ، أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ يَطْغَى، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلا إِلَهَ إِلا أَنْتَ.“
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب تم میں سے کسی پر ایسا شخص مسلط ہو جس کے ظلم و تکبر کا خوف ہو تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہیے: ”اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب اور عرش عظیم کے رب! فلاں بن فلاں سے اور اس کے گروہ سے جو تیری مخلوق میں سے ہیں، تو مجھے پناہ دے کہ ان میں سے کوئی مجھ پر زیادتی یا سرکشی کرے۔ تیرا پناہ گزیں باعزت ہے اور تیری تعریف بہت اونچی ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 707]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه ابن أبى شيبة: 29177 و الطبراني فى الكبير: 15/10 و البيهقي فى الدعوات الكبير: 472 - انظر الضعيفة تحت رقم: 2400»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 708
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ المِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِذَا أَتَيْتَ سُلْطَانًا مَهِيبًا، تَخَافُ أَنْ يَسْطُوَ بِكَ، فَقُلِ: ”اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَعَزُّ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلا هُوَ، الْمُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الأَرْضِ إِلا بِإِذْنِهِ، مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلانٍ، وَجُنُودِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَأَشْيَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ، اللَّهُمَّ كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ“، ثَلاثَ مَرَّاتٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب تم کسی ایسے بادشاہ کے پاس جاؤ جس سے لوگ ڈرتے ہوں اور تمہیں خوف ہو کہ وہ تم پر ظلم کرے گا تو یہ دعا پڑھا کرو: ”اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ تمام مخلوق سے بڑھ کر قوی ہے۔ اللہ اس سے بھی قوی اور طاقت والا ہے جس سے میں خوف کھاتا ہوں اور ڈرتا ہوں۔ میں اس ذات کی پناہ لیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو ساتوں آسمانوں کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے مگر جب اس کی اجازت ہو گی (تو گر جائیں گے)، تیرے فلاں بندے، اس کے گروہ، اس کے ساتھیوں اور اس کی جماعتوں کے شر سے وہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے۔ اے اللہ! مجھے ان کے شر سے بچانے والا بن جا۔ تیری تعریف بہت زیادہ ہے، اور جو تجھ سے پناہ مانگے وہ باعزت ہے، اور تیرا اسم پاک بہت مبارک ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“ تین مرتبہ یہ دعا پڑھے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 708]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه ابن أبى شيبة: 29177 و الخرائطي فى المكارم: 1042 و الطبراني فى الكبير: 258/10 و البيهقي فى الدعوات الكبير: 473 - انظر صحيح الترغيب: 2238»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 709
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَيْسٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: مَنْ نَزَلَ بِهِ هَمٌّ أَوْ غَمٌّ أَوْ كَرْبٌ أَوْ خَافَ مِنْ سُلْطَانٍ، فَدَعَا بِهَؤُلاءِ اسْتُجِيبَ لَهُ: ”أَسْأَلُكَ بِلا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، وَأَسْأَلُكَ بِلا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ، وَأَسْأَلُكَ بِلا إِلَهَ إِلا أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَالأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا فِيهِنَّ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ“، ثُمَّ سَلِ اللَّهَ حَاجَتَكَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جسے کوئی پریشانی، غم یا بے چینی لاحق ہو یا اسے کسی بادشاہ کے ظلم کا ڈر ہو تو وہ ان کلمات کے ساتھ دعا کرے، وہ دعا ضرور قبول ہو گی: ”میں تجھ سے «لا إله إلا أنت» کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جو رب ہے ساتوں آسمانوں کا، اور رب ہے عرش عظیم کا۔ اور میں سوال کرتا ہوں «لا إله إلا أنت» کے وسیلے سے جو رب ہے سات آسمانوں کا اور رب ہے عرش کریم کا۔ اور میں سوال کرتا ہوں «لا إله إلا أنت» کی وساطت سے جو رب ہے سات آسمانوں اور سات زمینوں اور جو کچھ ان میں ہے۔ بلاشبہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔“ پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت کا سوال کرے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 709]
تخریج الحدیث: «ضعيف:» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
295. بَابُ مَا يُدَّخَرُ لِلدَّاعِي مِنَ الأَجْرِ وَالثَّوَابِ
دعا کرنے والے کے لیے اجر و ثواب کے ذخیرہ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 710
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيَّ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو، لَيْسَ بِإِثْمٍ وَلا بِقَطِيعَةِ رَحِمٍ، إِلا أَعْطَاهُ إِحْدَى ثَلاثٍ: إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَ لَهُ دَعْوَتَهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يَدْفَعَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا“، قَالَ: إِذًا يكثرِ، قَالَ: ”اللَّهُ أَكْثَرُ.“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان بھی دعا کرتا ہے بشرطیکہ وہ گناہ یا قطع رحمی کی نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے تین چیزوں میں سے ایک ضرور عطا فرماتا ہے: یا تو اس کی دعا سوال کے مطابق اسی وقت قبول ہو جاتی ہے، یا آخرت میں اس کے لیے ذخیرہ کر دیتا ہے، یا اس جیسی کوئی تکلیف جو پہنچنے والی ہوتی ہے، اسے دور کر دیتا ہے۔“ راوی نے کہا: تب تو ہم بہت زیادہ دعا کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس سے بھی زیادہ دینے والا ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 710]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه ابن الجعد فى مسنده: 3282 و أحمد: 11133 و ابن أبى شيبة: 22/6 و عبد بن حميد: 937 - انظر صحيح الترغيب: 1633»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 711
حَدَّثَنَا ابْنُ شَيْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَوْهَبٍ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ”مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَنْصُبُ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ يَسْأَلُهُ مَسْأَلَةً، إِلا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا، إِمَّا عَجَّلَهَا لَهُ فِي الدُّنْيَا، وَإِمَّا ذَخَرَهَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مَا لَمْ يَعْجَلْ“، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا عَجَلَتُهُ؟ قَالَ: ”يَقُولُ: دَعَوْتُ وَدَعَوْتُ، وَلا أُرَاهُ يُسْتَجَابُ لِي.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مومن اللہ کی طرف متوجہ ہو کر کوئی سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرما دیتا ہے۔ یا تو دنیا ہی میں سوال کے مطابق عطا فرماتا ہے، یا آخرت میں اس کے لیے ذخیرہ کر دیتا ہے جب تک بندہ جلد بازی نہ کرے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جلد بازی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کہتا ہے: میں نے دعا کی، پھر دعا کی، لیکن دعا قبول ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 711]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أحمد: 9785 و الحاكم: 497/1 و البيهقي فى الدعوات الكبير: 378»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
296. بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ
دعا کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 712
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ”لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الدُّعَاءِ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے بڑھ کر کوئی چیز قابل قدر نہیں۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 712]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه الترمذي، كتاب الدعوات: 3370 و ابن ماجه: 3829 - انظر صحيح الترغيب: 1629»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 713
حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ”أَشْرَفُ الْعِبَادَةِ الدُّعَاءُ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل اور اعلیٰ عبادت دعا ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 713]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه خليفة بن خياط فى مسنده: 75/1 - المشكاة: 2232»
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں