صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: {قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلاَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا} قَضَى:
باب: سورۃ التوبہ کی اس آیت «قل لن يصيبنا إلا ما كتب الله لنا» کا بیان۔
حدیث نمبر: 6619
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ؟ فَقَالَ:" كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، مَا مِنْ عَبْدٍ يَكُونُ فِي بَلَدٍ يَكُونُ فِيهِ، وَيَمْكُثُ فِيهِ لَا يَخْرُجُ مِنَ الْبَلَدِ، صَابِرًا مُحْتَسِبًا، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ".
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو نضر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے داؤد بن ابی الفرات نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ عذاب تھا اور اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اسے بھیجتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنا دیا، کوئی بھی بندہ اگر کسی ایسے شہر میں ہے جس میں طاعون کی وبا پھوٹی ہوئی ہے اور اس میں ٹھہرا ہے اور اس شہر سے بھاگا نہیں صبر کئے ہوئے ہے اور اس پر اجر کا امیدوار ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس تک صرف وہی چیز پہنچ سکتی ہے جو اللہ نے اس کی تقدیر میں لکھ دی ہے تو اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 6619]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون ایک عذاب تھا، اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا اسے نازل کرتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کے حق میں اسے باعثِ رحمت بنا دیا ہے، لہٰذا جو شخص طاعون میں مبتلا ہو اور یہ یقین رکھتا ہو کہ جو کچھ اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے اس کے علاوہ اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، پھر صبر کے ساتھ ثواب کی امید میں اسی شہر میں پڑا رہے تو اسے شہید کے برابر ثواب ملتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 6619]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
16. بَابُ: {وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلاَ أَنْ هَدَانَا اللَّهُ}:
باب: آیت «وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله» الخ کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q6620
لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ.
«وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله» ”اور ہم ہدایت پانے والے نہیں تھے، اگر اللہ نے ہمیں ہدایت نہ کی ہوتی۔“ «لو أن الله هداني لكنت من المتقين» ”اگر اللہ نے مجھے ہدایت کی ہوتی تو میں متقیوں میں سے ہوتا۔“ (الزمر: 57) [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: Q6620]
حدیث نمبر: 6620
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، أَخْبَرَنَا جَريِرٌ هُوَ ابْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاء بْنِ عَازِب، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ وَهُوَ يَقُولُ:" وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا صُمْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا، إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو جریر نے خبر دی جو ابن حازم ہیں، انہیں ابواسحاق نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے غزوہ خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہمارے ساتھ مٹی اٹھا رہے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے۔ ”واللہ، اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پا سکتے۔ نہ روزہ رکھ سکتے اور نہ نماز پڑھ سکتے۔ پس اے اللہ! ہم پر سکینت نازل فرما۔ اور جب سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ اور مشرکین نے ہم پر زیادتی کی ہے۔ جب وہ کسی فتنہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 6620]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ہمارے ساتھ مٹی اٹھا رہے تھے اور فرما رہے تھے: «وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا، إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا» ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پا سکتے، نہ روزہ رکھ سکتے اور نہ نماز پڑھ سکتے، اے اللہ! ہم پر سکینت نازل فرما، اگر ہم دشمن سے لڑیں تو ہمیں ثابت قدم رکھ، مشرکین نے ہم پر زیادتی کی ہے، جس وقت انہوں نے فتنے کا ارادہ کیا تو ہم نے انکار کر دیا۔“” [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 6620]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة