🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
629. بَابُ مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ فَهُوَ أَحَقُّ أَنْ يَذْهَبَ إِلَيْهِ
جسے کوئی کام ہو اسے ہی جانا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1302
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَاءَهُ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ يَوْمًا، فَأَذِنَ لَهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِ جَارِيَةٍ لَهُ تُرَجِّلُهُ، فَنَزَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ‏:‏ دَعْهَا تُرَجِّلُكَ، فَقَالَ‏:‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ جِئْتُكَ، فَقَالَ عُمَرُ‏:‏ إِنَّمَا الْحَاجَةُ لِي‏.‏
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی، اس (یعنی میں) نے اندر آنے کی اجازت دے دی جبکہ اس کا سر ایک لونڈی کے ہاتھ میں تھا جو اسے کنگھی کر رہی تھی۔ اس نے اپنا سر لونڈی سے چھڑانا چاہا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے کنگھی کرنے دو۔ اس نے عرض کیا: امیر المومنین! آپ مجھے پیغام بھیج دیتے تو میں حاضر ہو جاتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کام مجھے تھا (اس لیے مجھے ہی آنا چاہیے تھا)۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 1302]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه أحمد: 521 و ابن أبى الدنيا فى ذم الملاهي: 117 و ابن عساكر فى تاريخ دمشق: 229/29»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
630. بَابُ إِذَا تَنَخَّعَ وَهُوَ مَعَ الْقَوْمِ
لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے بلغم آئے تو کیا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1303
حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ إِذَا تَنَخَّعَ بَيْنَ يَدَيِ الْقَوْمِ فَلْيُوَارِ بِكَفَّيْهِ حَتَّى تَقَعَ نُخَاعَتُهُ إِلَى الأَرْضِ، وَإِذَا صَامَ فَلْيَدَّهِنْ، لاَ يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ الصَّوْمِ‏.‏
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب کوئی آدمی لوگوں کے سامنے بلغم نکالے تو اسے چاہیے کہ اسے دونوں ہتھیلیوں سے چھپا لے، یہاں تک کہ اس کا بلغم زمین پر گر جائے۔ اور جب کوئی آدمی روزہ رکھے تو چاہیے کہ تیل لگا لے تاکہ اس پر روزے کا اثر دکھائی نہ دے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 1303]
تخریج الحدیث: «ضعيف الإسناد موقوفًا: أخرجه ابن أبى شيبة: 9755 و البيهقي فى شعب الإيمان: 6902»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد موقوفًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
631. بَابُ إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ لَا يُقْبِلُ عَلَى وَاحِدٍ
جب لوگوں سے بات کر رہا ہو تو کسی ایک طرف توجہ نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1304
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ‏:‏ كَانُوا يُحِبُّونَ إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ أَنْ لاَ يُقْبِلَ عَلَى الرَّجُلِ الْوَاحِدِ، وَلَكِنْ لِيَعُمَّهُمْ‏.‏
حضرت حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ پسند کرتے تھے کہ جب کوئی آدمی بیان کرے تو وہ کسی ایک آدمی کی طرف متوجہ نہ ہو، بلکہ عمومی خطاب کرے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 1304]
تخریج الحدیث: «حسن الإسناد مقطوعًا: أخرجه أبوخيثمة فى العلم: 145 و ابن الجعد فى مسنده: 556 و أبونعيم فى الحلية: 61/5»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد مقطوعًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں