سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب مَا يَجُوزُ لِلْوَصِيِّ وَمَا لاَ يَجُوزُ:
وصی کے لئے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے؟
حدیث نمبر: 3238
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ:"فِي مَالِ الْيَتِيمِ يَعْمَلُ بِهِ الْوَصِيُّ إِذَا أَوْصَى إِلَى الرَّجُلِ".
منصور (ابن المعتمر) سے روایت ہے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: یتیم کے مال میں وصی (جس کو وصیت کی گئی ہے) کام (تجارت وغیرہ) کرے گا جب کسی آدمی نے اس کو وصیت کی ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3238]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3249] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، لیکن کسی اور محدث نے اسے روایت نہیں کیا۔ عبیداللہ: ابن موسیٰ، اور اسرائیل: ابن یونس بن ابی اسحاق ہیں۔
اس اثر کی سند صحیح ہے، لیکن کسی اور محدث نے اسے روایت نہیں کیا۔ عبیداللہ: ابن موسیٰ، اور اسرائیل: ابن یونس بن ابی اسحاق ہیں۔
حدیث نمبر: 3239
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "وَصِيُّ الْيَتِيمِ يَأْخُذُ لَهُ بِالشُّفْعَةِ، وَالْغَائِبُ عَلَى شُفْعَتِهِ".
اسماعیل سے مروی ہے حسن رحمہ اللہ نے کہا: یتیم کا وصی اس کے لئے حق شفعہ لے گا اور غائب کا وصی جس کو شفعہ کی وصیت کی گئی ہو وہ بھی حق شفعہ لے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3239]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسماعيل بن مسلم المكي ضعيف وباقي رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 3250] »
اس اثر میں اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف ہیں۔ دیگر کسی محدث نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس اثر میں اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف ہیں۔ دیگر کسی محدث نے اسے روایت نہیں کیا۔
وضاحت: (تشریح احادیث 3235 سے 3239)
حقِ شفعہ مکان، دکان، زمین میں پڑوسی اور شریک کا یہ حق ہوتا ہے کہ اگر ان کو بیچنا چاہے تو پہلے شریک یا پڑوسی سے پوچھ لے، پہلے خریدنے کا حق اس کا ہے، جب اس کو حاجت یا استطاعت نہ ہو تو دوسرا کوئی بھی شخص خرید سکتا ہے۔
مذکور بالا اثر میں یتیم کے وصی یا ولی کو اختیار ہوگا کہ وہ شفعہ کا مطالبہ کرے اور حقِ شفعہ یتیم کے لئے اس کو دینا ہوگا۔
حقِ شفعہ مکان، دکان، زمین میں پڑوسی اور شریک کا یہ حق ہوتا ہے کہ اگر ان کو بیچنا چاہے تو پہلے شریک یا پڑوسی سے پوچھ لے، پہلے خریدنے کا حق اس کا ہے، جب اس کو حاجت یا استطاعت نہ ہو تو دوسرا کوئی بھی شخص خرید سکتا ہے۔
مذکور بالا اثر میں یتیم کے وصی یا ولی کو اختیار ہوگا کہ وہ شفعہ کا مطالبہ کرے اور حقِ شفعہ یتیم کے لئے اس کو دینا ہوگا۔
حدیث نمبر: 3240
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ، قَالَ:"كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعِنْدَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ، وَأَبُو قِلَابَةَ، إِذْ دَخَلَ غُلَامٌ، فَقَالَ: أَرْضُنَا بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، بَاعَكُمْ الْوَصِيُّ وَنَحْنُ أَطْفَالٌ، فَالْتَفَتَ إِلَى سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ، فَقَالَ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: فَأَضْجَعَ فِي الْقَوْلِ، فَالْتَفَتَ إِلَى أَبِي قِلَابَةَ، فَقَالَ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: رُدَّ عَلَى الْغُلَامِ أَرْضَهُ، قَالَ: إِذًا يَهْلِكُ مَالُنَا؟ قَالَ: أَنْتَ أَهْلَكْتَهُ".
عکرمہ نے روایت کیا: دمشق کے ایک شیخ نے کہا: میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس تھا اور ان کے پاس سلیمان بن حبیب اور ابوقلابہ بھی موجود تھے کہ اچانک ایک لڑکا آیا اور گویا ہوا کہ فلاں جگہ ہماری زمین ہے جس کو ہمارے وصی نے آپ کے لئے فروخت کر دیا اس وقت ہم بچے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سلیمان بن حبیب کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: اس بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے گول مول جواب دیا، پھر وہ ابوقلابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: لڑکے کی زمین لوٹا دو، انہوں نے کہا: پھر تو ہمارا مال مارا جائے گا، جواب دیا: آپ نے خود اپنے مال کو ضائع کیا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3240]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 3251] »
اس اثر کی سند میں عکرمہ مجہول ہیں، باقی رجال ثقہ ہیں۔ یہ روایت بھی کہیں اور نہیں مل سکی لیکن اس کے ہم معنی۔ دیکھئے: [ابن منصور 329] ، [مصنف عبدالرزاق 16479]
اس اثر کی سند میں عکرمہ مجہول ہیں، باقی رجال ثقہ ہیں۔ یہ روایت بھی کہیں اور نہیں مل سکی لیکن اس کے ہم معنی۔ دیکھئے: [ابن منصور 329] ، [مصنف عبدالرزاق 16479]
10. باب إِذَا أَوْصَى لِرَجُلٍ بِالنِّصْفِ وَلآخَرَ بِالثُّلُثِ:
جب مرنے والا کسی کے لئے آدھے مال اور کسی کے لئے تہائی مال کی وصیت کرے
حدیث نمبر: 3241
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْحَسَنِ:"فِي رَجُلٍ أَوْصَى لِرَجُلٍ بِنِصْفِ مَالِهِ، وَلِآخَرَ بِثُلُثِ مَالِهِ، قَالَ: يَضْرِبَانِ بِذَلِكَ فِي الثُّلُثِ: هَذَا بِالنِّصْفِ، وَهَذَا بِالثُّلُث".
اشعث سے مروی ہے حسن رحمہ اللہ نے ایسے شخص کے بارے میں کہا جس نے کسی آدمی کے لئے آدھے (مال) کی اور کسی دوسرے کے لئے اپنے تہائی (مال) کی وصیت کی، حسن رحمہ اللہ نے کہا: ان دونوں کوثلث (تہائی) میں سے حصہ دیا جائے گا، نصف والے کو نصف اور ثلث والے کو ثلث۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3241]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3252] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ محمد بن عبداللہ: انصاری ہیں، اور اشعث: ابن عبداللہ الحدانی ہیں۔ «وانفرد به الدارمي» ۔
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ محمد بن عبداللہ: انصاری ہیں، اور اشعث: ابن عبداللہ الحدانی ہیں۔ «وانفرد به الدارمي» ۔
وضاحت: (تشریح احادیث 3239 سے 3241)
یعنی ایسی صورت میں ایک تہائی مال نکال کر اس میں سے آدھا اور ثلث موصی لہ کو دیا جائے گا۔
یعنی ایسی صورت میں ایک تہائی مال نکال کر اس میں سے آدھا اور ثلث موصی لہ کو دیا جائے گا۔
11. باب الرُّجُوعِ عَنِ الْوَصِيَّةِ:
وصیت سے رجوع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3242
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "يُغَيِّرُ صَاحِبُ الْوَصِيَّةِ مِنْهَا مَا شَاءَ، غَيْرَ الْعَتَاقَةِ".
الشیبانی (سلیمان بن ابی سلیمان) سے مروی ہے امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: وصیت کرنے والا جو چاہے وصیت میں رد و بدل کر سکتا ہے سوائے آزادی کے (اس میں رد و بدل نہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3242]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 3253] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10856] ، [عبدالرزاق 16386] ، [ابن منصور 376]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10856] ، [عبدالرزاق 16386] ، [ابن منصور 376]
حدیث نمبر: 3243
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ:"أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: "يُحْدِثُ الرَّجُلُ فِي وَصِيَّتِهِ مَا شَاءَ، وَمِلَاكُ الْوَصِيَّةِ آخِرُهَا".
عبداللہ بن ابی ربیعہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: آدمی اپنی وصیت میں جو چاہے اضافہ کر سکتا ہے اور جو آخری وصیت ہو گی وہی اصل ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3243]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 3254] »
اس اثر کی سند کے سب رجال ثقہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه، الطرف الأول فقط 10853] ، [عبدالرزاق 16379] ، [البيهقي 281/6] ، [المحلی 341/9]
اس اثر کی سند کے سب رجال ثقہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه، الطرف الأول فقط 10853] ، [عبدالرزاق 16379] ، [البيهقي 281/6] ، [المحلی 341/9]
حدیث نمبر: 3244
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ:"أَنَّ أَبَاهُ أَعْتَقَ رَقِيقًا لَهُ فِي مَرَضِهِ، ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَرُدَّهُمْ وَيُعْتِقَ غَيْرَهُمْ، قَالَ: فَخَاصَمُونِي إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، فَأَجَازَ عِتْقَ الْآخِرِينَ، وَأَبْطَلَ عِتْقَ الْأَوَّلِينَ".
عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ ان کے والد نے اپنی بیماری کے دوران اپنے غلام کو آزاد کر دیا، پھر ان کو محسوس ہوا کہ انہیں لوٹا لیں (یعنی آزاد نہ کریں) اور دوسرے غلاموں کو آزاد کر دیں تو ان غلاموں نے عبدالملک بن مروان کے رو برو مجھ سے جھگڑا کیا تو عبدالملک نے دوسرے فریق کی آزادی کو جائز قرار دیا اور پہلے والوں کی آزادی منسوخ کر دی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3244]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف دينار مجهول. وباقي رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 3255] »
اس اثر کی سند میں دینار مجہول ہیں اس لئے ضعیف ہے۔ «وانفرد به الدارمي» ۔
اس اثر کی سند میں دینار مجہول ہیں اس لئے ضعیف ہے۔ «وانفرد به الدارمي» ۔
وضاحت: (تشریح احادیث 3241 سے 3244)
گرچہ اس اثر کی سند ضعیف ہے لیکن صحیح مسئلہ یہ ہی ہے کہ آدمی اپنے جیتے جی کسی بھی وصیت میں رد و بدل کر سکتا ہے اور جو آخری وصیت ہوگی وہی قابلِ عمل و قابلِ تنفيذ ہوگی۔
واللہ اعلم۔
گرچہ اس اثر کی سند ضعیف ہے لیکن صحیح مسئلہ یہ ہی ہے کہ آدمی اپنے جیتے جی کسی بھی وصیت میں رد و بدل کر سکتا ہے اور جو آخری وصیت ہوگی وہی قابلِ عمل و قابلِ تنفيذ ہوگی۔
واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 3245
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: "يُحْدِثُ الرَّجُلُ فِي وَصِيَّتِهِ مَا شَاءَ، وَمِلَاكُ الْوَصِيَّةِ آخِرُهَا". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: هَمَّامٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَمْرٍو، وَبَيْنَهُمَا قَتَادَةُ.
شرید بن سوید سے مروی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آدمی اپنی وصیت میں جو چاہے (رد و بدل) اضافہ کر سکتا ہے اور آخری وصیت ہی اصل ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: ہمام نے عمرو بن شعیب سے سماع نہیں کیا اور ان دونوں کے درمیان قتادہ رحمہ اللہ ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3245]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3256] »
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے۔ اوپر (3243) نمبر پر اس اثر کی تخریج گذر چکی ہے۔ نیز آگے بھی یہ اثر آ رہا ہے۔
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے۔ اوپر (3243) نمبر پر اس اثر کی تخریج گذر چکی ہے۔ نیز آگے بھی یہ اثر آ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 3246
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: ابْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ:"فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِوَصِيَّةٍ ثُمَّ يُوصِي بِأُخْرَى، قَالَ: هُمَا جَائِزَتَانِ فِي مَالِهِ".
معمر سے مروی ہے امام زہری رحمہ اللہ نے ایسے شخص کے بارے میں کہا جو کوئی وصیت کرے، پھر دوسری وصیت کرتا ہے؟ زہری رحمہ اللہ نے کہا: اس کے اپنے مال میں دونوں وصیتیں جائز ہیں (یعنی اس کو رد و بدل کا حق ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3246]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الزهري، [مكتبه الشامله نمبر: 3257] »
اس حدیث کی سند امام زہری رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 16389] ، [ابن منصور 370]
اس حدیث کی سند امام زہری رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 16389] ، [ابن منصور 370]
حدیث نمبر: 3247
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: "مِلَاكُ الْوَصِيَّةِ آخِرُهَا".
قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آخری وصیت ہی اصل ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3247]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3258] »
اس حدیث کی سند میں انقطاع ہے۔ دیکھئے: [ابن حزم 341/9] ، و رقم (3245)
اس حدیث کی سند میں انقطاع ہے۔ دیکھئے: [ابن حزم 341/9] ، و رقم (3245)
وضاحت: (تشریح احادیث 3244 سے 3247)
ان آثار سے ثابت ہوا کہ وصیت میں رد و بدل کرنا جائز ہے، اور جو آخری وصیت ہوگی وہی قابلِ تنفيذ مانی جائے گی، اس سے قبل کی وصیت منسوخ ہو جائے گی۔
ان آثار سے ثابت ہوا کہ وصیت میں رد و بدل کرنا جائز ہے، اور جو آخری وصیت ہوگی وہی قابلِ تنفيذ مانی جائے گی، اس سے قبل کی وصیت منسوخ ہو جائے گی۔