مسند عبدالله بن مبارك سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث نمبر: 1
حدیث نمبر: 1
عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَطْلع الآنَ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ"، فَطَلَعَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ تَنْطِفُ لِحْيَتُهُ مِنْ مَاءِ وُضُوئِهِ، قَدْ عَلَّقَ نَعَلَيْهِ بِيَدِهِ الشِّمَالِ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِثْلَ الْمَرَّةِ الأُولَى، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ أَيْضًا، فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى مِثْلِ حَالِهِ الأَوَّلِ، فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبِعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ: إِنِّي لاحَيْتُ أَبِي، فَأَقْسَمْتُ أَنِّي لا أَدْخُلُ عَلَيْهِ ثَلاثًا، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُؤْوِيَنِي إِلَيْكَ حَتَّى تَمْضِيَ فَعَلْتَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَنَسٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنْ بَاتَ مَعَهُ تِلْكَ الثَّلاثَ اللَّيَالِيَ فَلَمْ يَرَهُ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ إِذَا تَعَارَّ تَقَلَّبَ عَلَى فِرَاشِهِ ذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَكَبَّرَ حَتَّى صَلاةِ الْفَجْرِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: غَيْرَ أَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ إِلا خَيْرًا، فَلَمَّا مَضَتِ الثَّلاثُ اللَّيَالِي وَكِدْتُ أَنْ أَحْتَقِرَ عَمَلَهُ، قُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي غَضَبٌ وَلا هِجْرَةٌ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لَكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ: " يَطْلُعُ عَلَيْكُمُ الآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ" فَطَلَعْتَ أَنْتَ الثَّلاثَ الْمَرَّاتِ، فَأَرَدْتُ أَنْ آوِيَ إِلَيْكَ فَأَنْظُرَ مَا عَمِلْتَ فَأَقْتَدِيَ بَكَ، فَلَمْ أَرَ عَمِلْتَ كَبِيرَ عَمَلٍ، فَمَا الَّذِي بَلَغَ بِكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَا هُوَ إِلا مَا رَأَيْتَ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي، فَقَالَ: مَا هُوَ إِلا مَا رَأَيْتَ، غَيْرَ أَنِّي لا أَجِدُ فِي نَفْسِي لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ غِشًّا، وَلا أَحْسُدُهُ عَلَى شَيْءٍ أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: هَذَا الَّذِي بَلَغَتْ بِكَ، وَهِيَ الَّتِي لا نُطِيقُ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسی دوران ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا۔“ کہا کہ انصار کا ایک آدمی آیا، اس کی داڑھی سے وضو کا پانی ٹپک رہا تھا، اپنے جوتے بائیں ہاتھ میں لٹکائے ہوئے تھا۔ جب اگلا دن آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا۔“ تو وہی آدمی آیا اور اس کی وہی پہلے والی کیفیت تھی، جب اگلا دن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا۔“ تو وہی آدمی آیا اور اس کی وہی پہلے والی حالت تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چل دیے تو عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اس کے پیچھے ہو لیے اور اس سے کہا کہ میں نے اپنے باپ سے بڑی بحث کی اور قسم اٹھائی ہے کہ میں تین راتیں اس کے پاس نہیں ٹھہروں گا، اگر آپ میری قسم پوری کرنے کی خاطر مجھے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں تو ایسا ضرور کریں، اس نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ میں تین راتیں اس آدمی کے ساتھ رہا، وہ رات میں کچھ قیام نہ کرتا، ہاں جب بستر پر پہلو بدلتا تو اللہ کا ذکر کرتا اور «اللہ أکبر» کہتا، یہاں تک کہ نماز فجر کے لیے اٹھتا اور مکمل وضو کرتا، عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مزید برآں وہ خیر بات کی ہی کہتا ہوا سنائی دیتا تھا۔ چنانچہ جب تین راتیں گزر گئیں تو میں قریب تھا کہ اس کے عمل کو حقیر جانتا، میں نے کہا: اے اللہ کے بندے! بات یہ ہے کہ میرے اور میرے باپ کے درمیان کوئی غصہ اور رنجش نہیں ہوئی، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین دفعہ تین مجالس میں فرماتے ہوئے سنا کہ ”ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا۔“ تو تینوں مرتبہ آپ ہی آئے تھے۔ میں نے ارادہ کیا کہ آپ کے پاس رہوں اور آپ کے عمل کا مشاہدہ کروں، پھر اس عمل کو اپناؤں، لیکن میں نے آپ کو کوئی بڑا عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر آپ رضی اللہ عنہ کو اس مقام پر کس چیز نے پہنچا دیا کہ جو کچھ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے؟ اس نے کہا کہ وہی کچھ ہے جو تم دیکھ چکے ہو۔ میں وہاں سے چل پڑا، جب میں پلٹا تو اس نے مجھے آواز دی اور کہا کہ ہے تو وہی کچھ جو تم دیکھ چکے ہو، البتہ میں کبھی کسی مسلمان کے بارے میں، اپنے دل میں کینہ نہیں رکھتا اور نہ ہی کسی خیر و بھلائی پر، جو اس کو اللہ تعالیٰ نے مرحمت فرمائی ہے، حسد کرتا ہوں، اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہی وہ عمل ہے جس نے آپ کو اس مقام پر لا کھڑا کیا اور اسی عمل کی ہم میں طاقت نہیں ہے۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 1]
تخریج الحدیث: «كتب الزهد، ابن مبارك، حديث: 241، مسند احمد، رقم: 12697.» شیخ شعیب نے اس کی سند کو علی شرط الشیخین صحیح قرار دیا ہے۔»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 2
حدیث نمبر: 2
عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُمْ ذَكَرُوا عِنْدَ َرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا، فَقَالُوا: لا يَأْكُلُ حَتَّى يُطْعَمَ، وَلا يَرْحَلَ حَتَّى يُرْحَلَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْتَبْتُمُوهُ"، فَقَالُوا: إِنَّمَا حَدَّثَنَا مَا فِيهِ، قَالَ:" فَحَسْبُكَ إِذَا ذَكَرْتَ أَخَاكَ بِمَا فِيهِ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں (صحابہ رضی اللہ عنہم) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کا ذکر کیا اور کہا کہ (کوئی) نہیں کھاتا، یہاں تک کہ وہ کھا لے اور وہ کوچ نہیں کرتا، یہاں تک کہ اس کے لیے سفر کیا جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی غیبت کی ہے۔“ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو وہی (عیب) بیان کیا جو اس میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے وہ (عیب) بیان کر دیا جو تمہارے بھائی میں ہے تو یہی تجھے (گناہ گار بنانے کے لیے) کافی ہے۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 2]
تخریج الحدیث: «الزهد، ابن مبارك، حديث: 245، حلية الاولياء، ابو نعيم: 8/189، سلسلة الصحيحة، حديث: 2667.»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3
حدیث نمبر: 3
عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ الشَّامِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا عَادَ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ أَوْ زَارَهُ، قَالَ اللَّهُ لَهُ: طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ، وَبَوَّأَكَ مَنْزِلا فِي الْجَنَّةِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب مسلمان اپنے بھائی کی تیمارداری یا اس کے ساتھ ملاقات کرتا ہے تو اللہ اس لیے فرماتا ہے، تیرا دل اچھا ہوا، تیرا چلنا اچھا ہوا اور اس نے تجھے جنت میں ایک گھر کی جگہ مہیا فرما دی۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 3]
تخریج الحدیث: «جامع ترمذي، حديث: 2008، مسند احمد (الفتح الرباني): 190، 191، سنن ابن ماجة، حديث: 1443، سلسلة الصحيحة، حديث: 2632.»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4
حدیث نمبر: 4
عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، إِنَّ رَجُلا زَارَ أَخَاهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى، فَأَرْصَدَ اللَّهُ لَهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا، فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ، قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ:" أُرِيدُ أَنْ أَزُورَ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ، قَالَ: هَلْ لَكَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا؟ قَالَ: لا، إِلا أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللَّهِ، قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بے شک ایک آدمی اپنے ایک بھائی کی ملاقات کے لیے دوسری بستی میں گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتہ مقرر فرما دیا۔ جب وہ اس کے پاس پہنچا تو اس نے کہا تو کہاں کا ارادہ رکھتا ہے؟ اس نے کہا کہ میں اس بستی میں اپنے ایک بھائی کی ملاقات کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اس نے کہا کہ کیا اس نے تجھ پر کوئی احسان کیا ہے، جس کا بدلہ دینے جا رہے ہو؟ کہا کہ نہیں، میں صرف اللہ کے لیے اس سے محبت کرتا ہوں، اس نے کہا کہ بے شک میں اللہ کی طرف سے تیرے لیے پیغام دے کر بھیجا گیا ہوں کہ یقیناً اللہ بھی تیرے ساتھ محبت کرتا ہے، جیسا کہ تو اس کے ساتھ محبت کرتا ہے۔ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 4]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2567، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 572، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8034، والبزار فى «مسنده» برقم: 9549، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 35364، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 3794، 3795
صحیح مسلم: (16/124)38، صحیح ابن حبان: 1/475، 478، مسند أحمد (الفتح الربانی): 19/159، الزهد، ابن مبارك: 247، الأدب المفرد، حدیث: 161، تاریخ بغداد: 3/400، 11/76، 14/31»
صحیح مسلم: (16/124)38، صحیح ابن حبان: 1/475، 478، مسند أحمد (الفتح الربانی): 19/159، الزهد، ابن مبارك: 247، الأدب المفرد، حدیث: 161، تاریخ بغداد: 3/400، 11/76، 14/31»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5
حدیث نمبر: 5
عَنْ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلالِي، الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لا ظِلَّ إِلا ظِلِّي".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت والے دن فرمائے گا، میرے جلال کے لیے باہم محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انہیں اپنے سائے میں جگہ دوں گا، جس دن میرے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہے۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 5]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2566، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1736، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 574، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2799، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21129، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7351، 8571، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 2456
صحیح مسلم، البر والصلة: 16/123 رقم: 37، مسند أحمد: 2/221، 237، 370، 535، صحیح ابن حبان: 1/477، مسند طیالسي: 2/49، موطا: 4/342، الزهد، ابن مبارك: 247، حلیة الأولیا، ابو نعیم: 6/344، تاریخ بغداد: 5/71»
صحیح مسلم، البر والصلة: 16/123 رقم: 37، مسند أحمد: 2/221، 237، 370، 535، صحیح ابن حبان: 1/477، مسند طیالسي: 2/49، موطا: 4/342، الزهد، ابن مبارك: 247، حلیة الأولیا، ابو نعیم: 6/344، تاریخ بغداد: 5/71»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6
حدیث نمبر: 6
عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَالِمٍ الْجَيْشَانِيَّ، أَتَى أَبَا أُمَيَّةَ فِي مَنْزِلِهِ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ فَلْيَأْتِهِ فِي مَنْزِلِهِ فَيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ لِلَّهِ"، فَقَدْ جِئْتُكَ فِي مَنْزِلِكَ".
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، ”جب تم میں سے کوئی اپنے کسی ساتھی سے محبت کرے تو اس کے پاس، اس کے گھر میں آئے اور اسے خبر دے کہ بے شک وہ اللہ کے لیے اسے محبت کرتا ہے، سو میں (ابو سالم جیشانی) اسی لیے تیرے (ابو امیہ کے) پاس تیرے گھر میں آیا ہوں۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 6]
تخریج الحدیث: «مسند احمد (الفتح الرباني)19/158، مجمع الزوائد، هیثمي: 10/281، جامع الترمذي: 2392، صحیح ابن حبان: 1/474، المورد 623، حلیة الأولیاء، ابو نعیم: 6/99، تاریخ بغداد: 4/59، سلسلة الصحیحة، حدیث: 417»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7
حدیث نمبر: 7
عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ، نا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَضَى صَلاتَهُ أَقْبلَ إِلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اسْمَعُوا وَاعْقِلُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ، وَلا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ"، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَعْرَابِ مِنْ قَاصِيَةِ النَّاسِ، وَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مِنَ النَّاسِ لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ، وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ انْعَتْهُمْ لَنَا، صِفْهُمْ لَنَا، فَسُرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسُؤَالِ الأَعْرَابِيِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمْ نَاسٌ مِنْ أَفْنَاءِ النَّاسِ، وَنَوَازِعِ الْقَبَائِلِ، لَمْ تَصِلْ بَيْنَهُمْ أَرْحَامٌ مُتَقَارِبَةٌ، تَحَابُّوا فِي اللَّهِ وَتَصَافَوْا فِيهِ، يَضَعُ اللَّهُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ فَيُجْلِسُهُمْ عَلَيْهَا، فَيَجْعَلُ وُجُوهَهُمْ وَثِيَابَهُمْ نُورًا، يَفْزَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلا يَفْزَعُونَ، وَهُمْ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ الَّذِينَ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ، وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ".
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی نماز مکمل کی تو اپنے چہرے کے ساتھ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! سنو، سمجھو اور جان لو کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ نبی ہیں اور نہ ہی شہید، (لیکن) انبیاء اور شہدا ان کی مجالس اور اللہ کے قرب کی وجہ سے ان پر رشک کریں گے۔“ سو دور دراز کے بدویوں میں سے ایک آدمی دو زانوں بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھ سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گویا ہوا: اے اللہ کے نبی! لوگوں میں سے کچھ ایسے جو نہ نبی ہیں، نہ شہید، (لیکن) انبیاء اور شہداء ان کی مجالس اور اللہ کے قرب کی وجہ سے ان پر رشک کریں گے، ہمارے سامنے ان کے اوصاف ذکر فرمائیں اور ان کی تصویر کشی کریں؟ اس بدوی کے سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مسرور ہوگیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ غیر معروف لوگ ہیں، پردیسی قبائل سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا باہمی تعارف قریبی رشتہ داریوں کے باعث نہیں ہے، انہوں نے اللہ کے لیے محبت کی اور آپس میں اسی پر متفق ہوئے۔ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان کے لیے نور کے منبر بنائے گا، پھر انہیں ان پر براجمان کرے گا، ان کے چہرے نورانی اور ان کے لباس بھی نورانی بنا دے گا۔ لوگ قیامت والے دن گھبراہٹ کا شکار ہوں گے، لیکن وہ نہیں گھبرائیں گے اور وہی اللہ کے دوست ہیں، کہ جن پر نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غم زدہ ہوں گے۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 7]
تخریج الحدیث: «مسند أحمد (الفتح الربانی)19/158، الزهد، ابن مبارك، حدیث: 248، صحیح الترغیب والترہیب، حدیث: 3027»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8
حدیث نمبر: 8
عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، نا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، نا عَائِذُ اللَّهِ، قَالَ عَبْدُ الْحَمِيدِ: وَهُوَ أَبُو إِدْرِيسَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الَّذِينَ يَتَحَابُّونَ مِنْ جَلالِ اللَّهِ فِي ظِلِّ عَرْشِ اللَّهِ، يَوْمَ لا ظِلَّ إِلا ظِلُّهُ".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بے شک انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً وہ لوگ جو اللہ کے جلال کے لیے آپس میں محبت کرتے ہیں، وہ اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے، جس دن اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہوگا۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 8]
تخریج الحدیث: «مستدرك حاکم: 4/169، 170، الزهد، ابن مبارك، حدیث: 249، حلیة الأولیا، ابو نعیم: 5/122، 131، 206، مسند احمد (الفتح الرباني): 19/156، 157، مسند طیالسي، صحیح ابن حبان (الموارد): 24، صحیح الترغیب والترهیب، حدیث: 3024»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9
حدیث نمبر: 9
أنا أنا عَبْدُ الْحَمِيدِ، نا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو ظَبْيَةَ، أَنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ دَعَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ السُّلَمِيَّ، قَالَ: يَا ابْنَ عَبَسَةَ، هَلْ أَنْتَ مُحَدِّثِي حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتَهُ أَنْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ فِيهِ تَزَيُّدٌ وَلا كَذِبٌ، وَلا تُحَدِّثْنِيهِ عَنْ آخَرَ سَمِعَهُ مِنْهُ غَيْرُكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: " قَدْ حَقَّقْتُ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَحَابُّونَ مِنْ أَجْلِي، وَقَدْ حَقَّقْتُ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَصَافُّونَ مِنْ أَجْلِي، وَقَدْ حَقَّقْتُ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَزَاوَرُونَ مِنْ أَجْلِي، وَقَدْ حَقَّقْتُ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَبَاذَلُونَ مِنْ أَجْلِي، وَقَدْ حَقَّقْتُ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَنَاصَرُونَ مِنْ أَجْلِي".
شرجیل بن سمط نے عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابن عبسہ! کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی حدیث بیان کریں گے، جس میں کوئی اضافہ نہ ہو اور وہ جھوٹ بھی نہ ہو اور نہ ایسے شخص سے بیان کریں، جس نے آپ رضی اللہ عنہ کے علاوہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو؟ کہا کہ ہاں۔ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”تحقیق میں نے اپنی محبت ان لوگوں کے لیے ثابت کر دی ہے جو میری وجہ سے باہم متفق ہوئے ہیں، بلاشبہ میں نے اپنی محبت ان لوگوں کے لیے ثابت کر دی ہے جو میری وجہ سے باہم ملتے جلتے ہیں، بے شک میں نے اپنی محبت ان لوگوں کے لیے ثابت کر دی ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔ یقیناً میں نے اپنی محبت ان لوگوں کے لیے ثابت کر دی ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 9]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2984، 4309، 4615، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2483، 2484، 2575، 4396، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3142، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 769، 4335، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3965، 3966، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1635، 1638، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2812، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2419، 2420، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18580، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17294، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 3165، 9080، وأخرجه الطبراني فى «الصغير» برقم: 1095
الزهد، ابن مبارك: 249، مؤطا: 4/349، مسند احمد (الفتح الرباني)19/159، طبراني صغیر: 2/116، صحیح الترغیب والترهیب، حدیث: 3021۔»
الزهد، ابن مبارك: 249، مؤطا: 4/349، مسند احمد (الفتح الرباني)19/159، طبراني صغیر: 2/116، صحیح الترغیب والترهیب، حدیث: 3021۔»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10
حدیث نمبر: 10
عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلا مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ: طَلْحَةُ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ قَالَ:" إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بے شک میرے دو ہمسائے ہیں، میں ان دونوں میں سے ہدیہ کسے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے جس کا دروازہ تیرے زیادہ قریب ہے۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 10]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاري، حدیث: 2595، الزهد، ابن مبارك: 251، تاریخ بغداد: 7/275۔»
الحكم على الحديث: صحیح