🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. بَابُ لاَ يَدْخُلُ الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ:
باب: دجال مدینہ کے اندر نہیں داخل ہو سکے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7133
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نعیم بن عبداللہ بن المجمر نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ منورہ کے راستوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں نہ یہاں طاعون آ سکتی ہے اور نہ دجال آ سکتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7133]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ طیبہ کے راستوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں، نہ تو یہاں طاعون آ سکتا ہے اور نہ دجال ہی کو آنے کی ہمت ہوگی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7133]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7134
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ، فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا، فَلَا يَقْرَبُهَا الدَّجَّالُ، قَالَ: وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ".
مجھ سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال مدینہ تک آئے گا تو یہاں فرشتوں کو اس کی حفاظت کرتے ہوئے پائے گا چنانچہ نہ دجال اس کے قریب آ سکتا ہے اور نہ طاعون، ان شاءاللہ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7134]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال مدینہ طیبہ تک آئے گا تو یہاں فرشتوں کو اس کی حفاظت کرتے ہوئے پائے گا، چنانچہ اگر اللہ نے چاہا تو دجال اس کے قریب نہیں آسکے گا اور نہ یہاں طاعون ہی پھیلے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7134]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ:
باب: یاجوج و ماجوج کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7135
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيق، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَزِعًا، يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ، وَحَلَّقَ بِإِصْبَعَيْهِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا، قَالَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟، قَالَ: نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخُبْثُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے محمد بن ابی عتیق نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے اور ان سے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گھبرائے ہوئے داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تباہی ہے عربوں کے لیے اس برائی سے جو قریب آ چکی ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار سے اتنا کھل گیا ہے اور آپ نے اپنے انگوٹھے اور اس کی قریب والی انگلی کو ملا کر ایک حلقہ بنایا۔ اتنا سن کر زینب بن جحش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو کیا ہم اس کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے کہ ہم میں نیک صالح لوگ بھی زندہ ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جب برائی بہت بڑھ جائے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7135]
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں گھبرائے ہوئے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”عربوں کے لیے اس برائی کی وجہ سے تباہی ہے جو بالکل قریب آ لگی ہے، آج یاجوج و ماجوج کی دیوار سے اتنا حصہ کھل گیا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انگوٹھے اور اس کے قریب والی انگلی کو ملا کر ایک حلقہ سا بنایا۔ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم نیک لوگوں کی موجودگی میں بھی ہلاک کر دیے جائیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب بدکاری بہت بڑھ جائے گی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7135]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7136
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُس، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"يُفْتَحُ الرَّدْمُ، رَدْمُ يَأْجُوج وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ" وَعَقَدَ وُهَيْبٌ تِسْعِينَ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” «سد» یعنی یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل گئی ہے۔“ وہیب نے نوے کا اشارہ کر کے بتلایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7136]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سد، یعنی یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل گئی ہے۔“ (راوی حدیث) حضرت وہیب نے نوے کا اشارہ کر کے بتایا یعنی گرہ لگائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7136]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں