مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فَضِيلَةُ السُّجُودِ)
سجدے کی فضیلت
حدیث نمبر: 894
894 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ سجدے کی حالت میں اپنے رب کے انتہائی قریب ہوتا ہے، پس (سجدے کی حالت میں) زیادہ دعائیں کرو۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 894]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (215 / 482)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (نَدَمُ الشَّيْطَانِ)
شیطان کا پچھتاوا
حدیث نمبر: 895
895 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي، يَقُولُ: يَا وَيْلَتِي أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ، فَسَجَدَ، فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ، فَلِيَ النَّارُ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب ابن آدم آیتِ سجدہ تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان الگ ہو کر رونے لگتا ہے، اور کہتا ہے: ہائے افسوس! ابن آدم کو سجدے کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کر لیا تو وہ جنت کا مستحق قرار پایا، جبکہ مجھے سجدے کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کر دیا اور جہنم میرا مقدر ٹھہری۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 895]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (133/ 81)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الإِكْثَارُ مِنَ السُّجُودِ سَبَبٌ لِمُرَافَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
کثرت سے سجدہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا ذریعہ ہے
حدیث نمبر: 896
896 - وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ، فَقَالَ لِي:"سَلْ"، فَقُلْتُ: أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ:"أَوَغَيْرَ ذَلِكَ؟"، قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ، قَالَ: فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں رات بسر کیا کرتا تھا، میں آپ کے لیے وضو کا پانی اور آپ کی دیگر ضروریات کا انتظام کیا کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مجھ سے کوئی چیز مانگو۔“ میں نے عرض کیا، میں آپ سے، جنت میں آپ کے ساتھ ہونے کا سوال کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ کچھ اور؟“ میں نے عرض کیا: بس یہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پس اپنی ذات کے لیے کثرتِ سجود سے میری مدد کر۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 896]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (226 / 489)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (فَضِيلَةُ السُّجُودِ)
سجدہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 897
897 - وَعَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْخِلُنِي اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً، قَالَ مَعْدَانُ:"ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ لِي مِثْلَ مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
معدان بن طلحہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جسے کر کے میں جنت میں داخل ہو جاؤں، وہ خاموش رہے، پھر میں نے ان سے سوال کیا، تو وہ خاموش رہے، پھر میں نے تیسری مرتبہ ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: ”تم اللہ کی رضا کی خاطر کثرت سے سجدے کرو، کیونکہ تم اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے تو اللہ اس کے ذریعے تمہارا ایک درجہ بڑھا دے گا اور اس کے ذریعے تمہارا ایک گناہ مٹا دے گا۔“ معدان بیان کرتے ہیں، پھر میں ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے ان سے بھی دریافت کیا تو انہوں نے مجھے ویسے ہی بتایا جیسے ثوبان رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا تھا۔ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 897]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (225 / 488)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (وَضْعُ الرُّكْبَتَيْنِ أَوَّلًا فِي السُّجُودِ)
سجدہ میں گھٹنے پہلے رکھنا
حدیث نمبر: 898
الْفَصْلُ الثَّانِي 898 - عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:"رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ، وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھوں سے پہلے اپنے گھٹنے نیچے لگاتے اور جب (قیام کے لیے) کھڑے ہوتے تو گھٹنوں سے پہلے ہاتھ اٹھاتے تھے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 898]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (838) والترمذي (268 وقال: غريب حسن . إلخ) والنسائي (2/ 207 ح1090) و ابن ماجه (882) والدارمي (1/ 303 ح 1326)
٭ شريک القاضي مدلس ولم أجد تصريح سماعه .»
٭ شريک القاضي مدلس ولم أجد تصريح سماعه .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (عَدَمُ الجُلُوسِ كَجُلُوسِ البَعِيرِ عِنْدَ السُّجُودِ)
سجدہ کرتے وقت اونٹ کی طرح نہ بیٹھے
حدیث نمبر: 899
899 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ وَلْيَرْفَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ، قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ:"حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا"، وَقِيلَ: هَذَا مَنْسُوخٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو وہ (ہاتھوں سے پہلے گھٹنے لگا کر) اونٹ کی طرح نہ بیٹھے، وہ گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ نیچے لگائے۔“ ابوداؤد، نسائی، دارمی۔ ابوسلیمان خطابی رحمہ اللہ نے فرمایا: وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث، اس حدیث سے زیادہ درست ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ منسوخ ہے۔ اسنادہ حسن۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 899]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (840) والنسائي (2/ 207 ح 1092) والدارمي (1/ 303 ح 1327)
٭ و أعل بما لا يقدح و قول الخطابي خطأ لا دليل عليه .»
٭ و أعل بما لا يقدح و قول الخطابي خطأ لا دليل عليه .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (دُعَاءُ الجَلْسَةِ، بِرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيِّ)
جلسہ کی دعا، بروایت ابوداؤد و ترمذی
حدیث نمبر: 900
900 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:"كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي» ”اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میری رہنمائی فرما، مجھے عافیت میں رکھ اور مجھے رزق عطا فرما۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 900]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (850) و الترمذي (284) [و ابن ماجه (898) و سندهم ضعيف من أجل تدليس حبيب بن أبي ثابت و لبعضه شاھد في صحيح مسلم (2697) من غير ذکر الجلوس بين السجدتين و ثبت نحو المعني عن الإمام مکحول رحمه الله (رواه ابن أبي شيبة 634/3 ح 8922 وسنده صحيح) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (دُعَاءُ الجَلْسَةِ، بِرِوَايَةِ النَّسَائِيِّ وَالدَّارِمِيِّ)
جلسہ کی دعا، بروایت نسائی و دارمی
حدیث نمبر: 901
901 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ:"رَبِّ اغْفِرْ لِي". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي» ”میرے رب! مجھے بخش دے۔“ صحیح، رواہ النسائی والدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 901]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه النسائي (2/ 199 ح 200، 2/ 231 ح 1146) والدارمي (1/ 303، 304 ح 1330)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (كَيْفِيَّةُ السُّجُودِ)
سجدے کی کیفیت
حدیث نمبر: 902
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 902 - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ وَافْتِرَاشِ السَّبُعِ، وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَمَا يُوَطِّنُ الْبَعِيرُ"، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ.
عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”کوّے کی طرح ٹھونگے مارنے، درندے کی طرح بازو بچھانے اور اونٹ کی طرح مسجد میں اپنے لیے کوئی جگہ مخصوص کرنے“ سے منع فرمایا۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 902]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (862) والنسائي (2/ 214، 215 ح 1113) والدارمي (1/ 303 ح 1329)
٭ تميم بن محمود ضعفه الجمھور .»
٭ تميم بن محمود ضعفه الجمھور .»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (النَّهْيُ عَنِ الإِقْعَاءِ)
اقعاء منع ہے
حدیث نمبر: 903
903 - وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ إِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ، وَأَكْرَهُ لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي، لَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”علی! میں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں وہی تمہارے لیے پسند کرتا ہوں اور جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں وہی تمہارے لیے ناپسند کرتا ہوں، سجدوں کے درمیان سرین نیچے لگا کر، ٹانگیں کھڑی کر کے اور ہاتھ زمین پر لگا کر نہ بیٹھو۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 903]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه الترمذي (282) [و ابن ماجه (894) ]
٭ الحارث الأعور ضعيف جدًا و للحديث شواھد ضعيفة .»
٭ الحارث الأعور ضعيف جدًا و للحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف