🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (عِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَثَوَابُ الْمَرَضِ)
مریض کی عیادت اور بیماری کا ثواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1523
(5) - كِتَابُ الْجَنَائِزِ (1) بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1523 - عَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَطْعِمُوا الْجَائِعَ  ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ  ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو رہائی دلاؤ۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1523]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5649)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حُقُوقُ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ)
مسلمان کےمسلمان پر حقوق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1524
1524 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ:"رَدُّ السَّلَامِ  ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ  ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ  ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ  ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازہ کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینکنے والے کا ( «یَرْحَمُكَ اللّٰهُ» کہہ کر اسے) جواب دینا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1524]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1240) و مسلم (2162/4)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سِتَّةُ حُقُوقٍ لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ)
مسلمان کے مسلمان پر چھ حق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1525
1525 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ"قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:"إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ  ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ  ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ  ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتْهُ  ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ  ، وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ  . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں۔ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اس سے ملاقات کرے تو اسے سلام کر، جب وہ تجھے دعوت دے تو اسے قبول کر، جب وہ تجھ سے نصیحت چاہے تو اسے نصیحت کر، جب وہ چھینک مار کر «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہے تو تو اسے «یَرْحَمُكَ اللّٰهُ» اللہ تجھ پر رحم فرمائے کہہ کر جواب دے، جب بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کر اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ شریک ہو۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1525]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2162/5)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَأَمْرٌ بِعَدَمِ سَبْعِ أَشْيَاءَ وَفِعْلِ سَبْعِ أَشْيَاءَ)
سات چیزوں کو نہ کرنے اور سات چیزوں کو کرنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1526
1526 - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ. أَمَرَنَا: بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ  ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ  ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ  ، وَرَدِّ السَّلَامِ  ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي  ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ  ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ  ، وَنَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ  ، وَعَنِ الْحَرِيرِ، والْإِسْتَبْرَقِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَالْقَسِّيِّ  ، وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ - وَفِي رِوَايَةٍ: - وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ ; فَإِنَّهُ مَنْ شَرِبَ فِيهَا فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْ فِيهَا فِي الْآخِرَةِ - مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم فرمایا اور سات چیزوں سے ہمیں منع فرمایا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مریض کی عیادت کرنے، جنازوں کے ساتھ شریک ہونے، چھینک مارنے والے کا جواب دینے، سلام کا جواب دینے، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے، قسم اٹھانے والے کی قسم پوری کرنے اور مظلوم کی مدد کرنے کا ہمیں حکم فرمایا، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم، موٹے ریشم، باریک ریشم، سرخ زین پوش، قسی کپڑے سے اور چاندی کے برتن سے ہمیں منع فرمایا، اور ایک روایت میں ہے: چاندی کے برتن میں پینے سے (منع فرمایا) کیونکہ جس نے اس میں دنیا میں پیا وہ آخرت میں نہیں پیے گا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1526]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1239) و مسلم (2066/3)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَجْرُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ)
مریض کی عیادت کا اجر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1527
1527 - وَعَنْ ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ  فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے میوے کھانے میں مصروف رہتا ہے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1527]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2568/41)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَوَابُ الْعِيَادَةِ وَسَخَطُ اللَّهِ عَلَى مَنْ لَا يَعِيْدُ)
عیادت کرنے پر اللہ کا انعام اور نہ کرنے پر ناراضگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1528
1528 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي  . قَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟! قَالَ: أَمَّا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ؟ يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي. قَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟! قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ  ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي؟ يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي. قَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟! قَالَ: اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِهِ  ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي؟"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ روزِ قیامت فرمائے گا: اے ابنِ آدم! میں بیمار ہوا اور تو نے میری عیادت نہیں کی، وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں آپ کی عیادت کیسے کرتا جبکہ آپ تو رب العالمین ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے علم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تھا اور تو نے اس کی عیادت نہ کی، اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا؟ اے ابنِ آدم! میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا لیکن تو نے مجھے کھانا نہ دیا، وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں آپ کو کھانا کیسے دیتا جبکہ آپ رب العالمین ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے علم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا طلب کیا تھا لیکن تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا، کیا تجھے علم نہیں کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اس (کے ثواب) کو میرے پاس پاتا؟ اے ابنِ آدم! میں نے تجھ سے پانی طلب کیا تھا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا، وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں آپ کو پانی کیسے پلاتا جبکہ آپ تمام جہانوں کے رب ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی طلب کیا تھا لیکن تو نے اسے پانی نہ پلایا، اگر تو اسے پانی پلاتا تو تو اس (کے ثواب) کو میرے پاس پاتا۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1528]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2569/43)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (آدَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ)
بیمار پرسی کے آداب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1529
1529 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ، وَكَانَ إِذَا دَخَلَ يَعُودُهُ قَالَ:"لَا بَأْسَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ". فقال لَهُ:"لَا بَأْسَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ". قَالَ: كَلَّا، بَلْ حُمَّى تَفُورُ، عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، تُزِيرُهُ الْقُبُورَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَعَمْ إِذًا"رَوَاهُالْبُخَارِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک اعرابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ کسی مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تو یوں فرماتے: «لَا بَأْسَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» کوئی بات نہیں، اگر اللہ نے چاہا تو (یہ بیماری گناہوں سے) پاکیزگی کا باعث ہو گی۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بھی یہی فرمایا: «لَا بَأْسَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» کوئی بات نہیں، اگر اللہ نے چاہا تو (یہ بیماری گناہوں سے) پاکیزگی کا باعث ہو گی۔ اس اعرابی نے کہا: ہرگز نہیں، بلکہ بخار ایک بوڑھے شخص پر جوش مار رہا ہے، یہ تو قبروں تک پہنچا کر رہے گا۔ نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (اس کی یہ بات سن کر) فرمایا: «فَنَعَمْ إِذًا» ہاں! یہ ایسے ہی ہو گا۔ [رواہ البخاری] ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1529]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5662)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءُ لِلْمَرِيضِ)
بیمار کے لئے دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1530
1530 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ، مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ:"أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ  ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءٌ لَا يُغَادِرُ سَقَمًا"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب ہم میں سے کوئی بیمار ہو جاتا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے پھر یہ دعا پڑھتے: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» لوگوں کے پروردگار! بیماری دور کر دے، شفا عطا فرما، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں، تو شفا دینے والا ہے، اور ایسی شفا عطا فرما جو کسی بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1530]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5675) و مسلم (2191/46)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الرُّقَى عَلَى الْخُرَازِ وَالْخُرَازَةِ)
پھوڑے پھنسی پر دم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1531
1531 - وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ إِذَا اشْتَكَى الْإِنْسَانُ الشَّيْءَ مِنْهُ أَوْ كَانَتْ بِهِ قَرْحَةٌ أَوْ جُرْحٌ، قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأُصْبُعِهِ:"بِسْمِ اللَّهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، لِيُشْفَى سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب انسان کے کسی عضو کو کوئی تکلیف ہوتی یا اسے کوئی پھوڑا ہوتا یا کوئی زخم ہوتا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے: «بِسْمِ اللّٰهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا» اللہ کے نام (کی برکت) سے، ہماری زمین کی مٹی، ہمارے بعض کی تھوک کے ساتھ اللہ کے حکم سے ہمارے بیمار کو شفا بخشی جائے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1531]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5745. 5746) و مسلم (2194/54)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (طَرِيقَةُ الرُّقَى بِالْمُعَوِّذَاتِ)
معوذات سے دم کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1532
1532 - وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ  ، فَلَمَّا اشْتَكَى وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، كُنْتُ أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ الَّتِي كَانَ يَنْفِثُ، وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَتْ: كَانَ إِذَا مَرِضَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ نَفَثَ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوتے تو آپ «الْمُعَوِّذَاتِ» معوذات پڑھ کر اپنے آپ پر دم کرتے اور اپنے جسم پر اپنا ہاتھ پھیرتے، جب آپ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو پھر میں آپ کو «الْمُعَوِّذَاتِ» معوذات پڑھ کر دم کیا کرتی تھی جو کہ آپ اپنے آپ کو دم کیا کرتے تھے لیکن میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی تھی۔ اور مسلم کی روایت میں ہے، فرماتی ہیں: جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل خانہ میں سے کوئی شخص مریض ہوتا تو آپ «الْمُعَوِّذَاتِ» معوذات پڑھ کر اس پر دم کرتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1532]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4439) و مسلم (2192/51)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں