مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا تَتَّخِذْ حَيَوَانًا مَرْمَى لِإِيذَائِهِ)
جاندار کو اذیت پہنچانے کے لیے نشانہ مت لگاؤ
حدیث نمبر: 4074
4074 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. يَنْهَى أَنْ تُصْبَرَ بَهِيمَةٌ، أَوْ غَيْرُهَا لِلْقَتْلِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”کسی چوپائے یا کسی اور چیز کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4074]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5514) و مسلم (58/ 1956)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (لَعْنَةٌ عَلَى مَنْ يَتَّخِذُ حَيَوَانًا مَرْبُوطًا مَرْمَى)
جاندار کو باندھ کر نشانہ لگانے والے پر لعنت
حدیث نمبر: 4075
4075 - وَعَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”اس شخص پر لعنت فرمائی جو کسی ذی روح چیز کو باندھ کر نشانہ بازی کرے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4075]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5515) و مسلم (1958/59)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَنْعُ اتِّخَاذِ الْحَيَوَانَاتِ مَرْمَى لِلنِّشَانَةِ)
جاندار پر نشانہ بازی کرنا منع ہے
حدیث نمبر: 4076
4076 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ذی روح چیز کو (نشانہ بازی کے لیے) ہدف نہ بناؤ۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4076]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (58م / 1957)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (احْتِرَامُ الْوَجْهِ)
چہرے کا احترام کیا جائے
حدیث نمبر: 4077
4077 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ، وَعَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”چہرے پر مارنے اور چہرے کو داغنے“ سے منع فرمایا ہے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4077]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (106/ 2116)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (عَدَمُ وَسْمِ وَجْهِ الْحَيَوَانِ)
جانور کے چہرے پر بھی داغ نہ لگایا جائے
حدیث نمبر: 4078
4078 - وَعَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ وَقَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ ، قَالَ:"لَعَنَ اللَّهُ الَّذِي وَسَمَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گدھے کے پاس سے گزرے جس کے چہرے کو داغا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس شخص پر لعنت فرمائے جس نے اسے داغ دیا۔“ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4078]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (107/ 2116)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ بِنَفْسِهِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود صدقے کے اونٹوں کو داغ رہے تھے
حدیث نمبر: 4079
4079 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: غَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ لِيُحَنِّكَهُ، فَوَافَيْتُهُ فِي يَدِهِ الْمِيسَمُ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے کر گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے گھٹی دیں (کھجور چبا کر اس کے تالو میں لگا دیں)، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں داغ لگانے والا آلہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ صدقہ کے اونٹوں کو نشان لگا رہے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4079]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1502) ومسلم (109/ 2119)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (أَيُّ جُزْءٍ مِنَ الْحَيَوَانِ يُوْسَمُ؟)
جانور کے کس حصے کو داغا جائے
حدیث نمبر: 4080
4080 - وَعَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مِرْبَدٍ فَرَأَيْتُهُ يَسِمُ شَاءً، حَسِبْتُهُ قَالَ: فِي آذَانِهَا . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ہشام بن زید رحمہ اللہ، انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ باڑے میں تھے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بکریوں کو نشان لگا رہے تھے، راوی بیان کرتے ہیں، میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: آپ ان (بکریوں) کے کانوں پر نشان لگا رہے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4080]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5542) ومسلم (115/ 2119)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (شَرْطُ التَّكْبِيرِ لِحِلِّ الذَّبِيحَةِ)
ذبیحہ حلال ہونے کے لیے تکبیر کی شرط
حدیث نمبر: 4081
الْفَصْلُ الثَّانِي 4081 - عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ أَحَدُنَا أَصَابَ صَيْدًا وَلَيْسَ مَعَهُ سِكِّينٌ أَيَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا ؟ فَقَالَ:"أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَ شِئْتَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بتائیں کہ ہم میں سے کسی کو شکار مل جائے اور اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا وہ اسے پتھر اور لاٹھی کے کنارے سے ذبح کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”خون بہاؤ جس کے ساتھ چاہو، اور اللہ کا نام لو۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4081]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2824) و النسائي (194/7 ح 4309)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (حَوْلَ الذَّبْحِ الاضْطِرَارِيِّ)
ذبح اضطراری کے بارے میں
حدیث نمبر: 4082
4082 - وَعَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ؟ فَقَالَ:"لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَ عَنْكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذِهِ ذَكَاةُ الْمُتَرَدِّي. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا فِي الضَّرُورَةِ.
ابوالعشراء اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ذبح صرف حلق اور سینے کے بالائی حصے (لبہ) پر چھری چلانے سے ہی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نے اس کی ران پر زخم لگایا تو بھی تیرے لیے کافی ہے“۔ ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی؛ اور امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ کسی گرے پڑے جانور کے ذبح کرنے کا طریقہ ہے۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ ضرورت کے تحت ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4082]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1481 وقال: غريب) و أبو داود (2825) و النسائي (228/7 ح 4413) و ابن ماجه (3184) و الدارمي (82/2 ح 1978)
٭ قال البخاري في أبي العشراء: ’’في حديثه واسمه و سماعه من أبيه نظر‘‘»
٭ قال البخاري في أبي العشراء: ’’في حديثه واسمه و سماعه من أبيه نظر‘‘»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (بَيَانُ الصَّيْدِ الْمَيِّتِ)
مردہ شکار کا بیان
حدیث نمبر: 4083
4083 - وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَا عَلَّمْتَ مِنْ كَلْبٍ، أَوْ بَازٍ، ثُمَّ أَرْسَلْتَهُ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ". قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ: إِذَا قَتَلَهُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کسی کتے یا باز کو سدھایا، پھر تم نے اسے اللہ کا نام لے کر چھوڑا تو اس نے جو تمہارے لیے محفوظ رکھا اسے کھاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اگر وہ مار دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب اس نے اسے مار دیا اور اس میں سے کچھ نہ کھایا تو وہ اس نے تمہارے لیے ہی محفوظ رکھا ہے۔“ (سندہ ضعیف، رواہ ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4083]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (2851)
٭ مجالد ضعيف .»
٭ مجالد ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف