🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ)
جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4678
4678 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ  وَعِنْدَهُ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ. فَقَالَ الْأَقْرَعُ: إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ قَالَ:"مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ:"أَثَمَّ لُكَعُ"فِي"بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ"إِنْ شَاءَ تَعَالَى. وَذَكَرَ حَدِيثَ أُمِّ هَانِئٍ فِي"بَابِ الْإِيمَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا بوسہ لیا، اس وقت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پاس تھے، اقرع رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے دس بچے ہیں، میں نے ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (تعجب سے) اس کی طرف دیکھا، پھر فرمایا: جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ متفق علیہ۔ اور ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: «أَثَمَّ لُكَعُ؟» باب مناقبِ اہل بیتِ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وعلیہم اجمعین میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے، جبکہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث باب الامان میں ذکر کی گئی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4678]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5997) و مسلم (2318/65)
٭ حديث: أثم لکع؟ يأتي (6134)
و حديث أم ھاني تقدم (3977)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْمُصَافَحَةُ سَبَبٌ لِمَغْفِرَةِ الذُّنُوبِ)
مصافحہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4679
الْفَصْلُ الثَّانِي 4679 - عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ، إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ:"إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا، وَحَمِدَا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَاهُ، غُفِرَ لَهُمَا".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان ملاقات کرتے وقت مصافحہ کرتے ہیں، تو ان کے الگ ہونے سے پہلے انہیں بخش دیا جاتا ہے۔ احمد، ترمذی، ابن ماجہ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے، فرمایا: جب دو مسلمان ملاقات کرتے وقت مصافحہ کرتے ہیں، اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں، اور اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں، تو انہیں بخش دیا جاتا ہے۔ سندہ ضعیف، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4679]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (289/4 ح 18746) و الترمذي (2727 وقال: حسن غريب) و ابن ماجه (3703) و أبو داود (5212)
٭ أبو إسحاق مدلس و عنعن و للحديث شواھد ضعيفة .
٭ و رواية: ’’وحمدا الله و استغفراه غفرلھما‘‘ رواها أبو داود (5211) و سنده ضعيف، فيه أبو الحکم زيد بن أبي الشعثاء العنزي، و ثقه ابن حبان وحده .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ الْانْحِنَاءِ احْتِرَامًا)
احتراماً جھکنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4680
4680 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الرَّجُلُ مِنَّا يَلْقَى أَخَاهُ أَوْ صَدِيقَهُ، أَيَنْحَنِي لَهُ  ؟ قَالَ:"لَا". قَالَ: أَفَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ؟ قَالَ:"لَا"قَالَ: أَفَيَأْخُذُ بِيَدِهِ وَيُصَافِحُهُ؟ قَالَ:"نَعَمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم! ہم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملاقات کرتا ہے، تو کیا وہ اس کے سامنے سر جھکائے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا وہ اسے گلے لگائے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے عرض کیا: کیا وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے مصافحہ کرے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں۔ (اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4680]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2728 وقال: حسن) [و ابن ماجه (3702) ]
٭ فيه حنظلة بن عبيد الله السدوسي: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: حسن أَو صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْمُصَافَحَةُ تَكْمِلُ السَّلَامَ)
مصافحہ سلام کی تکمیل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4681
4681 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"تَمَامُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ أَنْ يَضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، أَوْ عَلَى يَدِهِ  ، فَيَسْأَلَهُ: كَيْفَ هُوَ؟ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمُ الْمُصَافَحَةُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَضَعَّفَهُ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مریض کی عیادت اس طرح پوری ہوتی ہے کہ تم میں سے کوئی ایک اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر یا اس کے ہاتھ پر رکھ کر اس سے دریافت کرے: کیا حال ہے؟ اور تمہارا آپس میں پورا سلام دعا، مصافحہ کرنا ہے۔ احمد، ترمذی، اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ» . [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4681]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (260/5 ح 22591) و الترمذي (2731)
٭ فيه علي بن يزيد: ضعيف مجروح، و عبيد الله بن زحر: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أُسْلُوبُ مَحَبَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا انداز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4682
4682 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي  ، فَأَتَاهُ فَقَرَعَ الْبَابَ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ عُرْيَانًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ عُرْيَانًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ، فَاعْتَنَقَهُ وَقَبَّلَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے تو اس وقت رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، وہ آپ کے پاس آئے تو انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (فرطِ محبت سے) اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے، قمیص پہنے بغیر، ان کی طرف بڑھے، اللہ کی قسم! میں نے اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد آپ کو قمیص کے بغیر دیکھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں گلے لگایا اور ان کا بوسہ لیا۔ (اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی) [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4682]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2732 وقال: حسن غريب)
٭ إبراهيم بن يحيي بن محمد: حسن الحديث و أبوه يحيي: ضعيف و کان ضريرًا يتلقن و محمد بن إسحاق بن يسار مدلس و عنعن. إن صح السند إليه .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَافِحُ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم مصافحہ فرماتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4683
4683 - وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوهُ؟  قَالَ: مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي، وَبَعَثَ إِلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَمْ أَكُنْ فِي أَهْلِي، فَلَمَّا جِئْتُ أُخْبِرْتُ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ، فَالْتَزَمَنِي، فَكَانَتْ تِلْكَ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ایوب بن بشیر، عنزہ قبیلے کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا جب آپ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات کرتے تھے تو وہ آپ سے مصافحہ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: میں جب بھی آپ سے ملا ہوں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے مصافحہ کیا ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک روز مجھے طلب فرمایا لیکن میں گھر پر نہیں تھا، جب میں آیا تو مجھے بتایا گیا، میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت چارپائی پر تشریف فرما تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے گلے لگایا، یہ (گلے لگانا) بہت ہی بہتر تھا، بہت ہی بہتر۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4683]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (5214)
٭ أيوب بن بشير: مستور و رجل من بني عنزة: مجھول، قاله المنذري .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (خِطَابُ عِكْرِمَةَ بِرَاكِبِ الْمُهَاجِرِ)
عکرمہ کو مہاجر راکب کا خطاب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4684
4684 - وَعَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ جِئْتُهُ:"مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جس روز میں (بیعت اسلام کے لیے) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: «مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ» مہاجر سوار کے لیے خوش آمدید۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4684]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2735 وقال: ليس إسناده بصحيح)
٭ سفيان الثوري و أبو إسحاق مدلسان و عنعنا و مصعب بن سعد أرسل عن عکرمة بن أبي جھل، فالسند منقطع .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَعَلُّقُ الْأَنْصَارِيِّ بِالْمَحَبَّةِ)
انصاری کا محبت سے چمٹنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4685
4685 - وَعَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ - قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ - وَكَانَ فِيهِ مُزَاحٌ - بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ، فَقَالَ: أَصْبِرْنِي. قَالَ:"أَصْطَبِرُ"قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَمِيصِهِ، فَاحْتَضَنَهُ وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ  ، قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کا تعلق انصار کے ایک قبیلے سے تھا، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن وہ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مزاحیہ طبیعت کے تھے اور وہ انہیں (اپنی باتوں کے ذریعے) ہنسا رہے تھے، تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لکڑی سے ان کے پہلو پر چوب لگائی، انہوں نے کہا: مجھے بدلہ دیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں بدلہ دیتا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا: آپ پر تو قمیص ہے جبکہ مجھ پر قمیص نہیں تھی، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قمیص مبارک اٹھائی تو میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چمٹ گیا اور آپ کے پہلو مبارک کو بوسہ دینے لگا، اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تو بس یہی چاہتا تھا۔ (صحیح، رواہ ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4685]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (5224)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (التَّقْبِيلُ أَوِ الْمُعَانَقَةُ عِنْدَ اللِّقَاءِ)
ملاقات کے وقت بوسہ لینا یا معانقہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4686
4686 - وَعَنِ الشَّعْبِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَلَقَّى جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَالْتَزَمَهُ وَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ"مُرْسَلًا. وَفِي بَعْضِ نُسَخِ"الْمَصَابِيحِ": وَفِي"شَرْحِ السُّنَّةِ"عَنِ الْبَيَاضِيِّ مُتَّصِلًا.
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا تو انہیں گلے لگایا اور ان کی آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) بوسہ دیا۔ ابوداؤد، بیہقی فی «شُعَبِ الْإِيمَانِ» میں «مُرْسَلًا» ۔ جبکہ «مَصَابِيحُ» کے بعض نسخوں میں اور «شَرْحُ السُّنَّةِ» میں البیاضی کی سند سے متصل ہے۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ» اس کی سند ضعیف ہے، «رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ» اسے ابوداؤد اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4686]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (5220) و البيھقي في شعب الإيمان (8968، والسنن الکبري 101/7)
٭ السند مرسل، و رواه البيھقي بسند ضعيف عن الشعبي عن عبد الله بن جعفر به مسندًا و للحديث طرق ضعيفة کلھا .
و ذکره البغوي في مصابيح السنة (3630) و شرح السنة (292/12 بعد ح 3327) بدون سند و لم أجده مسندًا وله شواھد ضعيفة عند أبي القاسم البغوي في معجم الصحابة (277) و الطبراني في الکبير (108/2 ح 1470) وغيرهما .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَانَقَ جَعْفَرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو گلے لگایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4687
4687 - وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي قِصَّةِ رُجُوعِهِ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، فَتَلَقَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاعْتَنَقَنِي  ، ثُمَّ قَالَ:"مَا أَدْرِي: أَنَا بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَفْرَحُ، أَمْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ؟"وَوَافَقَ ذَلِكَ فَتْحَ خَيْبَرَ. رَوَاهُ فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ".
جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سرزمین حبشہ سے واپسی کے واقعہ کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے فرمایا: جب ہم مدینہ پہنچے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا استقبال کیا اور مجھے گلے لگا لیا، پھر فرمایا: میں نہیں جانتا کہ مجھے فتح خیبر کی زیادہ خوشی ہے یا جعفر کی آمد کی۔ اتفاق سے ان کی آمد فتح خیبر کے روز تھی۔ ضعیف، رواہ فی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4687]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (291/12 بعد ح 3327) بدون سند .
٭ ورواه الطبراني في الصغير (19/1 ح30) والکبير (108/2 ح 1470، 100/22 ح 244) فيه أحمد بن خالد بن عبد الملک بن سرح، ليس بشئ (لسان الميزان 165/1) و أنس بن سالم الخولاني، ترجمته في تاريخ دمشق (232/2) و لم أجد من وثقه .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں