مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ تَوْفِيقِ القَنَاعَةِ بِالرِّزْقِ)
رزق پرقناعت کی توفیق عطا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5165
5165 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًا ، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے فلاح پائی جس نے (اپنے رب کی) اطاعت کر لی اور اسے بقدر ضرورت رزق عطا کیا گیا اور اللہ نے جو اسے عطا کیا اس پر اس نے قناعت اختیار کی۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5165]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (125/ 1054)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَا هُوَ المَالُ الحَقِيقِيُّ لِلإِنْسَانِ؟)
انسان کا حقیقی مال کون سا ہوتا ہے؟
حدیث نمبر: 5166
5166 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (يَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِي، مَالِي. وَإِنَّ مَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ: مَا أَكَلَ فَأَفْنَى أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى أَوْ أَعْطَى فَاقْتَنَى وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لَكَ) . (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کا مال فقط تین صورتوں میں ہے جو اس نے کھا کر ختم کر دیا، یا پہن کر بو کر دیا یا (اللہ کی راہ میں) دے کر ذخیرہ کر لیا، اور جو ان کے علاوہ ہے وہ تو اسے لوگوں کے لیے چھوڑ کر جانے والا ہے۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5166]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2959/4)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (العَمَلُ يَتْبَعُ الإِنْسَانَ بَعْدَ المَوْتِ)
مرنے کے بعد عمل ساتھ جاتا ہے
حدیث نمبر: 5167
5167 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ: فَيَرْجِعُ اثْنَانِ ، وَيَبْقَى مَعَهُ وَاحِدٌ: يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ، فَيَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ، وَيَبْقَى عَمَلُهُ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں، ان میں سے دو واپس آ جاتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ باقی رہتی ہے، اس کے گھر والے، اس کا مال اور اس کے اعمال اس کے ساتھ جاتے ہیں، اس کے گھر والے اور اس کا مال واپس آ جاتے ہیں، اور اس کے اعمال (اس کے ساتھ) باقی رہ جاتے ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5167]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6514) و مسلم (2960/5)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (المَالُ المَنْفَقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ هُوَ المَالُ الحَقِيقِيُّ)
اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کئے جانے والا مال ہی اپنا
حدیث نمبر: 5168
5168 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ ؟) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا مَنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ. قَالَ: (فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ وَمَالَ وَارِثِهِ مَا أَخَّرَ) . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون ہے جسے اپنے وارثوں کا مال اپنے مال سے زیادہ پسند ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہم میں سے ہر ایک کو اپنا مال اپنے وارثوں کے مال سے زیادہ پسند ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اس کا مال تو وہ ہے جو اس نے آگے بھیجا جبکہ وہ مال جو اس نے پیچھے چھوڑا وہ اس کے وارثوں کا ہے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5168]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6442)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَا هُوَ المَالُ الخَاصُّ بِكَ؟)
کون سا مال اپنا ہے؟
حدیث نمبر: 5169
5169 - وَعَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقْرَأُ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ قَالَ: (يَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي، مَالِي. قَالَ: (وَهَلْ لَكَ يَا ابْنَ آدَمَ! إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ؟) رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مطرف اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ (اس وقت) سورۂ تکاثر کی تلاوت فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، اے ابن آدم! حالانکہ تیرا مال تو صرف وہ ہے جو تو نے کھایا اور ختم کر دیا، یا پہن لیا اور بو کر دیا یا صدقہ کر کے (آخرت کے لیے) آگے بھیج دیا۔“ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5169]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2958/3)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (غِنَى القَلْبِ هُوَ الغِنَى الحَقِيقِيُّ)
دل کا مالدار ہونا مالداری ہے
حدیث نمبر: 5170
5170 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مال داری، مال اور ساز و سامان کی کثرت سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ مال داری تو نفس کی مال داری (یعنی قناعت) ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5170]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6446) و مسلم (1051/120)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (نَصَائِحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحتیں
حدیث نمبر: 5171
الْفَصْلُ الثَّانِي 5171 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (مَنْ يَأْخُذُ عَنِّي هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمُ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ؟) قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَأَخَذَ يَدِي فَعَدَّ خَمْسًا، فَقَالَ: (اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ، وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ ، وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا، وَلَا تُكْثِرِ الضَّحِكَ ; فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكَ تُمِيتُ الْقَلْبَ) . رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو مجھ سے یہ کلمات سیکھے اور ان پر عمل کرے یا کسی ایسے شخص کو سکھائے جو ان پر عمل کرے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں، چنانچہ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور پانچ چیزیں شمار کیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”محارم (اللہ کی حرام کردہ چیزوں) سے بچ جاؤ، اس طرح تم سب لوگوں سے زیادہ عبادت گزار بن جاؤ گے، اللہ نے جو تمہاری قسمت میں لکھ دیا ہے اس پر راضی ہو جاؤ، اس طرح تم سب لوگوں سے زیادہ غنی بن جاؤ گے، اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرو تو مومن بن جاؤ گے، لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو جو تم اپنی ذات کے لیے پسند کرتے ہو تو مسلمان بن جاؤ گے، اور زیادہ مت ہنسا کرو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔“ احمد، ترمذی، اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ سندہ ضعیف، رواہ احمد و الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5171]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (310/2ح 8081) و الترمذي (2305)
٭ أبو طارق مجھول والحسن البصري مدلس و عنعن .»
٭ أبو طارق مجھول والحسن البصري مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (رَاحَةُ القَلْبِ لِلْعِبَادَةِ)
عبادت کے لیے فراغت دل کی آسودگی
حدیث نمبر: 5172
5172 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: ابْنَ آدَمَ! تَفْرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى وَأَسِدَّ فَقْرَكَ ، وَإِنْ لَا تَفْعَلْ مَلَأْتُ يَدَكَ شُغُلًا وَلَمْ أَسِدَّ فَقْرَكَ) . رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ فرماتا ہے: انسان! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرے دل کو مال داری (قناعت) سے بھر دوں گا، تیری محتاجی ختم کر دوں گا اور اگر تو (ایسے) نہیں کرے گا تو میں تمہیں کاموں میں مصروف کر دوں گا اور تیری محتاجی ختم نہیں کروں گا۔“ اسنادہ حسن، رواہ احمد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5172]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (358/2 ح 8681) و ابن ماجه (4107)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (لَا تَعْتَبِرُوا كَثْرَةَ العِبَادَةِ مِثْلَ التَّقْوَى)
عبادت کی کثرت کو پرہیزگاری کے برابر نہ ٹھراؤ
حدیث نمبر: 5173
5173 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعِبَادَةٍ وَاجْتِهَادٍ، وَذُكِرَ آخَرُ بِرِعَّةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (لَا تَعْدِلْ بِالرِّعَّةِ) . (يَعْنِي الْوَرَعَ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کی عبادت اور اس میں بھرپور انہماک کا ذکر کیا گیا اور دوسرے آدمی کا تقویٰ و احتیاط برتنے کا ذکر کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تقویٰ کے ساتھ (اس عبادت و اجتہاد کا) موازنہ نہ کرو۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5173]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2519 و قال:غريب)
٭ محمد بن عبد الرحمٰن بن نبيه: مجھول الحال.»
٭ محمد بن عبد الرحمٰن بن نبيه: مجھول الحال.»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (اغْتَنِمُوا خَمْسَ خِصَالٍ)
پانچ باتوں کو غنیمت سمجھو
حدیث نمبر: 5174
5174 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُهُ:"اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ : شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسَلًا.
عمرو بن میمون اودی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو: اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو اپنے مرض سے پہلے، اپنے مال دار ہونے کو اپنی محتاجی سے پہلے، اپنی فراغت کو اپنی مصروفیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5174]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (لم أجده) [و البغوي في شرح السنة (14/ 224 ح 2021) و ابن المبارک في الزھد (2) و النسائي في الکبري کما في تحفة الأشراف (13/ 328 ح 19179) ]
٭ السند مرسل و رواه الحاکم (4/ 306) موصولاً من حديث ابن عباس و صححه علي شرط الشيخين ووافقه الذهبي و سنده حسن .»
٭ السند مرسل و رواه الحاکم (4/ 306) موصولاً من حديث ابن عباس و صححه علي شرط الشيخين ووافقه الذهبي و سنده حسن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن