مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. مُسْنَدُ أَبِي مُحَمَّدٍ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 1401
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ , أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ ثَلَاثَةً أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَكْفِنِيهِمْ؟" , قَالَ طَلْحَةُ: أَنَا , قَالَ: فَكَانُوا عِنْدَ طَلْحَةَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، فَخَرَجَ أَحَدُهُمْ فَاسْتُشْهِدَ، قَالَ: ثُمَّ بَعَثَ بَعْثًا، فَخَرَجَ فِيهِ آخَرُ فَاسْتُشْهِدَ، قَالَ: ثُمَّ مَاتَ الثَّالِثُ عَلَى فِرَاشِهِ , قَالَ طَلْحَةُ : فَرَأَيْتُ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ الَّذِينَ كَانُوا عِنْدِي فِي الْجَنَّةِ، فَرَأَيْتُ الْمَيِّتَ عَلَى فِرَاشِهِ أَمَامَهُمْ، وَرَأَيْتُ الَّذِي اسْتُشْهِدَ أَخِيرًا يَلِيهِ، وَرَأَيْتُ الَّذِي اسْتُشْهِدَ أَوَّلَهُمْ آخِرَهُمْ، قَالَ: فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ ذَلِكَ؟ لَيْسَ أَحَدٌ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَامِ لِتَسْبِيحِهِ وَتَكْبِيرِهِ وَتَهْلِيلِه".
سیدنا عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو عذرہ کے تین آدمیوں کی ایک جماعت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”ان کی کفالت کون کرے گا؟“ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کر دیا، چنانچہ یہ لوگ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس رہتے رہے، اس دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا تو ان میں سے بھی ایک آدمی اس میں شریک ہو گیا اور وہیں پر جام شہادت نوش کر لیا۔ کچھ عرصہ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور لشکر روانہ فرمایا تو دوسرا آدمی بھی شریک ہو گیا اور اسی دوران وہ بھی شہید ہو گیا، جبکہ تیسرے شخص کا انتقال طبعی موت سے ہو گیا، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں ان تینوں کو - جو میرے پاس رہتے تھے - جنت میں دیکھا، ان میں سے جس کی موت طبعی ہوئی تھی وہ ان دونوں سے آگے تھا، بعد میں شہید ہونے والا دوسرے درجے پر تھا اور سب سے پہلے شہید ہونے والا سب سے آخر میں تھا، مجھے اس پر بڑا تعجب ہوا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تمہیں اس پر تعجب کیونکر ہوا؟ اللہ کی بارگاہ میں اس مومن سے افضل کوئی نہیں ہے جسے حالت اسلام میں لمبی عمر دی گئی ہو، اس کی تسبیح و تکبیر اور تہلیل کی وجہ سے۔“ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1401]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لاضطراب طلحة بن يحيى بن طلحة فى إسناده، فمرة قال : عن إبراهيم بن محمد بن طلحة، ومرة قال : عن إبراهيم مولي لنا، وهذا الأخير مجهول. وفي هذا الإسناد انقطاع، فإن عبدالله ابن شداد لم يسمع من النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 1402
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبِيدَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُجَبَّرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَشْرَفَ عَلَى الَّذِينَ حَصَرُوهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَيْهِ، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَفِي الْقَوْمِ طَلْحَةُ؟ قَالَ طَلْحَةُ : نَعَمْ , قَالَ: فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، أُسَلِّمُ عَلَى قَوْمٍ أَنْتَ فِيهِمْ فَلَا يَرُدُّونَ؟ قَالَ: قَدْ رَدَدْتُ , قَالَ: مَا هَكَذَا الرَّدُّ، أُسْمِعُكَ وَلَا تُسْمِعُنِي، يَا طَلْحَةُ، أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ" لَا يُحِلُّ دَمَ الْمُسْلِمِ إِلَّا وَاحِدَةٌ مِنْ ثَلَاثٍ: أَنْ يَكْفُرَ بَعْدَ إِيمَانِهِ، أَوْ يَزْنِيَ بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ يَقْتُلَ نَفْسًا فَيُقْتَلَ بِهَا" , قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ , فَكَبَّرَ عُثْمَانُ , فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَنْكَرْتُ اللَّهَ مُنْذُ عَرَفْتُهُ، وَلَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَقَدْ تَرَكْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَكَرُّهًا، وَفِي الْإِسْلَامِ تَعَفُّفًا، وَمَا قَتَلْتُ نَفْسًا يَحِلُّ بِهَا قَتْلِي.
ایک مرتبہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے بالا خانے سے ان لوگوں کو جھانک کر دیکھا جنہوں نے ان کا محاصرہ کر رکھا تھا اور انہیں سلام کیا، لیکن انہوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا اس گروہ میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! میں موجود ہوں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے «إِنَّا لِلّٰهِ» کہا اور فرمایا: میں ایسے گروہ کو سلام کر رہا ہوں جس میں آپ بھی موجود ہیں، پھر بھی سلام کا جواب نہیں دیتے، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے جواب دیا ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اس طرح جواب دیا جاتا ہے کہ میری آواز تو آپ تک پہنچ رہی ہے لیکن آپ کی آواز مجھ تک نہیں پہنچ رہی۔ طلحہ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ”کسی مسلمان کا خون بہانا - ان تین وجوہات کے علاوہ - کسی وجہ سے بھی جائز نہیں، یا تو وہ ایمان لانے کے بعد مرتد ہوجائے، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کا ارتکاب کرے، یا کسی کو قتل کرے اور بدلے میں اسے قتل کر دیا جائے“؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کی تصدیق کی، جس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا: واللہ! میں نے اللہ کو جب سے پہچانا ہے کبھی اس کا انکار نہیں کیا، اسی طرح میں نے زمانہ جاہلیت یا اسلام میں کبھی بدکاری نہیں کی، میں نے اس کام کو جاہلیت میں طبعی ناپسندیدگی کی وجہ سے چھوڑ رکھا تھا، اور اسلام میں اپنی عفت کی حفاظت کے لئے اس سے اپنا دامن بچائے رکھا، نیز میں نے کسی انسان کو بھی قتل نہیں کیا جس کے بدلے میں مجھے قتل کرنا حلال ہو۔ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1402]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحارث ضعيف، و محمد بن عبد الرحمٰن ضعيف جداً
حدیث نمبر: 1403
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَجُلَيْنِ قَدِمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ إِسْلَامُهُمَا جَمِيعًا، وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنْ صَاحِبِهِ، فَغَزَا الْمُجْتَهِدُ مِنْهُمَا، فَاسْتُشْهِدَ، ثُمَّ مَكَثَ الْآخَرُ بَعْدَهُ سَنَةً، ثُمَّ تُوُفِّيَ , قَالَ طَلْحَةُ: فَرَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ، إِذَا أَنَا بِهِمَا وَقَدْ خَرَجَ خَارِجٌ مِنَ الْجَنَّةِ، فَأَذِنَ لِلَّذِي تُوُفِّيَ الْآخِرَ مِنْهُمَا، ثُمَّ خَرَجَ فَأَذِنَ لِلَّذِي اسْتُشْهِدَ، ثُمَّ رَجَعَا إِلَيَّ، فَقَالَا لِي: ارْجِعْ، فَإِنَّهُ لَمْ يَأْنِ لَكَ بَعْدُ , فَأَصْبَحَ طَلْحَةُ يُحَدِّثُ بِهِ النَّاسَ، فَعَجِبُوا لِذَلِكَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مِنْ أَيِّ ذَلِكَ تَعْجَبُونَ؟" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا كَانَ أَشَدَّ اجْتِهَادًا، ثُمَّ اسْتُشْهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدَخَلَ هَذَا الْجَنَّةَ قَبْلَهُ! فَقَالَ:" أَلَيْسَ قَدْ مَكَثَ هَذَا بَعْدَهُ سَنَةً؟" , قَالُوا: بَلَى ," وَأَدْرَكَ رَمَضَانَ فَصَامَهُ؟" , قَالُوا: بَلَى , قَالَ:" وَصَلَّى كَذَا وَكَذَا سَجْدَةً فِي السَّنَةِ؟" , قَالُوا: بَلَى , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَي الله عليه وَسَلَم:" فَلَمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ".
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں نے اکٹھے ہی اسلام قبول کیا، ان میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی کے مقابلے میں بہت محنت کرتا تھا، یہ شخص جو بہت محنت کرتا تھا ایک غزوہ میں شریک ہو کر شہید ہو گیا، دوسرا شخص اس کے بعد ایک سال تک زندہ رہا، پھر طبعی وفات سے انتقال کر گیا۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت کے دروازے کے قریب ہوں، اچانک وہ دونوں مجھے دکھائی دیتے ہیں، جنت سے ایک آدمی باہر نکلتا ہے اور بعد میں فوت ہونے والے کو اندر داخل ہونے کی اجازت دے دیتا ہے، تھوری دیر بعد باہر آکر وہ شہید ہونے والے کو بھی اجازت دے دیتا ہے، پھر وہ دونوں میرے پاس آتے ہیں اور مجھ سے کہتے ہیں کہ آپ ابھی واپس چلے جائیں ابھی آپ کا وقت نہیں آیا۔ جب صبح ہوئی اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے سامنے یہ خواب ذکر کیا تو لوگوں کو بہت تعجب ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تمہیں کس بات پر تعجب ہو رہا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ شخص زیادہ محنت کرتا تھا، پھر اللہ کے راستہ میں شہید بھی ہوا، اس کے باوجود دوسرا آدمی جنت میں پہلے داخل ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ اس کے بعد ایک سال تک زندہ نہیں رہا تھا؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، پھر فرمایا: ”کیا اس نے رمضان کا مہینہ پا کر اس کے روزے نہیں رکھے تھے؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، پھر فرمایا: ”کیا اس نے سال میں اتنے سجدے نہیں کئے؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، اس پر فرمایا کہ ”اسی وجہ سے تو ان دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فاصلہ ہے۔“ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1403]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، لأن أبا سلمة لم يدرك القصة ولم يسمع من طلحة
حدیث نمبر: 1404
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: جَلَسَ إِلَيَّ شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ، وَمَعَهُ صَحِيفَةٌ لَهُ فِي يَدِهِ، قَالَ: وَفِي زَمَانِ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ لِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ، أَتَرَى هَذَا الْكِتَابَ مُغْنِيًا عَنِّي شَيْئًا عِنْدَ هَذَا السُّلْطَانِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: وَمَا هَذَا الْكِتَابُ؟ قَالَ: هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَهُ لَنَا أَنْ لَا يُتَعَدَّى عَلَيْنَا فِي صَدَقَاتِنَا , قَالَ: فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ أَنْ يُغْنِيَ عَنْكَ شَيْئًا، وَكَيْفَ كَانَ شَأْنُ هَذَا الْكِتَابِ؟ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ مَعَ أَبِي، وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ، بِإِبِلٍ لَنَا نَبِيعُهَا، وَكَانَ أَبِي صَدِيقًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ، فَنَزَلْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: اخْرُجْ مَعِي، فَبِعْ لِي إِبِلِي هَذِهِ , قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَكِنْ سَأَخْرُجُ مَعَكَ فَأَجْلِسُ، وَتَعْرِضُ إِبِلَكَ، فَإِذَا رَضِيتُ مِنْ رَجُلٍ وَفَاءً وَصِدْقًا مِمَّنْ سَاوَمَكَ، أَمَرْتُكَ بِبَيْعِهِ , قَالَ: فَخَرَجْنَا إِلَى السُّوقِ، فَوَقَفْنَا ظُهْرَنَا، وَجَلَسَ طَلْحَةُ قَرِيبًا، فَسَاوَمَنَا الرِّجَالُ، حَتَّى إِذَا أَعْطَانَا رَجُلٌ مَا نَرْضَى , قَالَ لَهُ أَبِي: أُبَايِعُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قد رَضِيتُ لَكُمْ وَفَاءَهُ فَبَايِعُوهُ , فَبَايَعْنَاهُ، فَلَمَّا قَبَضْنَا مَا لَنَا، وَفَرَغْنَا مِنْ حَاجَتِنَا، قَالَ أَبِي لِطَلْحَةَ : خُذْ لَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا أَنْ لَا يُتَعَدَّى عَلَيْنَا فِي صَدَقَاتِنَا , قَالَ: فَقَالَ: هَذَا لَكُمْ، وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ , قَالَ: عَلَى ذَلِكَ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابٌ , قَال: فَخَرَجَ حَتَّى جَاءَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ صَدِيقٌ لَنَا، وَقَدْ أَحَبَّ أَنْ تَكْتُبَ لَهُ كِتَابًا لَا يُتَعَدَّى عَلَيْهِ فِي صَدَقَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا لَهُ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّه قَدْ أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْكَ كِتَابٌ عَلَى ذَلِكَ , قَالَ: فَكَتَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْكِتَابَ.
ابوالنضر کہتے ہیں کہ حجاج بن یوسف کے زمانے میں بصرہ کی ایک مسجد میں بنو تمیم کے ایک بزرگ میرے پاس آکر بیٹھ گئے، ان کے ہاتھ میں ایک صحیفہ بھی تھا، وہ مجھ سے کہنے لگے کہ اے اللہ کے بندے! تمہارا کیا خیال ہے، کیا یہ خط اس بادشاہ کے سامنے مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے؟ میں نے پوچھا کہ یہ خط کیسا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے لکھوایا تھا کہ زکوٰۃ کی وصولی میں ہم پر زیادتی نہ کی جائے، میں نے کہا کہ واللہ! مجھے تو نہیں لگتا کہ اس خط سے آپ کو کوئی فائدہ ہو سکے گا (کیونکہ حجاج بہت ظالم ہے)، البتہ یہ بتائیے کہ اس خط کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ میں اپنے والد کے ساتھ ایک مرتبہ مدینہ منورہ آیا ہوا تھا، اس وقت میں نوجوان تھا، ہم لوگ اپنا ایک اونٹ فروخت کرنا چاہتے تھے، میرے والد سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے دوست تھے، اس لئے ہم انہی کے یہاں جا کر ٹھہرے۔ میرے والد صاحب نے ان سے کہا کہ میرے ساتھ چل کر اس اونٹ کو بیچنے میں میری مدد کیجئے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے خرید و فروخت کرے، البتہ میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں اور آپ کے ساتھ بیٹھ جاؤں گا، آپ اپنا اونٹ لوگوں کے سامنے پیش کریں، جس شخص کے متعلق مجھے یہ اطمینان ہوگا کہ یہ قیمت ادا کر دے گا اور سچا ثابت ہوگا، میں آپ کو اس کے ہاتھ فروخت کرنے کا کہہ دوں گا۔ چنانچہ ہم نکل کر بازار میں پہنچے اور ایک جگہ پہنچ کر رک گئے، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ قریب ہی بیٹھ گئے، کئی لوگوں نے آکر بھاؤ تاؤ کیا، حتی کہ ایک آدمی آیا جو ہماری منہ مانگی قیمت دینے کے لئے تیار تھا، میرے والد صاحب نے ان سے پوچھا کہ اس کے ساتھ معاملہ کر لوں؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا، اور فرمایا کہ مجھے اطمینان ہے کہ یہ تمہاری قیمت پوری پوری ادا کر دے گا، اس لئے تم یہ اونٹ اس کے ہاتھ فروخت کر دو، چنانچہ ہم نے اس کے ہاتھ وہ اونٹ فروخت کر دیا۔ جب ہمارے قبضے میں پیسے آگئے اور ہماری ضرورت پوری ہو گئی تو میرے والد صاحب نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مضمون کا ایک خط لکھوا کر ہمیں دے دیں کہ زکوٰۃ کی وصولی میں ہم پر زیادتی نہ کی جائے، اس پر انہوں نے فرمایا کہ یہ تمہارے لئے بھی ہے اور ہر مسلمان کے لئے بھی ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں اسی وجہ سے چاہتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی خط میرے پاس ہونا چاہیے۔ بہرحال! سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ ہمارے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ صاحب - جن کا تعلق ایک دیہات سے ہے - ہمارے دوست ہیں، ان کی خواہش ہے کہ آپ انہیں اس نوعیت کا ایک مضمون لکھوا دیں کہ زکوٰۃ کی وصولی میں ان پر زیادتی نہ کی جائے، فرمایا: ”یہ ان کے لئے بھی ہے اور ہر مسلمان کے لئے بھی۔“ میرے والد نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری خواہش ہے کہ آپ کا کوئی خط اس مضمون پر مشتمل میرے پاس ہو، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ خط لکھوا کر دیا تھا۔ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1404]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1404M
آخِرُ حَدِيثِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
9. مُسْنَدُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 1405
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ , عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ سورة الزمر آية 31، قَالَ الزُّبَيْرُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، مَعَ خُصُومَتِنَا فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" , وَلَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورة التكاثر آية 8، قَالَ الزُّبَيْرُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ، وَإِنَّمَا يَعْنِي: هُمَا الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ؟ , قَالَ:" أَمَا إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ".
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ» [الزمر: 31] ”پھر قیامت کے دن تم اپنے رب کے پاس جھگڑا کرو گے“، تو انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس جھگڑنے سے دنیا میں اپنے مدمقابل لوگوں سے جھگڑنا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: «ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ» [التكاثر: 8] ”قیامت کے دن تم سے نعمتوں کے بارے سوال ضرور ہوگا“، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم سے کن نعمتوں کے بارے سوال ہو گا؟ جبکہ ہمارے پاس تو صرف کھجور اور پانی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! یہ نعمتوں کا زمانہ بھی عنقریب آنے والا ہے۔“ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1405]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1406
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ , سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ: لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَطَلْحَةَ , وَالزُّبَيْرِ , وَسَعْدٍ , نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي تَقُومُ بِهِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ أَعَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ" إِنَّا لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ" , قَالَ: قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ.
ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہم سے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم اور واسطہ دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، کیا آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے“؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1406]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3094، م : 1757 بدون ذكر طلحة
حدیث نمبر: 1407
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَحْمِلَ الرَّجُلُ حَبْلًا فَيَحْتَطِبَ، ثُمَّ يَجِيءَ فَيَضَعَهُ فِي السُّوقِ فَيَبِيعَهُ، ثُمَّ يَسْتَغْنِيَ بِهِ، فَيُنْفِقَهُ عَلَى نَفْسِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ، أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ".
سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انسان کے لئے یہ زیادہ بہتر ہے کہ وہ اپنی رسی اٹھائے، اس سے لکڑیاں باندھے، بازار میں لا کر انہیں رکھے اور انہیں بیچ کر اس سے غناء بھی حاصل کرے اور اپنے اوپر خرچ بھی کرے، بہ نسبت اس کے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے خواہ لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔“ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1407]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1471
حدیث نمبر: 1408
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ.
سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے اپنے والدین کو جمع فرمایا۔ (یعنی مجھ سے یوں فرمایا کہ ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں“)۔ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1408]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، وقوله : «يوم أحد» خطأ من أبي معاوية
حدیث نمبر: 1409
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ كُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْأُطُمِ الَّذِي فِيهِ نِسَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُطُمِ حَسَّانَ، فَكَانَ يَرْفَعُنِي وَأَرْفَعُهُ، فَإِذَا رَفَعَنِي عَرَفْتُ أَبِي حِينَ يَمُرُّ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، وَكَانَ يُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ:" مَنْ يَأْتِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَيُقَاتِلَهُمْ؟" , فَقُلْتُ لَهُ حِينَ رَجَعَ: يَا أَبَة ، إِنْ كُنْتُ لَأَعْرِفُكَ حِينَ تَمُرُّ ذَاهِبًا إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ , فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَجْمَعُ لِي أَبَوَيْهِ جَمِيعًا يُفَدِّانِي بِهِمَا , يَقُول:" فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوہ خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ اطم حسان نامی اس ٹیلے پر تھے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات موجود تھیں، کبھی وہ مجھے اٹھا کر اونچا کرتے اور کبھی میں انہیں اٹھا کر اونچا کرتا، جب وہ مجھے اٹھا کر اونچا کرتے تو میں اپنے والد صاحب کو پہچان لیا کرتا تھا جب وہ بنو قریظہ کے پاس سے گذرتے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خندق کے موقع پر جہاد میں شریک تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ”بنو قریظہ کے پاس پہنچ کر ان سے کون قتال کرے گا؟“ واپسی پر میں نے اپنے والد صاحب سے عرض کیا کہ اباجان! واللہ! میں نے اس وقت آپ کو پہچان لیا تھا جب آپ بنو قریظہ کی طرف جا رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر میرے لئے اپنے والدین کو جمع کر کے یوں فرما رہے تھے کہ ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔“ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1409]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3720، م : 2416