مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. مُسْنَدُ أَبِي إِسْحَاقَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 1459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , حَدِيثًا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْوُضُوءِ عَلَى الْخُفَّيْنِ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کرنے کے حوالے سے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1459]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : بعد الحديث : 202 معلقاً بصيغة الجزم
حدیث نمبر: 1460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ، فَجَاءَ مَوَالِيهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ، وَقَالَ:" مَنْ رَأَيْتُمُوهُ يَصِيدُ فِيهِ شَيْئًا، فَلَهُ سَلَبُهُ" , فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْتُكُمْ ثَمَنَهُ , وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أُعْطِيَكُمْ ثَمَنَهُ أَعْطَيْتُكُمْ.
سلیمان بن ابی عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کو پکڑ رکھا ہے جو حرم مدینہ میں شکار کر رہا تھا، انہوں نے اس سے اس کے کپڑے چھین لئے، تھوڑی دیر بعد اس کے مالکان آگئے اور ان سے کپڑوں کا مطالبہ کرنے لگے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس شہر مدینہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ”جس شخص کو تم یہاں شکار کرتے ہوئے دیکھو، اس سے اس کا سامان چھین لو“، اس لئے اب میں تمہیں وہ لقمہ واپس نہیں کر سکتا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھلایا ہے، البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی قیمت دے سکتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1460]
حکم دارالسلام: حديث صحيح ، م : 1364
حدیث نمبر: 1461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ أَنَّهُ حَدَّثَ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: أَتُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا يَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ" الَّذِي لَا يَنَامُ حَتَّى يُوتِرَ حَازِمٌ".
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ عشاء کی نماز مسجد نبوی میں پڑھتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھ کر اس پر کوئی اضافہ نہ کرتے تھے، کسی نے ان سے پوچھا کہ اے ابواسحاق! آپ ایک رکعت وتر پڑھنے کے بعد کوئی اضافہ نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص وتر پڑھے بغیر نہ سوئے، وہ عقلمند ہے۔“ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1461]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وفي إسناده محمد بن عبد الرحمٰن مجهول
حدیث نمبر: 1462
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي وَالِدِي مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِيه سَعْدٍ ، قَالَ: مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي، ثُمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، فَأَتَيْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَلْ حَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ شَيْءٌ؟ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: لَا، وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنِّي مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ آنِفًا فِي الْمَسْجِدِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي، ثُمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ , قَالَ: فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى عُثْمَانَ، فَدَعَاهُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ لَا تَكُونَ رَدَدْتَ عَلَى أَخِيكَ السَّلَامَ؟ قَالَ عُثْمَانُ: مَا فَعَلْتُ , قَالَ سَعْدٌ: قُلْتُ: بَلَى , قَالَ: حَتَّى حَلَفَ وَحَلَفْتُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ ذَكَرَ , فَقَالَ: بَلَى، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، إِنَّكَ مَرَرْتَ بِي آنِفًا وَأَنَا أُحَدِّثُ نَفْسِي بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا وَاللَّهِ مَا ذَكَرْتُهَا قَطُّ إِلَّا تَغَشَّى بَصَرِي وَقَلْبِي غِشَاوَةٌ , قَالَ: قَالَ سَعْدٌ: فَأَنَا أُنْبِئُكَ بِهَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ، ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَشَغَلَهُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّبَعْتُهُ، فَلَمَّا أَشْفَقْتُ أَنْ يَسْبِقَنِي إِلَى مَنْزِلِهِ، ضَرَبْتُ بِقَدَمِي الْأَرْضَ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟ أَبُو إِسْحَاقَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" فَمَهْ؟" , قَالَ: قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، إِلَّا أَنَّكَ ذَكَرْتَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ، ثُمَّ جَاءَ هَذَا الْأَعْرَابِيُّ فَشَغَلَكَ , قَالَ:" نَعَمْ، دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ هُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ , لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ سورة الأنبياء آية 87 , فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا مُسْلِمٌ رَبَّهُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ".
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں میرا گذر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے نگاہیں بھر کر مجھے دیکھا لیکن سلام کا جواب نہیں دیا، میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے دو مرتبہ کہا کہ امیر المومنین! کیا اسلام میں کوئی نئی چیز پیدا ہوگئی ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں! خیر تو ہے؟ میں نے کہا کہ میں ابھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے مسجد میں گذرا تھا، میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے نگاہیں بھر کر مجھے دیکھا لیکن سلام کا جواب نہیں دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیج کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ اپنے بھائی کے سلام کا جواب دینے سے آپ کو کس چیز نے روکا؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تو ایسا نہیں کیا، میں نے کہا: کیوں نہیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قسم کھا لی، میں نے بھی قسم کھا لی، تھوڑی دیر بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو یاد آگیا تو انہوں نے فرمایا: ہاں! ایسا ہوا ہے، میں اللہ سے معافی مانگتا اور توبہ کرتا ہوں، آپ ابھی ابھی میرے پاس سے گذرے تھے، دراصل میں اس وقت ایک بات سوچ رہا تھا جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، اور واللہ! جب بھی مجھے وہ بات یاد آتی ہے میری آنکھیں پتھرا جاتی ہیں اور میرے دل پر پردہ آجاتا ہے (یعنی مجھے اپنے آپ کی خبر نہیں رہتی)۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کو اس کے بارے بتاتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی گفتگو کی ابتداء میں ایک دعا کا ذکر چھیڑا، تھوڑی دیر کے بعد ایک دیہاتی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشغول کر لیا، یہاں تک کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے چلا گیا، جب مجھے اندیشہ ہوا کہ جب تک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچوں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر پہنچ چکے ہوں گے، تو میں نے زور سے اپنا پاؤں زمین پر مارا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: ”کون ہے؟ ابواسحاق ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رکنے کے لئے فرمایا، میں نے عرض کیا کہ آپ نے ہمارے سامنے ابتداء میں ایک دعا کا تذکرہ کیا تھا، بعد میں اس دیہاتی نے آ کر آپ کو اپنی طرف مشغول کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! وہ سیدنا یونس علیہ السلام کی دعا ہے جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی تھی، یعنی «لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنْ الظَّالِمِينَ» کوئی بھی مسلمان جب بھی کسی معاملے میں ان الفاظ کے ساتھ اپنے پروردگار سے دعا کرے وہ دعا ضرور قبول ہوگی۔“ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1462]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1463
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهَا , أَنَّ عَلِيًّا خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، وَعَلِيٌّ يَبْكِي، يَقُولُ: تُخَلِّفُنِي مَعَ الْخَوَالِفِ؟ فَقَالَ:" أَوَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا النُّبُوَّةَ؟".
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، جب ثنیۃ الوداع تک پہنچے تو وہ رونے لگے اور کہنے لگے کہ آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حاصل تھی، صرف نبوت کا فرق ہے۔“ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1463]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3706، م : 2404
حدیث نمبر: 1464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" لَا تَعْجِزُ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّي أَنْ يُؤَخِّرَهَا نِصْفَ يَوْمٍ" , وَسَأَلْتُ رَاشِدًا: هَلْ بَلَغَكَ مَاذَا النِّصْفُ يَوْمٍ؟ قَالَ: خَمْسُ مِئَةِ سَنَةٍ.
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ میری امت اپنے رب کے پاس اتنی عاجز نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ان کا حساب کتاب نصف دن تک مؤخر کر دے۔“ کسی نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نصف دن سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: پانچ سو سال۔ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1464]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى مريم ولانقطاعه، فإن رواية راشد عن سعد منقطعة
حدیث نمبر: 1465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَعْجِزَ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّي أَنْ يُؤَخِّرَهُمْ نِصْفَ يَوْمٍ" فَقِيلَ لِسَعْدٍ: وَكَمْ نِصْفُ يَوْمٍ؟ قَالَ: خَمْسُ مِئَةِ سَنَةٍ.
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ میری امت اپنے رب کے پاس اتنی عاجز نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ان کا حساب کتاب نصف دن تک مؤخر کر دے۔“ کسی نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نصف دن سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: پانچ سو سال۔ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1465]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 1466
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ سورة الأنعام آية 65، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّهَا كَائِنَةٌ وَلَمْ يَأْتِ تَأْوِيلُهَا بَعْدُ".
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا: « ﴿هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ﴾ [الأنعام: 65] » ”اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے یا پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیج دے۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی اس کی تاویل ظاہر ہونے کا وقت نہیں آیا۔“ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1466]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف أبى بكر بن عبدالله ولانقطاعه، فإن رواية راشد عن سعد منقطعة
حدیث نمبر: 1467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ أَنَّ مَا يُقِلُّ ظُفُرٌ مِمَّا فِي الْجَنَّةِ بَدَا لَتَزَخْرَفَتْ لَهُ خَوَافِقُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَ، فَبَدَتْ أَسَاوِرُهُ، لَطَمَسَ ضَوْؤُهُ ضَوْءَ الشَّمْسِ , كَمَا تَطْمِسُ الشَّمْسُ ضَوْءَ النُّجُومِ".
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر جنت کی ناخن سے بھی کم کوئی چیز دنیا میں ظاہر ہو جائے تو زمین و آسمان کی چاروں سمتیں مزین ہو جائیں، اور اگر کوئی جنتی مرد دنیا میں جھانک کر دیکھ لے اور اس کا کنگن نمایاں ہو جائے تو اس کی روشنی سورج کی روشنی کو اس طرح مات کر دے جیسے سورج کی روشنی ستاروں کی روشنی کو مات کر دیتی ہے۔“ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1467]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1468
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ يَسَارِهِ يَوْمَ أُحُدٍ، رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يُقَاتِلَانِ عَنْهُ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ.
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو دیکھا جنہوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے، اور وہ بڑی سخت جنگ لڑ رہے تھے، میں نے انہیں اس سے پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں۔ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1468]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 4054، م : 2306