🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5045
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ يَعْنِي السَّخْتِيَانِيَّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمْ الْمَسَاجِدَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنی عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے مت روکا کرو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5045]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 873، م: 442 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5046
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَى يُحَدِّثُ: عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا، وَلَا يُقِيمُ الرَّجُلُ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ يَجْلِسُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو اور کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5046]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5047
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَجَعَلَ" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَاحِيَةَ مَكَّةَ، فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: لَوْ كَانَ وَجْهُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي؟ قَالَ: سَلْهُ، فَسَأَلْتُهُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ وَهَاهُنَا وَهَاهُنَا، وَقَالَ: لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَهُ".
عبدالرحمن بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ سے مکہ تک مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی رفاقت حاصل ہوئی، وہ مکہ کے ایک کونے میں اپنی سواری پر ہی نماز پڑھنے لگے، میں نے سالم سے کہا کہ اگر ان کا چہرہ مدینہ کی جانب ہوتا تو یہ کس طرح نماز پڑھتے؟ سالم نے کہا کہ تم خود ہی ان سے پوچھ لو، چنانچہ میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں اسی طرح پڑھتا یہاں بھی اور وہاں بھی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5047]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5048
حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى آلِ عُمَرَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5048]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5049
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي بِاللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر رات کے آخری حصے میں ان کے ساتھ ایک رکعت ملا کر (تین) وتر پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5049]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 473، م: 749 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5050
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ يَنَّاقٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَانْتَسَبَ لَهُ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ بَنِى لَيْثٍ، فَعَرَفَهُ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ يَقُولُ:" مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ لَا يُرِيدُ بِذَلِكَ إِلَّا الْمَخِيلَةَ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
مسلم بن یناق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو تہبند گھسیٹتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ اس نے اپنا نسب بیان کیا تو پتہ چلا کہ اس کا تعلق بنو لیث سے ہے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے شناخت کر لیا پھر فرمایا کہ میں نے اپنے دونوں کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر کھینچتا ہوا چلتا ہے اللہ اس پر قیامت کے دن نظر رحم نہیں فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5050]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2085.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5051
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ، أَوْ لَطَمَهُ، فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو کسی ایسے جرم کی سزا دے جو اس نے نہ کیا ہو یا اسے تھپڑ مارے، اس کا کفارہ یہی ہے کہ اسے آزاد کر دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5051]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1657 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5052
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوَرِّقًا الْعِجْلِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ ، أَوْ هُوَ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ:" هَلْ تُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ: لَا، قَالَ عُمَرُ؟ قَالَ: لَا؟ فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ؟ فَقَالَ: فَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا إِِِخَالُ".
مورق عجلی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا، نہیں! میں نے پوچھا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے؟ فرمایا: نہیں! میں نے پوچھا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے؟ فرمایا: نہیں! میں نے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے؟ فرمایا: میرا خیال نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5052]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1157.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5053
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى فِي الْبَيْتِ" وَسَتَأْتُونَ مَنْ يَنْهَاكُمْ عَنْهُ، فَتَسْمَعُونَ مِنْهُ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ حَجَّاجٌ: فَتَسْمَعُونَ مِنْ قَوْلِهِ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ قَرِيبًا مِنْهُ.
سماک حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی ہے لیکن ابھی تم ایک ایسے شخص کے پاس جاؤ گے اور ان کی باتیں سنو گے جو اس کی نفی کریں گے، مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے جو قریب ہی بیٹھے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5053]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5054
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ رَأَى أَبَاهُ " يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَزَعَمَ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ".
سالم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے والد صاحب کو نماز کے آغاز میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر کے رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے، نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5054]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي، لكنه متابع، وانظر ماسلف برقم: 4540 .
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں