مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7516
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ، فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ، فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ، فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھ لو اور جب چاند دیکھ لو تو عید الفطر منا لو اگر ابر چھا جائے تو تیس دن روزے رکھو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7516]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081.
حدیث نمبر: 7517
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ، حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی بھی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھونہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات پھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7517]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 162، م: 278.
حدیث نمبر: 7518
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَقُولُوا خَيْبَةَ الدَّهْرِ، إِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ، وَلَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہا کرو کہ زمانے کی تباہی ہو کیونکہ زمانے کا خالق بھی تو اللہ ہی ہے اور انگور کو کرم نہ کہا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7518]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6182، م: 2246.
حدیث نمبر: 7519
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَتْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، فَكَتَبُوا مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَتْ الْمَلَائِكَةُ الصُّحُفَ، وَدَخَلَتْ تَسْمَعُ الذِّكْرَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ، كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي شَاةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَطَّةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي دَجَاجَةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَيْضَةً".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مساجد کے ہر دروازے پر فرشتے آجاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں اور امام نکل آتا ہے تو فرشتے وہ صحیفے اور کھاتے لپیٹ دیتے ہیں اور مسجد میں داخل ہو کر ذکر سننے لگتے ہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کی نماز میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والا گائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا بکری قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے پھر بطخ پھر مرغی پھر انڈہ صدقہ دینے والے کی طرح ثواب پاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7519]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3211، م: 850.
حدیث نمبر: 7520
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سر انجام دیتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7520]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1384، م:.2659.
حدیث نمبر: 7521
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ يَخْلُقُ كَخَلْقِي! فَلْيَخْلُقُوا بَعُوضَةً، أَوْ لِيَخْلُقُوا ذَرَّةً".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری طرح تخلیق کرنے لگے ایسے لوگوں کو چاہیے کہ ایک مکھی یا ایک جو کا دانہ پیدا کر کے دکھائیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7521]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7559، م: 2111.
حدیث نمبر: 7522
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت حبریل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7522]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7523
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً، أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً، فَحَلَبَهَا، فَهُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ: بِالْخِيَارِ إِلَى أَنْ يَحُوزَهَا، أَوْ يَرُدَّهَا وَإِنَاءً مِنْ طَعَامٍ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ایک برتن گندم بھی ساتھ دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7523]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 2151، م: 1524، إسناده متصل من جهة محمد، ومنقطع من جهة خلاس، فإنه يسمع من أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7524
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَثَلُ الَّذِي يَعُودُ فِي عَطِيَّتِهِ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ، حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ، ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ، فَأَكَلَهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو ہدیہ دے کر واپس مانگ لے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو خوب سیراب ہو کر کھائے اور جب پیٹ بھر جائے تو اسے قے کردے اور اس قے کو چاٹ کر دوبارہ کھانے لگے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7524]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، خلاس بن عمرو لم يسمع من أبي هريرة، لكن توبع.
حدیث نمبر: 7525
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے پھر اس سے وضو کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7525]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 239، م: 282، وإسناده كسابقه.