مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7776
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأَبي سَلَمة بن عبد الرحمن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ لِأَصْحَابِهِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ، فَصَفُّوا خَلْفَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَكَبَّرَ أَرْبَعًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی موت کی اطلاع صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو دی حالانکہ وہ خود مدینہ منورہ میں تھے چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھ لیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7776]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951.
حدیث نمبر: 7777
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يَسْجُدُ فِيهَا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ :" وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا، يَعْنِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ" .
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7777]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 768، م: 578.
حدیث نمبر: 7778
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبي سَلَمة ، أو عَنْ أَحَدِهِمَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ، فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم چاند کو دیکھ لو تو روزہ رکھ لو اور جب چاند دیکھ لو تو عید الفطر منا لو اگر ابر چھا جائے تو تیس دن روزے رکھو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7778]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081.
حدیث نمبر: 7779
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَعَجَّلَ شَهْرُ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صِيَامًا فَيَأْتِي ذَلِكَ عَلَى صِيَامِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7779]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1914، م: 1082.
حدیث نمبر: 7780
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أُنَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7780]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1899، م: 1079.
حدیث نمبر: 7781
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يقولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7781]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7782
وحَدَّثَنَاه يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: ذُُكِرَ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَلَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7782]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه في موضعين: ابن إسحاق لم يسمعه من الزهري، وابن أبي أنس لم يسمعه من أبي هريرة، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7783
حَدَّثَنَاه عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي أَنَسٍ ، فَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7783]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1899، م: 1079.
حدیث نمبر: 7784
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے عشرہ اخیرہ میں ہمیشہ اعتکاف فرماتے تھے (اور یہ سلسلہ چلتا رہا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7784]
الحكم على الحديث:
إسناداه صحيحان، خ: 2044.
حدیث نمبر: 7785
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟"، قَالَ: وَاقَعْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَجِدُ رَقَبَةً؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" أَفَلَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟"، قَالَ: لَا أَجِدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرْقٍ وَالْعَرْقُ: الْمِكْتَلُ فِيهِ تَمْرٌ، فقَالَ:" اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهَا"، فَقَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي؟ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے ہلاک کردیا؟ اس نے کہا کہ میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کرلیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک غلام آزاد کردو اس نے کہا کہ میرے پاس غلام نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھ لو اس نے کہا مجھ میں اتنی طاقت نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اس نے کہا کہ میرے پاس اتنا کہاں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا بیٹھ جاؤ اتنی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ایک بڑا ٹوکرا آیا جس میں کھجوریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لے جاؤ اور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلادو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! مدینہ منورہ کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک ہم سے زیادہ ضرورت مند گھرانہ کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا جاؤ تم اور تمہارے اہل خانہ ہی اسے کھا لیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7785]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2600، م: 1111.