🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8912
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَاسًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّا نَبْعُدُ فِي الْبَحْرِ، وَلَا نَحْمِلُ مِنَ الْمَاءِ إِلَّا الْإِدَاوَةَ وَالْإِدَاوَتَيْنِ، لِأَنَّا لَا نَجِدُ الصَّيْدَ حَتَّى نَبْعُدَ، أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، فَإِنَّهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ، الطَّهُورُ مَاؤُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ ہم لوگ سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لئے تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں اگر اس میں وضو کرنے لگیں تو ہم پیاسے رہ جائیں کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کرسکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندر کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8912]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وإسناده مختلف فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8913
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَة بن سعيد ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: هَذَا أَبُوكُمْ آدَمُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، فَيَقُولُ لَهُ رَبُّنَا: أَخْرِجْ نَصِيبَ جَهَنَّمَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَكَمْ؟ فَيَقُولُ: مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ" فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُينَ، فَمَاذَا يَبْقَى مِنَّا؟ قَالَ:" إِنَّ أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کو بلایا جائے گا اس کے متعلق کہا جائے گا کہ یہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام ہیں حضرت آدم علیہ السلام عرض کریں گے کہ پروردگار میں حاضر ہوں پروردگار کا ارشاد ہوگا کہ جہنم کا حصہ اپنی اولاد میں سے نکالو وہ پوچھیں گے پروردگار کتنا؟ ارشاد ہوگا ہر سو میں سے ننانوے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ جب ہر سو میں سے ہمارے ننانوے آدمی لے لئے جائیں گے تو پیچھے کیا بچے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوسری امتوں کے مقابلے میں میری امت کی مثال کالے بیل میں سفید بال کی سی ہوگی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8913]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 6529
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8914
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَهَلَّ رَمَضَانُ، غُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَصُفِّدَتْ الشَّيَاطِينُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8914]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 1899 م: 1079
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8915
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بن سعيد ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، لَا يَدْخُلُهُ الشَّيْطَانُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورت بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8915]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 780
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8916
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بن سعيد ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بن محمد ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي قَالَ لِنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ: " لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبُهُ، إِلَّا دَخَلَتْ الْجَنَّةَ"، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: أَوْ اثْنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَوْ اثْنَانِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ انصاری خواتین سے فرمایا تم میں سے جو عورت اپنے تین بچے آگے بھیجے (فوت ہوجائیں) اور وہ ان پر صبر کرے وہ جنت میں داخل ہوگی کسی عورت نے پوچھا اگر دو ہوں تو کیا حکم ہے؟ فرمایا دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8916]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2632
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8917
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ، لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ" .
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ کے دروازوں پر فرشتوں کا پہرہ ہے اس لئے یہاں دجال طاعون داخل نہیں ہو سکتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8917]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 1880، م: 1379
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8918
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخَصِيبِ، فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الْأَرْضِ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ، فَبَادِرُوا بها نِقْيَهَا، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ، فَاجْتَنِبُوا الطُّرُقَ، فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ، وَمَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دیا کرو (اور انہیں اطمینان سے چرنے دیا کرو) اور اگر خشک زمین میں سے سفر کرو تو تیز رفتاری سے اس علاقے سے گذر جایا کرو اور جب رات کو پڑاؤ کرنا چاہو تو راستے سے ہٹ کر پڑاو کیا کرو کیونکہ وہ رات کے وقت چوپاؤں کا راستہ اور کیڑے مکوڑوں کا ٹھکانہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8918]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 1926
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8919
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ ثَلَاثٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دن کے بعد بھی قطع تعلقی رکھنا صحیح نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8919]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2562
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8920
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ، فَقَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ؟" قَالَ: فَسَكَتُوا، فَقَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا، قَالَ: " خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ، وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ، وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ، وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ ایک جگہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس جا کر کھڑے ہوئے ہوگئے اور فرمایا کیا میں تمہیں بتاؤں کہ تم میں سب سے بہتر اور سب سے بدتر کون ہے؟ لوگ خاموش رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اپنی بات دہرائی اس پر ان میں سے ایک آدمی بولا کیوں نہیں یا رسول اللہ فرمایا تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس سے خیر کی امید ہو اور اس کے شر سے امن ہو اور سب سے بدتر وہ ہے جس سے خیر کی توقع نہ ہو اور اس کے شر سے امن نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8920]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8921
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: هَذِهِ النَّارُ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ جُزْءٍ مِنْ جَهَنَّمَ»

الحكم على الحديث:
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں