مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9301
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ" . قَالَ مُحَمَّدٌ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ مَعْمَرٍ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رجب میں قربانی کرنے اور جانور کا سب سے پہلا بچہ بتوں کے نام قربان کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9301]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 5474 ، م: 1976
حدیث نمبر: 9302
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْوَلَدُ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بچہ بستر والے ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9302]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 6818 ، م: 1458
حدیث نمبر: 9303
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ، فَتُسْتَجَابُ لَهُ، وَإِنِّي أُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أُؤَخِّرَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعاء ضرور قبول ہوتی ہے اور میں نے وہ اپنی دعاء قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے رکھ چھوڑی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9303]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 7474 ، م: 199
حدیث نمبر: 9304
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ وَهُمْ يَتَوَضَّئُونَ فِي الْمَطْهَرَةِ، فَيَقُولُ لَهُمْ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ" .
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے ایڑیوں کو خشک چھوڑ دیا تھا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وضوخوب اچھی طرح کرو۔ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9304]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 165 ، م: 242
حدیث نمبر: 9305
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَعْمِلُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَكَانَ إِذَا رَأَى إِنْسَانًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، ضَرَبَ بِرِجْلِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: قَدْ جَاءَ الْأَمِيرُ، قَدْ جَاءَ الْأَمِيرُ، ثُمَّ يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا" .
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ مروان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ پر گورنر مقرر کردیا کرتا تھا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب کسی آدمی کو اپنا تہبند زمین پر گھسیٹتے ہوئے دیکھتے تو اس کی ٹانگ پر مارتے اور پھر کہتے کہ امیر آگئے امیرآ گئے اور فرماتے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9305]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 5788 ، م: 2087
حدیث نمبر: 9306
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَحْفِهِمَا جَمِيعًا أَوْ انْعَلْهُمَا جَمِيعًا، فَإِذَا لَبِسْتَ فَابْدَأْ بِالْيَمِنى، وَإِذَا خَلَعْتَ فَابْدَأْ بِالْيُسْرَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں جوتیاں پہنا کرو یا دونوں اتارا کرو جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتدا کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9306]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 5856 ، م: 2097
حدیث نمبر: 9307
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامٍه، فَإِنْ لَمْ يُجْلِسْهُ مَعَهُ، فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ، أَوْ لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ، شُعْبَةُ شَكَّ، فَإِنَّهُ وَلِيَ عِلَاجَهُ وَحَرَّهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک دو لقمے ہی اسے دے دے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9307]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 2557 ، م: 1663
حدیث نمبر: 9308
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ الْحَسَنَ أَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كِخْ كِخْ أَلْقِهَا، أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا أَهْلَ بَيْتٍ لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے صدقہ کی کھجور لے کر منہ میں ڈال لی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے نکالو کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9308]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 3072 ، م: 1069
حدیث نمبر: 9309
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم أَبُو الْقَاسِمِ: " لَوْ أَنَّ الْأَنْصَارَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، وَسَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ" . قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: مَا ظَلَمَ بِأَبِي وَأُمِّي , لَقَدْ آوَوْهُ وَنَصَرُوهُ , وَكَلِمَةً أُخْرَى.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصاری دوسری وادی میں تو میں انصار کے ساتھ ان کی وادی میں چلوں گا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9309]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 3779 ، م: 76
حدیث نمبر: 9310
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ، إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَرَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ" . قَالَ: " وَلَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا، فَإِنَّ مَالَهَا مَا كُتِبَ لَهَا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَلَقَّوْا الْأَجْلَابَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اچھے داموں فروخت کرنے کے لئے بکری یا اونٹنی کا تھن مت باندھا کرو جو شخص (اس دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کر دے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کر دے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے پیالے میں جو کچھ ہے وہ سمیٹ لے کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کے لئے لکھ دیا گیا ہے اور ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر سودا مت کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9310]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، خ : 2151 ، م: 1524 ، وھذا إسناد منقطع ، إبراھیم النخعي لم یسمع من أبي ھریرۃ