مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10801
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي بْنَ مُحَمَّدٍ , عَنْ وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا , اسْتَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ , كُلَّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرمادیں گے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10801]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 2517، م: 1509
حدیث نمبر: 10802
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ , فَإِذَا هُمْ عِزُونَ مُتَفَرِّقُونَ , فَغَضِبَ غَضَبًا مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ غَضَبًا قَطُّ أَشَدَّ مِنْهُ , ثُمَّ قَالَ: " لَوْ أَنَّ رَجُلًا نَادَى النَّاسَ إِلَى عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ لَأَتَوْهُ لِذَلِكَ , وَهُمْ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الصَّلَاةِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ , ثُمَّ أَتْبَعَ أَهْلَ هَذِهِ الدُّورِ الَّتِي يَتَخَلَّفُ أَهْلُهَا عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ , فَأُضْرِمَهَا عَلَيْهِمْ بِالنِّيرَانِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو اتنا مؤخر کردیا کہ قریب تھا کہ ایک تہائی رات ختم ہوجاتی، پھر وہ مسجد میں تشریف لائے تو لوگوں کو متفرق گروہوں میں دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید غصہ آیا اور فرمایا اگر کوئی آدمی لوگوں کے سامنے ایک ہڈی یا دو کھروں کی پیشکش کرے تو وہ ضرور اسے قبول کرلیں، لیکن نماز چھوڑ کر گھروں میں بیٹھے رہیں گے، میں نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ جو لوگ نماز سے ہٹ کر اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں ان کی تلاش میں نکلے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10802]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 10803
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا قُطْبَةُ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ , فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا , أَوْ آوَى مُحْدِثًا , فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ , لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ حرم ہے جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفل قبول نہ کرے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10803]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 657، م: 651
حدیث نمبر: 10804
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ زِيَادٍ الْحَارِثِيِّ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ لَهُ رَجُلٌ أَنْتَ الَّذِي تَنْهَى النَّاسَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ قََالَ: فَقَالَ: هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْكَعْبَةِ , هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْكَعْبَةِ ثَلَاثًا , لَقَدْ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَصُومُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحْدَهُ إِلَّا فِي أَيَّامٍ مَعَهُ" . وَلَقَدْ" رَأَيْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ نَعْلَاهُ , وَيَنْصَرِفُ وَهُمَا عَلَيْهِ" .
زیاد حارثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ ہی لوگوں کو جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں بخدا! اس حرم کے رب کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تم میں سے کوئی شخص صرف جمعہ کا روزہ نہ رکھے، الاّ یہ کہ وہ اس کا معمول میں آجائے پھر دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا آپ وہی ہیں جو لوگوں کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنے سے روکتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں اس حرم کے رب کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اسی جگہ پر کھڑے ہو کر جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے اور واپس جاتے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10804]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1371
حدیث نمبر: 10805
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ , حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ" . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَنْبِذُوا التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا، وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا , وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ عَلَى حِدَةٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے۔ ایک کھجور اور ایک انگور۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کشمش اور کھجور کچی اور پکی کو ملا کر نبیذ مت بناؤ البتہ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بنا سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10805]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره،خ:1985،م:1144،وھذا إسناد ضعیف،شریک سیی الحفظ،وزیادالحارثی: لا یعرف
حدیث نمبر: 10806
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ: النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ:1985
حدیث نمبر: 10807
وَقَالَ رَسُولَ اللهِ: لَا تَنْبِدُوا التَّمْرَ وَالذَّبِيبَ جَمِيعًا، وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا، وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ عَلَى حِدَةٍ»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن،م:1989
حدیث نمبر: 10808
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ لَهِيعَةَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ , حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ قَيْصَرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى بَعَّدَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ جَهَنَّمَ , كَبُعْدِ غُرَابٍ طَارَ وَهُوَ فَرْخٌ حَتَّى مَاتَ هَرِمًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی رضاء کے لئے ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ اسے جہنم سے اتنا دور کردیتا ہے جتنی مسافت ایک کوے کی ہوتی ہے جو بچپن سے اڑنا شروع کرے اور بڑھاپے کی حالت میں پہنچ کر مرے۔ فائدہ۔ کوا طویل عمر کے لئے مشہور ہے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوا اپنی ساری عمر میں اڑ کر جتنی مسافت طے کرتا ہے ایک روزے کی برکت سے روزہ دار اور جہنم کے درمیان اتنی مسافت حائل کردی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10808]
الحكم على الحديث:
إسناد ضعیف،لعلل
حدیث نمبر: 10809
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَهُنَّ النَّاسُ: النِّيَاحَةُ عَلَى المْيَتِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ , وَالْأَنْوَاءُ , يَقُولُ الرَّجُلُ: سُقِينَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا , وَالْإِعْدَاءُ أُجْرِبَ بَعِيرٌ فَأَجْرَبَ مِائَةً , فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جہنیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے حسب نسب میں عار دلانا میت پر نوحہ کرنا بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور بیماری کو متعدی سمجھنا ایک اونٹ خارش زدہ ہوا اور اس نے سو اونٹوں کو خارش میں مبتلا کردیا تو پہلے اونٹ کو خارش زدہ کس نے کیا؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10809]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعیف لاختلاط المسعودی
حدیث نمبر: 10810
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِائَةَ رَحْمَةٍ , فَجَعَلَ مِنْهَا رَحْمَةً فِي الدُّنْيَا تَتَرَاحَمُونَ بِهَا , وَعِنْدَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ رَحْمَةً , فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ضَمَّ هَذِهِ الرَّحْمَةَ إِلَى التِّسْعَةِ وَالتِّسْعِينَ رَحْمَةً , ثُمَّ عَادَ بِهِنَّ عَلَى خَلْقِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سورحمتیں ہیں جن میں سے اللہ نے تمام زمین والوں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ نے اپنے اولیاء کے لئے رکھ چھوڑی ہیں پھر اللہ اس ایک رحمت کو بھی لے کر ان ننانوے رحمتوں کے ساتھ ملا دے گا اور قیامت کے دن اپنے اولیاء پر پوری سو رحمتیں فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10810]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح،م:2752،وھذا إسناد ضعیف من أجل مؤمل، لکنہ متابع