مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
276. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 16069
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالَدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ:" ذَكَرَ طَبِيبٌ الدَّوَاءَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الضُّفْدَعَ تَكُونُ فِي الدَّوَاءِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا".
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی طبیب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دواء کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ اس میں مینڈک کے اجزاء بھی شامل کر یں گے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کو مارنے سے منع کر دیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16069]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , وَهَارُونُ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ". وَقَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ: عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ. قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ.
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجیوں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16070]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1724
277. حَدِيثُ عِلْبَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 16071
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عِلْبَاءَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: إن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى حُثَالَةِ النَّاسِ".
سیدنا علباء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت بےوقعت لوگوں پر قائم ہو گی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16071]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
278. حَدِيثُ هَوْذَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جِدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 16072
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ هَوْذَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِالْإِثْمِدِ الْمُرَوَّحِ عِنْدَ النَّوْمِ".
سیدنا معبد بن انصاری سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوتے وقت اثمد نامی ٹھنڈا سرمہ لگایا کر و۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16072]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عبدالرحمن بن النعمان ضعيف، ووالده النعمان مجهول
279. حَدِيثُ بَشِيرِ بْنِ عَقْرَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 16073
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: حَدَّثَنَاه أَبِي عَنْهُ وَهُوَ حَيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُجْرُ بْنُ الْحَارِثِ الْغَسَّانِيُّ مِنْ أَهْلِ الرَّمْلَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ الْكِنَانِيِّ ، وَكَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الرَّمْلَةِ، أَنَّهُ شَهِدَ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ، قَالَ لِبَشِيرِ بْنِ عَقْرَبَةَ الْجُهَنِيِّ يَوْمَ قُتِلَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ: يَا أَبَا الْيَمَانِ، إِنِّي قَدْ احْتَجْتُ الْيَوْمَ إِلَى كَلَامِكَ، فَقُمْ فَتَكَلَّمْ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ قَامَ بِخُطْبةٍ لَا يَلْتَمِسُ بِهَا إِلَّا رِيَاءً وَسُمْعَةً، أَوْقَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَوْقِفَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ".
عبداللہ بن عوف کنانی جو کہ عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے رملہ کے گورنر تھے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ عبدالملک بن مروان کے پاس موجود تھے کہ عبدالملک نے سیدنا بشیر بن عقربہ جہنی سے جس دن عمر بن سعید بن عاص مقتول ہوئے کہا اے ابویمان آج مجھے آپ کے کلام کرنے کی ضرورت ہے لہذا آپ کھڑے ہو کر کلام کر لیجیے انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دکھاوے اور شہرت کی خاطر تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہواللہ قیامت کے دن اس دکھاوے اور شہرت کے مقام پر روک کر کھڑا کر دے گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16073]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
280. حَدِيثُ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 16074
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ قُتِلَ أَحَدُهُمَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ مَاتَ الْآخَرُ، فَصَلَّوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قُلْتُمْ؟" , قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ أَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ، وَأَيْنَ صِيَامُهُ أَوْ عَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ، مَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ".
سیدنا عبید بن خالد سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان مواخات فرمائی ان میں سے ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پہلے شہید ہو گیا اور کچھ عرصے بعد دوسراطبعی طور پر فوت ہو گیا لوگ اس کے لئے دعا کرنے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کیا دعا کر رہے ہو ہم نے عرض کیا: یہ کہہ رہے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اس پر رحم فرما اور اسے اس کے ساتھی کی رفاقت عطا فرما نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر شہید ہو نے والے کے بعد اس کی پڑھی جانے والی نمازیں کہاں ہیں جو روزے اس نے بعد میں رکھے یا جو اعمال اس نے کئے وہ کہاں ہیں ان دونوں کے درمیان تو زمین و آسمان سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16074]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
281. حَدِيثُ رَجُلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 16075
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَهُ، فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ:" أَمَّا بَعْدُ، يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ تَزِيدُونَ، وَأَصْبَحَتْ الْأَنْصَارُ لَا تَزِيدُ عَلَى هَيْئَتِهَا الَّتِي هِيَ عَلَيْهَا الْيَوْمَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا، فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ".
ایک صحابی سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر مبارک پر پٹی باندھ کر نکلے اور خطبہ میں امابعد کہہ کر فرمایا: اے گروہ مہاجرین تم لوگوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے جبکہ انصار کی آج جو حالت ہے وہ اس سے آگے نہیں بڑھیں گے انصار میرے راز دان ہیں جہاں میں نے ٹھکانہ حاصل کیا اس لئے ان کے شرفاء کا احترام کر و اور ان کی خطاکاروں سے درگزر کیا کر و۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16075]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
282. حَدِيثُ خَادِمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 16076
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ، عَنْ خَادِمٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٍ أَوْ امْرَأَةٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَقُولُ لِلْخَادِمِ:" أَلَكَ حَاجَةٌ؟" , قَالَ: حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَاجَتِي , قَالَ:" وَمَا حَاجَتُكَ؟" , قَالَ: حَاجَتِي أَنْ تَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ , قَالَ:" وَمَنْ دَلَّكَ عَلَى هَذَا؟" , قَالَ: رَبِّي , قَالَ:" إِمَّا لَا فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ".
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم صحابی جن کے مذکر یا مونث ہو نے کی تعین میں راوی کو شک ہے سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر خادم سے پوچھتے رہتے تھے کہ تمہیں کوئی ضرورت اور کام تو نہیں ہے ایک دن اسی طرح میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا ایک کام ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کام ہے میں نے عرض کیا: کہ قیامت کے دن آپ میری سفارش کر دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خیال تمہیں کہاں سے آیا اس نے عرض کیا: اللہ نے دل میں ڈال دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کثرت سے سجود کے ذریعے میری مدد کر و۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16076]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
283. حَدِيثُ وَحْشِيٍّ الْحَبَشِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 16077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ إِلَى الشَّامِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ، قَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ: هَلْ لَكَ فِي وَحْشِيٍّ نَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ , وكان وَحْشِيٌّ يَسْكُنُ حِمْصَ، قَالَ: فَسَأَلْنَا عَنْهُ، فَقِيلَ لَنَا: هُوَ ذَاكَ فِي ظِلِّ قَصْرِهِ كَأَنَّهُ حَمِيتٌ , قَالَ: فَجِئْنَا حَتَّى وَقَفْنَا عَلَيْهِ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْنَا السَّلَامَ، قَالَ: وَعُبَيْدُ اللَّهِ مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَتِهِ مَا يَرَى وَحْشِيٌّ إِلَّا عَيْنَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: يَا وَحْشِيُّ، أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا وَاللَّهِ، إلا أني أعلم أن عدي بن الخيار تزوج امرأة يقال لها: أم قتال ابنة أبي العيص، فولدت له غلاما بمكة، فاسترضعه , فحملت ذلك الغلام مع أمه، فناولتها إياه، فلكأني نظرت إلى قدميك. قَالَ: فَكَشَفَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَجْهَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا تُخْبِرُنَا بِقَتْلِ حَمْزَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّ حَمْزَةَ قَتَلَ طُعَيْمَةَ بْنَ عَدِيٍّ بِبَدْرٍ، فَقَالَ لِي: مَوْلَايَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ: إِنْ قَتَلْتَ حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ , فَلَمَّا خَرَجَ النَّاسُ يَوْمَ عِينِينَ، قَالَ: وَعِينِينُ جُبَيْلٌ تَحْتَ أُحُدٍ، وَبَيْنَهُ وَادٍ خَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ إِلَى الْقِتَالِ، فَلَمَّا أَنْ اصْطَفُّوا لِلْقِتَالِ، قَالَ: خَرَجَ سِبَاعٌ: مَنْ مُبَارِزٌ؟ قَالَ: فَخَرَجَ إِلَيْهِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ: يَا سِبَاعُ، يَا بْنُ أُمِّ أَنْمَارٍ، يَا ابْنَ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ، أَتُحَادُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ , ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ فَكَانَ كَأَمْسِ الذَّاهِبِ، وَأَكْمَنْتُ لِحَمْزَةَ تَحْتَ صَخْرَةٍ، حَتَّى إِذَا مَرَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا أَنْ دَنَا مِنِّي رَمَيْتُهُ، بِحَرْبَتِي فَأَضَعُهَا فِي ثُنَّتِهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ وَرِكَيْهِ. قَالَ: فَكَانَ ذَلِكَ الْعَهْدُ بِهِ , قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ النَّاسُ رَجَعْتُ مَعَهُمْ، قَالَ: فَأَقَمْتُ بِمَكَّةَ حَتَّى فَشَا فِيهَا الْإِسْلَامُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى الطَّائِفِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ لَا يَهِيجُ لِلرُّسُلِ , قَالَ: فَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا رَآنِي , قَالَ:" أَنْتَ وَحْشِيٌّ؟" , قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ:" أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَةَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: قَدْ كَانَ مِنَ الْأَمْرِ مَا بَلَغَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذْ قَالَ:" مَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تُغَيِّبَ عَنِّي وَجْهَكَ" , قَالَ: فَرَجَعْتُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَخْرُجَنَّ إِلَى مُسَيْلِمَةَ لَعَلِّي أَقْتُلُهُ فَأُكَافِئَ بِهِ حَمْزَةَ , قَالَ: فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِمْ مَا كَانَ، قَالَ: فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي ثَلْمَةِ جِدَارٍ كَأَنَّهُ جَمَلٌ أَوْرَقُ، ثَائِرٌ رَأْسُهُ , قَالَ: فَأَرْمِيهِ بِحَرْبَتِي، فَأَضَعُهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ كَتِفَيْهِ، قَالَ: وَوَثَبَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ عَلَى هَامَتِهِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ: فَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقٌولُ: فَقَالَتْ جَارِيَةٌ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ: وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، قَتَلَهُ الْعَبْدُ الْأَسْوَدُ.
جعفر بن امیہ ضمری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عبیداللہ بن عدی کے ساتھ شام کے سفر میں نکلا جب ہم شہر حمص میں پہنچے تو عبیداللہ نے مجھ سے کہا اگر تمہاری مرضی ہو تو چلو وحشی حبشی کے پاس چل کر سیدنا حمزہ کی شہادت کے متعلق پوچھتے ہیں میں نے کہا چلو سیدنا وحشی حمص میں ہی رہتے تھے ہم نے لوگوں سے اس کا پتہ پوچھا: تو ایک شخص نے کہا وہ سامنے اپنے محل کے سایہ میں بیٹھے ہوئے ہیں جیسے پانی سے بھری ہوئی بڑی مشک۔ ہم ان کے پاس گئے اور وہاں پہنچ کر انہیں سلام کیا سیدنا وحشی نے سلام کا جواب دیا عبیداللہ اس وقت چادر میں اس طرح لپٹے ہوئے تھے کہ سوائے آنکھوں اور پاؤں کے جسم کا کوئی حصہ نظر نہ آتا تھا عبیداللہ نے سیدنا وحشی سے پوچھا کہ آپ مجھ کو پہچانتے ہو وحشی نے غور سے دیکھا اور کہنے لگا کہ اللہ کی قسم میں اور تو جانتا نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن خیار نے ام القتال سے نکاح کیا تھا عدی اس عورت سے ایک لڑکا مکہ میں پیدا ہوا میں نے اس لڑکے کے لئے دودھ پلانے والی تلاش کی اور لڑکے کو مال سمیت لے جا کر ان کو دے دیا اب مجھے تمہارے پاؤں دیکھ کر اس لڑکے کا خیال ہوا یہ سن کر عبیداللہ نے اپنا منہ کھول دیا اور کہا سیدنا حمزہ کا واقعہ بیان کیجیے۔ وحشی نے کہا ہاں قصہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں طعیمہ بن عدی کو حمزہ نے قتل کر دیا تھا یہ دیکھ کر میرے آقا جبیر بن مطعم نے کہا اگر تو میرے چچا کے عوض حمزہ کو قتل کر دے گا تو میری طرف سے تو آزاد ہے چنانچہ جب لوگ قریش عینین والے سال نکلے تو میں بھی ان کے ساتھ لڑائی کے لئے چلا صفیں درست ہو نے کے بعد سباع میدان میں نکلا اور آواز دی کیا کوئی مقابلہ پر آسکتا ہے حمزہ بن عبدالمطلب اس کے مقابلے کے لئے نکلے اور کہنے لگے کہ اے سباع عورتوں کے ختنہ کرنے والی کے بیٹے کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے یہ کہہ کر سیدنا حمزہ نے اس پر حملہ کر دیا اور سباع مارا گیا اس دوران میں ایک پتھر کی آڑ میں سیدنا حمزہ کے مارنے کے لئے چھپ گیا تھا جب آپ میرے قریب آئے تو میں نے برچھی ماری جو خصیوں کے مقام پر لگ کر سرین کے پیچھے پار ہو گئی بس یہ برچھی مارنے کا قصہ تھا جس سے سیدنا حمزہ شہید ہو گئے پھر جب سب لوگ لوٹ کر آئے ہیں تو میں بھی ان کے ساتھ لوٹ آیا اور مکہ میں رہنے لگا۔ اور جب مکہ میں اسلام پھیل گیا تو میں مکہ سے نکل کر چلا گیا طائف والوں نے رسول اللہ کی خدمت میں کچھ قاصد بھیجے اور مجھ سے کہا کہ حضور قاصدوں سے کچھ تعرض نہیں کرتے تم ان کے ساتھ چلے جاؤ میں قاصدوں کے ہمراہ چل دیا اور حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ نے فرمایا کہ تو وحشی ہے میں نے عرض کیا: جی ہاں فرمایا: کیا تو نے حمزہ کو شہید کیا تھا میں نے عرض کیا: حضور کو جو خبر پہنچی ہے واقعہ تو یہ ہے کہ فرمایا: کیا تجھ سے ہو سکتا ہے کہ اپنا چہرہ مجھے نہ دکھائے میں وہاں سے چلا آیا۔ حضور کی وفات کے بعد جب مسیلمہ کذاب نے خروج کیا تو میں نے کہا میں مسیلمہ کذاب کا مقابلہ کر وں گا تاکہ اگر میں اس کو قتل کر دوں تو سیدنا حمزہ کی شہادت کا شاید قرض ادا ہو جائے چنانچہ میں لوگوں کے ساتھ نکلا اس درمیان میں مسیلمہ کا جو واقعہ ہو نا تھا وہ ہوا یعنی مسلمانوں کو فتح ہوئی مسیلمہ مارا گیا سیدنا وحشی کہتے ہیں کہ میں نے مسیلمہ کو دیوار کے شگاف میں کھڑا ہوا دیکھا اس وقت مسیلمہ کا رنگ کچھ خاکی معلوم ہوتا تھا اور بالکل پراگندہ تھے میں نے سیدنا حمزہ والی برچھی اس کے ماری جو دونوں شانوں کے بیچ میں لگی اور پار ہو گئی اتنے میں ایک اور انصاری آدمی حملہ آوار ہوا اور اس نے مسیلمہ کے سر پر تلوار ماری اور اسے قتل کر دیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16077]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4072
حدیث نمبر: 16078
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا نَأْكُلُ وَمَا نَشْبَعُ! قَالَ:" فَلَعَلَّكُمْ تَأْكُلُونَ مُفْتَرِقِينَ، اجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِ، يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ".
سیدنا وحشی بن حرب سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: کہ ہم لوگ کھانا تو کھاتے ہیں لیکن سیراب نہیں ہو پاتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو کھانا اکٹھا کھایا کر و اور اللہ کا نام لے کر کھایا کر و اس میں برکت پیدا ہو جائے گی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16078]
الحكم على الحديث:
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، والوليد بن مسلم يدلس تدليس التسوية ، وقد عنعن، ووحشي بن حرب، وأبوه مجهولان