صحيح البخاري سے متعلقہ
17. باب الاعتكاف فى العشر الأوسط من رمضان:
باب: رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کرنا۔
حدیث نمبر: 2044
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَانٍ عَشْرَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا".
ہم سے عبداللہ بن ابی شبیہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے ابوحصین عثمان بن عاصم نے، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان میں دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے۔ لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا، اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2044]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے، مگر جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے بیس دن اعتکاف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2044]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥عثمان بن عاصم الأسدي، أبو الحصين عثمان بن عاصم الأسدي ← أبو صالح السمان | ثقة ثبت سنى | |
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر أبو بكر بن عياش الأسدي ← عثمان بن عاصم الأسدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← أبو بكر بن عياش الأسدي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2044
| يعتكف في كل رمضان عشرة أيام فلما كان العام الذي قبض فيه اعتكف عشرين يوما |
سنن أبي داود |
2466
| يعتكف كل رمضان عشرة أيام فلما كان العام الذي قبض فيه اعتكف عشرين يوما |
سنن ابن ماجه |
1769
| يعتكف كل عام عشرة أيام فلما كان العام الذي قبض فيه اعتكف عشرين يوما يعرض عليه القرآن في كل عام مرة فلما كان العام الذي قبض فيه عرض عليه مرتين |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2044 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2044
حدیث حاشیہ:
ابن بطال نے کہا اس سے یہ نکلتا ہے کہ اعتکاف سنت موکدہ ہے، اور ابن منذر نے ابن شہاب سے نکالا کہ مسلمانوں پر تعجب ہے کہ انہوں نے اعتکاف کرنا چھوڑ دیا، حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب سے مدینہ میں تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات تک اعتکاف تر ک نہیں فرمایا تھا۔
اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف اس لیے کیا کہ آپ کو معلوم ہو گیا تھا کہ اب وفات قریب ہے۔
ابن بطال نے کہا اس سے یہ نکلتا ہے کہ اعتکاف سنت موکدہ ہے، اور ابن منذر نے ابن شہاب سے نکالا کہ مسلمانوں پر تعجب ہے کہ انہوں نے اعتکاف کرنا چھوڑ دیا، حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب سے مدینہ میں تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات تک اعتکاف تر ک نہیں فرمایا تھا۔
اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف اس لیے کیا کہ آپ کو معلوم ہو گیا تھا کہ اب وفات قریب ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2044]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2044
حدیث حاشیہ:
(1)
اعتکاف کے لیے اگرچہ آخری عشرہ افضل ہے کیونکہ اس کی طاق راتوں میں شب قدر ہے لیکن یہ ضروری نہیں، اس سے پہلے بھی اعتکاف کیا جا سکتا ہے۔
آخری سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔
محدثین نے اس کی کئی ایک وجوہات لکھی ہیں:
٭ چونکہ آپ کو وفات کا علم ہو چکا تھا، اس لیے آپ نے امت کو تعلیم دینے کے لیے بیس دن کا اعتکاف کیا تاکہ وہ عمر کے آخری حصے میں عبادات میں زیادہ محنت کریں۔
٭ حضرت جبرئیل ؑ سال میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؑ سے قرآن کریم کا دور کرتے تھے لیکن وفات کے سال دو مرتبہ دور کیا، اس لیے آپ نے بھی اعتکاف کی مدت بڑھا دی۔
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سال سفر کی وجہ سے اعتکاف نہ کر سکے تھے، اس لیے آپ نے اس کی تلافی کے لیے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
٭ بیویوں کے خیمے لگانے کی وجہ سے آپ نے رمضان کا اعتکاف ترک کر دیا تھا اگرچہ ماہ شوال میں اس کی تلافی ہو چکی تھی تاہم اسے مزید پختہ کرنے کے لیے آئندہ سال بیس دن کا اعتکاف کیا۔
یہ بھی احتمال ہے کہ مختلف اسباب کی بنا پر متعدد مرتبہ آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا ہو، یعنی ایک دفعہ سفر کی وجہ سے اور دوسری مرتبہ قرآن کریم کے دور کرنے کی بنا پر ایسا کیا ہو۔
(فتح الباري: 362/4)
لیکن حدیث کے الفاظ تعدد کے متحمل نہیں ہیں۔
واللہ أعلم (2)
معتکف کی مثال اس غلام جیسی ہے جو اپنے آپ کو اپنے آقا کے آگے ڈال دے، پھر کہے کہ میں یہاں سے ہرگز نہیں جاؤں گی حتی کہ وہ مجھے معاف کر دے اور میرے گناہ بخش دے۔
(عمدةالقاري: 289/8)
(1)
اعتکاف کے لیے اگرچہ آخری عشرہ افضل ہے کیونکہ اس کی طاق راتوں میں شب قدر ہے لیکن یہ ضروری نہیں، اس سے پہلے بھی اعتکاف کیا جا سکتا ہے۔
آخری سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔
محدثین نے اس کی کئی ایک وجوہات لکھی ہیں:
٭ چونکہ آپ کو وفات کا علم ہو چکا تھا، اس لیے آپ نے امت کو تعلیم دینے کے لیے بیس دن کا اعتکاف کیا تاکہ وہ عمر کے آخری حصے میں عبادات میں زیادہ محنت کریں۔
٭ حضرت جبرئیل ؑ سال میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؑ سے قرآن کریم کا دور کرتے تھے لیکن وفات کے سال دو مرتبہ دور کیا، اس لیے آپ نے بھی اعتکاف کی مدت بڑھا دی۔
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سال سفر کی وجہ سے اعتکاف نہ کر سکے تھے، اس لیے آپ نے اس کی تلافی کے لیے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
٭ بیویوں کے خیمے لگانے کی وجہ سے آپ نے رمضان کا اعتکاف ترک کر دیا تھا اگرچہ ماہ شوال میں اس کی تلافی ہو چکی تھی تاہم اسے مزید پختہ کرنے کے لیے آئندہ سال بیس دن کا اعتکاف کیا۔
یہ بھی احتمال ہے کہ مختلف اسباب کی بنا پر متعدد مرتبہ آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا ہو، یعنی ایک دفعہ سفر کی وجہ سے اور دوسری مرتبہ قرآن کریم کے دور کرنے کی بنا پر ایسا کیا ہو۔
(فتح الباري: 362/4)
لیکن حدیث کے الفاظ تعدد کے متحمل نہیں ہیں۔
واللہ أعلم (2)
معتکف کی مثال اس غلام جیسی ہے جو اپنے آپ کو اپنے آقا کے آگے ڈال دے، پھر کہے کہ میں یہاں سے ہرگز نہیں جاؤں گی حتی کہ وہ مجھے معاف کر دے اور میرے گناہ بخش دے۔
(عمدةالقاري: 289/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2044]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2466
اعتکاف کس جگہ کرنا چاہئے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے، لیکن جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2466]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے، لیکن جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2466]
فوائد ومسائل:
معلوم ہوا کہ وسط رمضان میں بھی اعتکاف ہو سکتا ہے۔
شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قربِ اجل کا علم ہو گیا تھا اس لیے آپ عبادت میں بہت حریص ہو گئے تھے۔
اس رمضان میں جبرئیل امین علیہ السلام نے بھی آپ کے ساتھ قرآن مجید کا دو بار دَور کیا تھا۔
معلوم ہوا کہ وسط رمضان میں بھی اعتکاف ہو سکتا ہے۔
شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قربِ اجل کا علم ہو گیا تھا اس لیے آپ عبادت میں بہت حریص ہو گئے تھے۔
اس رمضان میں جبرئیل امین علیہ السلام نے بھی آپ کے ساتھ قرآن مجید کا دو بار دَور کیا تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2466]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1769
اعتکاف کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال دس دن کا اعتکاف کرتے تھے، جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا ۱؎ اور ہر سال ایک بار قرآن کا دور آپ سے کرایا جاتا تھا، جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال دو بار آپ سے دور کرایا گیا ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1769]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال دس دن کا اعتکاف کرتے تھے، جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا ۱؎ اور ہر سال ایک بار قرآن کا دور آپ سے کرایا جاتا تھا، جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال دو بار آپ سے دور کرایا گیا ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1769]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل: 01)
قرآن پیش کر نے سے مراد قرآن مجید کا دور کرنا ہے حضرت جبرائیل علیہ السلام ہر سال رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جس قدر قرآن نازل ہو چکا ہوتا تھا اس کا دور کرتےتھے۔ (صحیح البخاري، الصوم، با ب أجود ما کا ن النبی صلی اللہ علیہ وسلم یکون فی رمضان، حدیث: 1902))
(2)
آخری سا ل بیس دن اعتکاف کرنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے آ خری حصے میں عبادت میں زیادہ جانفشانی سے کام لیا اور اعتکاف بھی چونکہ ایک عبادت ہے اس لئے اس میں بھی اضافہ فرمایا اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک عشرہ فتح مکہ کے سا ل کے اعتکا ف کی تلا فی ہو کیو نکہ فتح مکہ کا غزوہ رمضا ن 8ھ میں پیش آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 17/ رمضا ن کو فا تحانہ طو ر پر مکہ میں دا خل ہوئے اور انیس دن مکہ مکرمہ میں قیا م پذیر رہے اس لئے اس سال اعتکاف نہیں ہو سکا چنا نچہ رمضا ن 10/ ھ میں بیس دن اعتکا ف کیا واللہ اعلم۔
فوائد و مسائل: 01)
قرآن پیش کر نے سے مراد قرآن مجید کا دور کرنا ہے حضرت جبرائیل علیہ السلام ہر سال رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جس قدر قرآن نازل ہو چکا ہوتا تھا اس کا دور کرتےتھے۔ (صحیح البخاري، الصوم، با ب أجود ما کا ن النبی صلی اللہ علیہ وسلم یکون فی رمضان، حدیث: 1902))
(2)
آخری سا ل بیس دن اعتکاف کرنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے آ خری حصے میں عبادت میں زیادہ جانفشانی سے کام لیا اور اعتکاف بھی چونکہ ایک عبادت ہے اس لئے اس میں بھی اضافہ فرمایا اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک عشرہ فتح مکہ کے سا ل کے اعتکا ف کی تلا فی ہو کیو نکہ فتح مکہ کا غزوہ رمضا ن 8ھ میں پیش آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 17/ رمضا ن کو فا تحانہ طو ر پر مکہ میں دا خل ہوئے اور انیس دن مکہ مکرمہ میں قیا م پذیر رہے اس لئے اس سال اعتکاف نہیں ہو سکا چنا نچہ رمضا ن 10/ ھ میں بیس دن اعتکا ف کیا واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1769]
Sahih Bukhari Hadith 2044 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي