🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

46. باب مقدم النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه المدينة:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ میں آنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3930
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ، وَقُتِلَتْ سَرَاتُهُمْ فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ".
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بعاث کی لڑائی کو (انصار کے قبائل اوس و خزرج کے درمیان) اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں آنے سے پہلے ہی برپا کرا دیا تھا چنانچہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو انصار میں پھوٹ پڑی ہوئی تھی اور ان کے سردار قتل ہو چکے تھے۔ اس میں اللہ کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ انصار اسلام قبول کر لیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3930]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بعاث کی لڑائی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے ہی برپا کر دیا تھا، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو انصار باہمی اختلاف و انتشار کا شکار تھے اور ان کے سردار قتل ہو چکے تھے، اس میں یہ حکمت تھی کہ انصار اسلام میں داخل ہو جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3930]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥عبيد الله بن سعيد اليشكري، أبو قدامة
Newعبيد الله بن سعيد اليشكري ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة مأمون سنى
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3930
يوم بعاث يوما قدمه الله لرسوله فقدم رسول الله المدينة وقد افترق ملؤهم وقتلت سراتهم في دخولهم في الإسلام
صحيح البخاري
3777
يوم بعاث يوما قدمه الله لرسوله فقدم رسول الله وقد افترق ملؤهم وقتلت سرواتهم وجرحوا فقدمه الله لرسوله في دخولهم في الإسلام
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3930 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3930
حدیث حاشیہ:
کیونکہ غریب لوگ رہ گئے تھے سردار اور امیر مارے جاچکے تھے اگر یہ سب زندہ ہوتے تو شاید غرور کی وجہ سے مسلمان نہ ہوتے اور دوسروں کو بھی اسلام سے روکتے۔
بعاث ایک جگہ کا نام تھا جہاں یہ لڑائی ہوئی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3930]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3930
حدیث حاشیہ:

مدینہ طیبہ میں غریب لوگ باقی رہ گئے تھے سردار اور امیر مارے جا چکے تھے۔
اگر وہ زندہ ہوتے تو شاید تکبر و غرور کی وجہ سے اسلام میں داخل نہ ہوتے۔
اگر اس وقت ان میں انتشار نہ ہوتا تو وہ اپنی ریاست کو باقی رکھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع نہ ہوتے۔

صرف ایک سردار جس کی تاجپوشی ہونے والی تھی اس نے اسلام کو بہت نقصان پہنچایا۔
اہل اسلام کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سےنہ جانے دیا۔
ہماری مراد رئیس المناقفین عبد اللہ بن ابی سے ہے۔
آخر کار خود اپنے بیٹے کے ہاتھوں ذلیل ہوا۔
واللہ المستعان۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3930]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3777
3777. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ اللہ نے بعاث کی جنگ کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مفاد میں پہلے ہی مقرر کر رکھا تھا، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو یہ قبائل آپس میں پھوٹ کا شکار تھے اور ان کے کچھ سردار قتل ہو چکے تھے اور کچھ زخموں سے چور تھے۔ اللہ تعالٰی نے اس جنگ کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مفاد میں پہلے ہی مقرر کیا تھا تاکہ (آپ کے مدینہ تشریف لاتے ہی) یہ لوگ مسلمان ہو جائیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3777]
حدیث حاشیہ:
بعاث یا بغاث مدینہ سے دومیل کے فاصلے پر ایک مقام ہے وہاں انصار کے دوقبیلوں اوس اور خزرج میں بڑی سخت لڑائی ہوئی تھی، اوس کے رئیس حضیرتھے، اسید کے والد اور خزرج کے رئیس عمرو بن نعمان بیاضی تھے، یہ دونوں اس میں مارے گئے تھے، پہلے خزرج کو فتح ہوئی تھی، پھر حضیر نے اوس والوں کو مضبوط کیا تو اوس کی فتح ہوئی یہ حادثہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ ہجرت کے چار پانچ سال پہلے ہوچکا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر یہ قبائل مسلمان ہوگئے اور اخوت اسلامی سے پہلے کے تمام واقعات کو بھول گئے آیت کریمہ ﴿فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا﴾ (آل عمران: 103)
میں اسی طرح اشارہ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3777]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3777
3777. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ اللہ نے بعاث کی جنگ کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مفاد میں پہلے ہی مقرر کر رکھا تھا، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو یہ قبائل آپس میں پھوٹ کا شکار تھے اور ان کے کچھ سردار قتل ہو چکے تھے اور کچھ زخموں سے چور تھے۔ اللہ تعالٰی نے اس جنگ کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مفاد میں پہلے ہی مقرر کیا تھا تاکہ (آپ کے مدینہ تشریف لاتے ہی) یہ لوگ مسلمان ہو جائیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3777]
حدیث حاشیہ:
بعاث۔
مدینہ طیبہ سے دو میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے جہاں اوس اور خزرج کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی تھی، قبیلہ اوس کے رئیس حضرت اسیدؓ کے والد خضیر تھے جبکہ خزرج کے سرادر عمر بن نعمان فیاض تھے۔
یہ دونوں اس جنگ میں مارے گئے۔
پہلے خزرج کو فتح ہوئی، پھر خضیر نے قبیلہ اوس کومضبوط کیا تو ان کا پلہ بھاری رہا۔
یہ لڑائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پانچ سال پہلے ہو چکی تھی۔
اس میں دونوں قبیلوں کے بڑے بڑے سردار مارے گئے تھے۔
اسلام کا ظہور ہواتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی برکت سے یہ لڑائی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی گویا ان کا قتل ہو جانا اشاعت اسلام (اسلام پھیلنے)
کا پیش خیمہ تھا۔
اگر یہ زندہ رہتے تو ان کا اقدام اسلام کے سخت خلاف ہوتا۔
ان سرداروں میں سے ایک عبد اللہ بن ابی تھا جس نے منافقت کا روپ دھارا۔
درج ذیل آیت کریمہ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر فرمائی۔
جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی تو تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے۔
(آل عمران: 103/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3777]

Sahih Bukhari Hadith 3930 in Urdu