🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

13. باب: {ما جعل الله من بحيرة ولا سائبة ولا وصيلة ولا حام} :
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ نے نہ بحیرہ کو مقرر کیا ہے، نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حام کو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4624
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْكَرْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَرَأَيْتُ عَمْرًا يَجُرُّ قُصْبَهُ، وَهْوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ".
مجھ سے محمد بن ابی یعقوب ابوعبداللہ کرمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے حسان بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جہنم کو دیکھا کہ اس کے بعض حصے بعض دوسرے حصوں کو کھائے جا رہے ہیں اور میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں اس میں گھسیٹا پھر رہا تھا۔ یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے سانڈ چھوڑنے کی رسم ایجاد کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4624]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ جہنم کی آگ کا کچھ حصہ دوسرے حصے کو کھا رہا تھا۔ اس دوران میں میں نے عمرو بن خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا۔ اور وہ پہلا شخص تھا جس نے سب سے پہلے دیوتاؤں کے نام اونٹنیاں چھوڑنے کی رسم ایجاد کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4624]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥حسان بن إبراهيم العنزي، أبو هشام
Newحسان بن إبراهيم العنزي ← يونس بن يزيد الأيلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن أبي يعقوب الكرماني
Newمحمد بن أبي يعقوب الكرماني ← حسان بن إبراهيم العنزي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4624
رأيت جهنم يحطم بعضها بعضا ورأيت عمرا يجر قصبه وهو أول من سيب السوائب
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4624 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4624
حدیث حاشیہ:

عمرو بن خزاعی کے متعلق علامہ عینی ؒ لکھتے ہیں کہ اس کا نام عمرو بن لحی بن قمعہ ہے قبیلہ خزاعہ کے سرداروں سے تھا۔
یہ ان لوگوں سے تھا جو جرہم کےبعد بیت اللہ کے متولی ہوئے تھے۔
یہ پہلا شخص ہے جس نے حضرت ابراہیم ؑ کے دین کو بدلا اور بتوں کو حجاز میں داخل کیا نیز اس نے چرواہوں کو بتوں کی عبادت کرنے پر ابھارا اور جاہلیت کی رسومات کو ان میں رواج دیا۔
(عمدة القاري: 589/12)

بہر حال اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو اس طرح مشروع نہیں کیا تھا بلکہ اس نے ہر قسم کی نذر ونیاز اپنے لیے مخصوص کی ہے بتوں کے لیے نذر و نیاز کے یہ طریقے مشرکین نے ایجاد کیے۔
بتوں اور معبودان باطلہ کے نام پر جانور چھوڑنے اور ان کے لیے نذر و نیاز پیش کرنے کا یہ سلسلہ آج بھی مشرکین بلکہ نام نہاد مسلمانوں میں جاری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اس کی کوئی سند نہیں اتاری۔
یہ سب جاہلوں کا طور طریقہ ہے جو ہمارے معاشرے میں رائج ہو چکا ہے۔
أعاذنا اللہ منه۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4624]

Sahih Bukhari Hadith 4624 in Urdu