صحيح البخاري سے متعلقہ
6. باب قوله: {بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر} :
باب: آیت کی تفسیر ”بلکہ ان کا اصل وعدہ تو قیامت کے دن کا ہے اور قیامت بڑی سخت اور تلخ ترین چیز ہے“۔
حدیث نمبر: Q4876
يَعْنِي مِنَ الْمَرَارَةِ.
«أمر»، «مرارة» سے ہے۔ جس کے معنی تلخی کے ہیں یعنی قیامت کا دن بہت تلخ ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4876]
حدیث نمبر: 4876
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكٍ، قَالَ: إِنِّي عِنْدَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ:" لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، وَإِنِّي لَجَارِيَةٌ أَلْعَبُ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ سورة القمر آية 46".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے یوسف بن ماہک نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ نے فرمایا کہ جس وقت آیت «بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر» ”لیکن ان کا اصل وعدہ تو قیامت کے دن کا ہے اور قیامت بڑی سخت اور تلخ چیز ہے“ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ میں نازل ہوئی تو میں بچی تھی اور کھیلا کرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4876]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جس وقت یہ آیت ﴿بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ﴾ [سورة القمر: 46] ”بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے اور قیامت بہت بڑی آفت اور انتہائی تلخ چیز ہے۔“ نازل ہوئی تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تھے جبکہ میں اس وقت بچی تھی اور کھیلا کرتی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4876]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4876
| أنزل على محمد بمكة وإني لجارية ألعب بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر |
Sahih Bukhari Hadith 4876 in Urdu
يوسف بن ماهك الفارسي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق