🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

24. باب النوم قبل العشاء لمن غلب:
باب: اگر نیند کا غلبہ ہو جائے تو عشاء سے پہلے بھی سونا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 570
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ يَعْنِي، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً فَأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يُبَالِي أَقَدَّمَهَا أَمْ أَخَّرَهَا، إِذَا كَانَ لَا يَخْشَى أَنْ يَغْلِبَهُ النَّوْمُ عَنْ وَقْتِهَا، وَكَانَ يَرْقُدُ قَبْلَهَا"، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ:
ہم سے محمود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات کسی کام میں مشغول ہو گئے اور بہت دیر کی۔ ہم (نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوئے) مسجد ہی میں سو گئے، پھر ہم بیدار ہوئے، پھر ہم سو گئے، پھر ہم بیدار ہوئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ دنیا کا کوئی شخص بھی تمہارے سوا اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔ اگر نیند کا غلبہ نہ ہوتا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما عشاء کو پہلے پڑھنے یا بعد میں پڑھنے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ کبھی نماز عشاء سے پہلے آپ سو بھی لیتے تھے۔ ابن جریج نے کہا میں نے عطاء سے معلوم کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 570]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات عشاء کی نماز کے وقت کوئی ضرورت پیش آ گئی تو آپ نے نماز کو مؤخر کر دیا یہاں تک کہ ہم لوگ مسجد میں سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے۔ بعد ازاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: اہل زمین میں کوئی تمہارے علاوہ اس نماز کا انتظار نہیں کر رہا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کی پروا نہیں کرتے تھے کہ عشاء کی نماز جلدی پڑھیں یا دیر سے ادا کریں جب انہیں یقین ہوتا کہ نیند سے مغلوب نہیں ہوں گے، اور وہ نماز سے پہلے سو جاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 570]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمدثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← ابن جريج المكي
صحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
570
ليس أحد من أهل الأرض ينتظر الصلاة غيركم
Sahih Bukhari Hadith 570 in Urdu