🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

53. باب ما جاء فى البناء:
باب: عمارت بنانا کیسا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6302
قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: إِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مویشی چرانے والے لوگ کوٹھیوں میں اکڑنے لگیں گے یعنی بلند کوٹھیاں بنوا کر فخر کرنے لگیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: Q6302]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6302
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" رَأَيْتُنِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنَيْتُ بِيَدِي بَيْتًا يُكِنُّنِي مِنَ الْمَطَرِ، وَيُظِلُّنِي مِنَ الشَّمْسِ مَا أَعَانَنِي عَلَيْهِ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق نے بیان کیا وہ سعید کے بیٹے ہیں، ان سے سعید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنے ہاتھوں سے ایک گھر بنایا تاکہ بارش سے حفاظت رہے اور دھوپ سے سایہ حاصل ہو اللہ کی مخلوق میں سے کسی نے اس کام میں میری مدد نہیں کی۔ معلوم ہوا کہ ضرورت کے لائق گھر بنانا درست ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6302]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے خود کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا کہ میں نے (آپ کے زمانہ مبارک میں) اپنے ہاتھوں سے ایک گھر بنایا جو مجھے بارش سے محفوظ رکھتا اور دھوپ میں سایہ فراہم کرتا تھا، اللہ کی مخلوق میں سے کسی نے اس کام میں میری مدد نہیں کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6302]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سعيد بن عمرو الأموي، أبو عثمان، أبو عنبسة
Newسعيد بن عمرو الأموي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥إسحاق بن سعيد القرشي
Newإسحاق بن سعيد القرشي ← سعيد بن عمرو الأموي
ثقة
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← إسحاق بن سعيد القرشي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6302 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6302
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا مقصود، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اپنی تنگدستی کا اظہار ہے کہ میں نے بقدر ضرورت اپنی کٹیا تعمیر کی تھی، اس کے بعد تباہ حال اور تنگ دست وفقیر، مال دار بن گئے اور ضرورت کے بغیر مکانات تعمیر کرنے میں دلچسپی لینے لگے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"عمارت اپنے بنانے والے کے لیے وبال جان ہوگی مگرو وہ عمارت جس کے بغیر چارۂ کار نہ ہو۔
" (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5237) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
جن احادیث میں تعمیرات کی مذمت بیان ہوئی ہے ان سے مراد ایسی عمارات ہیں جو بلا ضرورت، محض نمائش اور اظہار فخر کے لیے بنائی گئی ہوں لیکن جو عمارتیں رہائش اور گرمی سردی سے بچاؤ کے لیے ہیں وہ قطعاً مراد نہیں کیونکہ یہ انسانی ضرورت کے لیے ہوتی ہیں۔
(فتح الباري: 111/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6302]

Sahih Bukhari Hadith 6302 in Urdu