🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

53. باب ما جاء فى البناء:
باب: عمارت بنانا کیسا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6303
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو، قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُ لَبِنَةً عَلَى لَبِنَةٍ، وَلَا غَرَسْتُ نَخْلَةً مُنْذُ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ سُفْيَانُ: فَذَكَرْتُهُ لِبَعْضِ أَهْلِهِ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ بَنَى، قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ: فَلَعَلَّهُ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوسفیان ثوری نے، ان سے عمرو بن نشار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نہ میں نے کوئی اینٹ کسی اینٹ پر رکھی اور نہ کوئی باغ لگایا۔ سفیان نے بیان کیا کہ جب میں نے اس کا ذکر ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بعض گھرانوں کے سامنے کیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم انہوں نے گھر بنایا تھا۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے کہا پھر یہ بات ابن عمر رضی اللہ عنہما نے گھر بنانے سے پہلے کہی ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6303]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کوئی اینٹ کسی اینٹ پر نہیں رکھی اور نہ کوئی باغ ہی لگایا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: میں نے ان کی یہ بات ان کے اہل خانہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! انہوں نے گھر بنایا تھا۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: پھر انہوں نے یہ بات گھر بنانے سے پہلے کہی ہوگی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6303]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6303 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6303
حدیث حاشیہ:
حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی پیش کردہ تطبیق بالکل مناسب ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ بات گھر بنانے سے پہلے کی فرمودہ ہے بعد میں انہوں نے گھر بنایا جیسا کہ خود ان کے گھر والوں کا بیان ہے۔
ضرورت سے زیادہ مکان بنانا وبال جان ہے جیسا کہ آج کل لوگوں نے عمارات مشید ہ بنابنا کر کھڑی کر دی ہیں۔
باغ لگانا افادہ کے لئے بہتر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6303]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6303
حدیث حاشیہ:
(1)
ہر قسم کی تعمیر اور باغبانی قابل مذمت نہیں بلکہ حدیث میں ایسی فضول تعمیرات کا باعث وبال ہونا بیان کیا گیا ہے جو ضرورت کے علاوہ محض فخروریا کے لیے ہوں جیسا کہ آج کل لوگوں نے بڑی بڑی اور اونچی اونچی عمارتیں تعمیر کر رکھی ہیں۔
باغات کا بھی یہی حال ہے، البتہ وہ عمارتیں یا باغ جو کسی فائدے کے لیے ہو وہ باعث اجرو ثواب ہوگا۔
(2)
واضح رہے کہ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ کی بیان کردہ تطبیق وتوجیہ بالکل مناسب معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماکی مذکورہ بات گھر بنانے سے پہلے کی ہے، بعد میں انھوں نے اپنا گھر بنایا جیسا کہ خود ان کے اہل خانہ کا بیان ہے۔
واللہ أعلم و علمه أتم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6303]

Sahih Bukhari Hadith 6303 in Urdu