صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب متى يحل المعتمر:
باب: عمرہ کرنے والا احرام سے کب نکلتا ہے؟
حدیث نمبر: 1793
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَجُلٍ طَافَ بِالْبَيْتِ فِي عُمْرَةٍ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ؟ , فَقَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے کہا کہ ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو عمرہ کے لیے بیت اللہ کا طواف تو کرتا ہے لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کرتا، کیا وہ (صرف بیت اللہ کے طواف کے بعد) اپنی بیوی سے ہمبستر ہو سکتا ہے؟ انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ) تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا سات چکروں کے ساتھ طواف کیا، پھر مقام ابراہیم علیہ السلام کے قریب دو رکعت نماز پڑھی، اس کے بعد صفا اور مروہ کی سات مرتبہ سعی کی ”اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1793]
حضرت عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اگر کوئی عمرہ کرتے وقت بیت اللہ کا طواف مکمل کرے اور صفا و مروہ کے درمیان سعی نہ کرے تو کیا اپنی بیوی کے پاس جا سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تشریف لائے، کعبہ کے سات چکر لگائے اور مقامِ ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں، اس کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے اور تمہارے لیے ﴿لَقَدْ كَانَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی میں بہترین نمونہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1793]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد عمرو بن دينار الجمحي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥الحميدي عبد الله بن الزبير، أبو بكر الحميدي عبد الله بن الزبير ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة حافظ أجل أصحاب ابن عيينة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1793 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1793
حدیث حاشیہ:
فائدہ:
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ عمرہ کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد صفا اور مروہ کی سعی کرے، پھر اپنی حجامت بنا کر احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو گا، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے عمرے کی کیفیت بیان کر کے سائل کو جواب دیا جبکہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا:
جب تک صفا اور مروہ کی سعی نہ کرے وہ اپنی بیوی کے پاس نہیں جا سکتا۔
فائدہ:
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ عمرہ کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد صفا اور مروہ کی سعی کرے، پھر اپنی حجامت بنا کر احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو گا، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے عمرے کی کیفیت بیان کر کے سائل کو جواب دیا جبکہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا:
جب تک صفا اور مروہ کی سعی نہ کرے وہ اپنی بیوی کے پاس نہیں جا سکتا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1793]
Sahih Bukhari Hadith 1793 in Urdu
عمرو بن دينار الجمحي ← عبد الله بن عمر العدوي